انگریزی زبان کے استعمال پر پابندی

چین نے ملکی ذرائع ابلاغ میں غیر ملکی زبان خصوصاً انگریزی زبان کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پابندی میں اخبارات، ویب سائٹ، اور اشاعت کے دوسرے ادارے شامل ہیں۔

چین کے سرکاری پریس اور اشاعتی ادارے نے کہا ہے کہ غیر ملکی الفاظ کی ملاوٹ چینی زبان کے خالص پن کو آلودہ کرتی ہے۔

چینی ایک قدیم زبان ہے جس کی طویل اور بھر پور تاریخ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی الفاظ کا استعمال ایک درست اور معیاری طریقہ ہے، پریس اور دوسرے اشاعتی اداروں کو غیر ملکی زبانوں کے مختصر الفاظ اور ’ چینگلش‘ سے پریز کرنا چاہیے۔ چینگلش انگریزی اور چینی زبان ملا کر بنائی گئی ہے۔

اس حکم کا اطلاق ریڈیو اور ٹیلی وثرن پر بھی ہوگا، جہاں انگریزی زبان کی بھر مار ہوتی ہے۔

سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کہیں غیر ملکی زبان کا استعمال کرنا بہت ہی ضروری ہو تو چینی زبان میں اُس کی وضاحت کی جائے۔

چین میں پریس اور پیبلیکیشنز کے انتظامی ادارے کا کہنا ہے کہ جس سطح پر ملک میں معاشی اور سماجی تبدیلیاں آرہی ہیں، غیر ملکی زبانوں کا استعمال ہر شعبے میں بڑھ رہا ہے۔

چین کے ایک روزنامے ’پیپلز ڈیلی‘ نے لکھا ہے کہ دوسرے زبانوں کے الفاظ کی ملاوٹ سے چینی زبان بری طرح متاثر ہورہی ہے، جس کے ملکی ثقافت پر بھی منفی اثرات مر تب ہو رہے ہیں اور سماجی مضمرات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چین میں نوجوان نسل میں نہ صرف انگریزی زبان کے الفاظ کا استعمال بڑھ رہا ہے بلکہ نوجوان اپنے چینی ناموں کے بجائے ایک دوسرے کو انگریزی ناموں سے پکارنا پسند کرتے ہیں۔

دونوں زبانیں جاننے والے چینی افراد انگریزی بولنا پسند کرتے ہیں۔