افغانستان:افیون کی پیداوار میں کمی

افغانستان میں پوست کی زیادہ تر کاشت جنوبی اور مغربی صوبوں میں ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں پوست کی زیادہ تر کاشت جنوبی اور مغربی صوبوں میں ہوتی ہے

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ ایک برس کے دوران افیون کی پیداوار قریباً نصف رہ گئی ہے۔

تنظیم کے دفتر برائے منشیات و جرائم کا کہنا ہے اس کمی کی بڑی وجہ فصل کو لگنے والی بیماری ہے۔

تاہم ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ افیون کی پیداوار میں آنے والی یہ کمی ختم ہو سکتی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمت مزید کسانوں کو یہ فصل کاشت کرنے پر راغب کر سکتی ہے۔

افغانستان میں دنیا بھر کی افیون کا نوے فیصد پیدا ہوتا ہے جو کہ ہیروئن کا اہم جزو ہے۔

دفتر برائے منشیات و جرائم کے افغان افیون سروے 2010 کے مطابق اس برس سنہ 2003 کے بعد افیون کی پیداوار سب سے کم یعنی تین ہزار چھ سو ٹن رہی جو کہ گزشتہ برس کے چھ ہزار نو سو ٹن کے مقابلے میں اڑتالیس فیصد کم ہے۔

ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوری فیدوتوو کا کہنا ہے کہ ’یہ اچھی خبر ہے لیکن خوش فہمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جس رقبے پر پوست کاشت ہو رہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور افیون کی تباہ کاری سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی درکار ہے۔

افغانستان میں پوست کی زیادہ تر کاشت جنوبی اور مغربی صوبوں میں ہوتی ہے اور گزشتہ برس افغانستان میں کاشت شدہ پوست کی فصل کا ساٹھ فیصد صرف صوبہ ہلمند میں کاشت کیا گیا تھا۔