شنگھائی میں آتشزدگی، ترّپن ہلاک

آگ بجھانے کی کارروائی میں اسّی فائر انجن شریک تھے
،تصویر کا کیپشنآگ بجھانے کی کارروائی میں اسّی فائر انجن شریک تھے

چینی حکام کا کہنا ہے کہ شنگھائی کی ایک بلند عمارت میں پیر کو ہونے والی آتشزدگی کی وجہ غیر قانونی ویلڈنگ تھی۔ اس آتشزدگی میں ترپّن افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا کے مطابق آگ پیر کی دوپہر ایک اٹھائیس منزلہ عمارت میں لگی تھی اور اس سے ستّر سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

چینی ٹی وی کے مطابق جب عمارت میں آگ لگی اس وقت اس کی تزئین و آرائش کا کام جاری تھا اور تصویروں میں لوگوں کو عمارت کے ساتھ لگائے گئے تعمیراتی ڈھانچے کو پکڑے لٹکتے ہوئے دکھایا گیا۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں آگ غیر قانونی ویلڈنگ کی وجہ سے بھڑکی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے بانس سے بنے تعمیراتی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حکام کے مطابق اس سلسلے میں چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آگ بجھانے کی کارروائی میں اسّی فائر انجن شریک تھے اور کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا جا سکا۔

امدادی کارکن آگ بجھائے جانے کے بعد ملبے میں سے لاشوں اور زندہ بچ جانے والے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق جب آگ لگی تو بہت سے لوگ عمارت کے اوپری حصے میں موجود تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق متاثرہ عمارت میں متعدد ریٹائرڈ اساتذہ اور میونسپلٹی کے حکام اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھے اور یہاں کل ایک سو چھپن خاندان رہ رہے تھے۔

شنگھائی چین کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے اور یہاں کی آبادی دو کروڑ کے لگ بھگ ہے۔