افغانستان، قرآن کی بے حرمتی پر پرتشدد احتجاج

پرامن مظاہرین اچانک مشتعل ہو گئے اور انہوں نے اقوام متحدہ کی عمارت پر حملہ کر دیا: اہلکار

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپرامن مظاہرین اچانک مشتعل ہو گئے اور انہوں نے اقوام متحدہ کی عمارت پر حملہ کر دیا: اہلکار

افغانستان میں امریکی پادریوں کے قرآن جلانے کےخلاف احتجاجی لہر اب ملک کے مشرقی علاقوں میں پھیل گئی ہے اور اتوار کے روز قندھار اور جلال آباد میں سینکڑوں لوگوں نےمظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے افغانستان میں امریکی افواج اور امریکی صدر براک اوباما کے خلاف نعرے لگائے۔

امریکہ میں بیس مارچ کو قرآن جلائے جانے کے واقعے کے بعد افغانستان میں ہونے والے مظاہروں میں اب تک اقوام متحدہ کے سات اہلکاروں سمیت چھبیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اتوار کے روز طالبان کے گڑھ قندھار میں سینکڑوں مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ کیا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق قرآن کے جلائے جانے کے خلاف ہونے والے مظاہرے جلال آباد تک پہنچ گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق قندھار میں ہونے والے مظاہرے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور بیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

موقعہ پر موجود اے پی کے فوٹو گرافر کے مطابق مظاہرین امریکی فوجیوں کو افغانستان چھوڑنے کے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے صدر اوباما کا پتلا بھی جلایا۔

ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرآن کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت کرے اور کانگریس اس بات کو یقینی بنائے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے سٹیفن ڈی مستورا نے امریکی پادری کو جمعہ کے روز ہونے والے پرتشدد مظاہرے کا ذمہ دار قرار دیا۔

’میں نے نہیں سمجھتا کہ ہمیں کسی افغان کو مورد الزام ٹہرانا چاہیے۔ ہمیں اس شخص کو مورد الزام ٹہرانا چاہیے جو اس خبر کا محرک ہے اور جس نے قرآن کو آگ لگائی۔ آزادی اظہار کا ہرگز مطلب دوسرے مذہب ، تہذیب اور روایت کو پامال کرنا ہے۔‘

اقوام متحدہ نے مزار شریف میں اقوام متحدہ کے بقیہ گیارہ اہلکاروں کو وقتی طور پر کابل منتقل کر دیا گیا ہے لیکن اقوام متحدہ افغانستان سے اپنے مشن کو ختم نہیں کرے گا۔

سنیچر کے روز صدر اوباما نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے تعریت کی ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ قرآن سمیت کسی بھی مقدس کتاب کو جلانا عدم برداشت اور کٹر پن کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا ایسے کٹر پن کے جواب میں معصوم افراد پر حملہ انسانی وقار اور شائستہ اخلاق کے منافی ہے۔

امریکی پادریوں ٹیری جونز اور وائن سیپ نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے دفتر پر ہونے والے حملے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ بیس مارچ کو پادری وائین سیپ نے قرآن کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اس کو مٹی کے تیل میں بھگو کر آگ لگا دی تھی۔ قرآن کو آگ لگانے کا سارا عمل پادری ٹیری جونز کی نگرانی میں ہوا۔

قندھار اور مزار شریف میں حکام نے طالبان کو پرتشدد واقعات کا ذمہ دار ٹہرایا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملے کو شرمناک اور بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے۔