ہالینڈ کی شہری کو ایران میں پھانسی

زھرا بھرامی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنزھرا بھرامی نے دو ہزار نو میں ہونے والے متنازعہ صدارتی انتخابات میں حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی تھی

ایران نے مبینہ طور پر منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں ایرانی نژاد ڈچ شہری کو پھانسی دے دی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق چھیالیس سالہ زھرا بھرامی کو سنیچر کی صبح منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔

ایرانی حکومت کے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے ہالینڈ نے ایران کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔

ہالینڈ کی وزارت خارجہ نے زھرا بھرامی کی پھانسی پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ’درندہ صفت حکومت کے اس اقدام سے اسے بہت صدمہ‘ ہوا ہے۔

بھرامی کے خاندان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے ان پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا تھا کیونکہ 2009 میں ایران میں ہونے والے متنازعہ صدراتی انتخابات کے موقع پر زھرہ بھرامی نے ایرانی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تھا جس کے بعد انہں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں ایرانی حکام نے ان پر منیشات فروشی کا الزام عائد کیا۔

ہالینڈ کی حکومت نے ایرانی نژاد ڈچ شہریوں کو ایران کے سفر سے منع کیا ہے۔

ہالینڈ کا کہنا ہے کہ برسلز میں اس ہفتے کے آخر میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وہ زھرا بھرامی کا مسئلہ اٹھائےگا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق زھرا بھرامی کی پھانسی کے بعد اس سال ایران میں پھانسی کی سزا پانے والے افراد کی تعداد 66 ہو گئی ہے۔