’انخلاء کے لیے امید افزا اشارے ملے ہیں‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں اس وقت دس ہزار برطانوی فوج ہے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانوی فوج افغانستان سے اپنی واپسی آئندہ برس سے شروع کر سکتی ہے۔

یہ بات برطانوی وزیراعظم نے افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد کہی جہاں انہوں نے زمینی حالات کا جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان پولیس اور فوج کی تربیت اور طالبان کے خلاف پیش رفت نے ان میں برطانوی فوج کے انخلاء کی امید پیدا کی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا ’جس چیز کی ضرورت ہے ہمیں اسے زمینی سطح پر کرنا ہوگا۔ لیکن طالبان کے خلاف کامیابی اور افغان فوج اور پولیس کی تربیت کو دیکھتے ہوئے امید بڑھی ہے کہ انخلا کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔‘

’میں ابھی افغان پولیس افسروں کو تردیت دیتے دیکھ کر آیا ہوں اور برطانیہ کی طرف سے جو اکیڈمی چلائی جارہی ہے اس سے آٹھ ہفتوں میں تقریباً پانچ سو افراد تربیت پاکر نکل رہے ہیں۔یہ سب امید افزا اشارے ہیں۔‘

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم نے ارکان پارلیمان سے وعدہ کیا تھا کہ دو ہزار پندرہ تک فوجی آپریشن میں حصہ لینے والے برطانوی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

بی بی سی کے ڈپٹی ایڈیٹر جیمز لینڈیل، جو برطانوی وزیراعظم کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ اب کرسمس سے پہلے افغانستان کا دورہ کرنا ایک روایت سی ہوگئی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون بھی اپنے پیش رو کی طرح افغانستان میں برطانوی فوج کی کارکردگی کے لیے اس کا شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔

انہوں نے برطانوی فوج کے اہم اڈے کیمپ بیسچیئن میں رات گزاری اور طالبان سے مقابلہ کرنے کے لیے فوجیوں سے مزید ڈرون اور بکتر بند گاڑیاں مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اس قدر پراعتماد تھے کہ انہوں نے یہ کہہ دیا کہ کچھ برطانوی فوجی آئندہ برس سے واپس ہونا شروع ہو جائیں گے۔

نامہ نگار کے مطابق فوج میں اس نظریے سے سبھی لوگوں کودلچسپی نہیں تھی لیکن برطانوی وزیراعظم اپنے اس وعدے پر قائم ہیں کہ دو ہزار پندرہ تک انہیں سبھی آپریشن میں ملوث سبھی فوجیوں کو واپس بلانا ہے۔

افغانستان میں اس وقت برطانیہ کے دس ہزار فوجی تعینات ہیں۔