قیدیوں پر تجربات کی تحقیقات

ساٹھ سال بعد اس میڈیکل سکول کی ایک نرس نے تجربے کرنے کی تفصیلات بتائیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنساٹھ سال بعد اس میڈیکل سکول کی ایک نرس نے تجربے کرنے کی تفصیلات بتائیں

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں واقع سابق میڈیکل سکول میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران انسانوں پر تجربے ہونے کی اطلاعات پر کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اس میڈیکل سکول کا تعلق جاپان کی امپیریئل فوج سے بتایا جاتا ہے جس نے قیدیوں پر حیاتیاتی تجربے کیے کیے۔

جاپان کی حکومت نے اب تک باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ اس نے جنگ کے دوران قیدیوں پر تشدد کیا۔

جاپان حکومت نے کھدائی کا حکم اس وقت دیا جب ساٹھ سال بعد اس میڈیکل سکول کی ایک نرس نے تجربے کرنے کی تفصیلات بتائیں۔

یہ نرس جو اب 88 سال کی ہیں کا کہنا ہے کہ ان کو سینکڑوں مُردوں کو دفنانے کا حکم دیا گیا تھا جب جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں ہتھیار ڈال دیے۔

ان مُردوں کو امریکی فوج کے پہنچنے سے قبل دفنانا تھا۔

اس جگہ پر جاپانی امپیریئل فوجی یونٹ 731 کا ہیڈ کوارٹر تھا۔

تاریخ دان اور عینی شاہدین کے مطابق ہزاروں شمالی چین سے پکڑے گئے قیدیوں پر تجربے کیے گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ چند قیدیوں کو مرض کے انجکشن لگائے گئے اور پھر ان کو بغیر بے ہوش کیے ان کا آپریشن کیا گیا۔

اس جگہ کے قریب ہی سے 1989 میں انسانی ہڈیاں برآمد ہوئی تھیں اور کئی ہڈیوں پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔

چین کے کئی خاندانوں نے ڈی این اے کرانے کی درخواست دی تھیں کیونکہ ان کے رشتہ داروں کو جاپان نے قیدی بنایا تھا۔ لیکن جاپان کی حکومت نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی تھی۔