مبارک کے اثاثے منجمد کرنے کی درخواست

مصر کے چیف پراسیکیوٹر نے وزارتِ خارجہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک کے سابق صدر حسنی مبارک کے اثاثے منجمد کرانے کے لیے اقدامات کرے۔
بیاسی برس کے حسنی مبارک تیس برس سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہے اور دس روز پہلے ہی ملک گیر احتجاج کے بعد اقتدار سے الگ ہوئے۔
<link type="page"><caption> حسنی مبارک کی زندگی تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/02/110211_mubarak_life_pics_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
پراسیکیوٹر جنرل عبدالماجد محمود نے وزیرِ خارجہ سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر دیگر ملکوں سے بھی رابطے کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے اثاثے منجمد ہو گئے تو اس حکم کا اطلاق ان کی اہلیہ، دو بیٹوں اور دو بہوؤں پر بھی ہو گا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ صدر حسنی مبارک نے اپنے تیس سالہ دو اقتدار میں کافی دولت اکٹھی کی۔
بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرین اور اینٹی کرپشن کارکن مصری حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ مبارک خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تحقیقات شروع کرے جن کی مالیت ایک ارب ڈالر سے ستر ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
تاہم پیر کے روز صدر حسنی مبارک کے قانونی مشیر نے ان خبروں کی تردید کی کہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران سابق صدر نے دولت اکٹھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصری خبر رساں ادارے مِنا نے صدر مبارک کے قانونی مشیر کے حوالے سے کہا ہے کہ سابق صدر نے قانون کے مطابق اپنے مالی گوشوارے متعلقہ اداروں میں جمع کرا رکھے ہیں۔







