قرآن جلانے کے تنازعے پرافغانستان میں مظاہرے

قر آن جلانے کے منصوبے کے خلاف افغانستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے
،تصویر کا کیپشنقر آن جلانے کے منصوبے کے خلاف افغانستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے

افغانستان بھر میں ہزاروں افراد نے فلوریڈا میں قرآن جلانے کے منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے جو ایک موقع پر مشتعل ہوگئے۔ ادھر امریکی ریاست فلوریڈا کے پادری ٹیری جونز نے اعلان کیا ہے کہ صدر اوباما کی اپیل کے بعد وہ گیارہ ستمبر کو قرآن کے نسخے نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ ترک کر رہے ہیں۔

افغانستان کے زیادہ تر صوبوں میں مظاہرے نماز عید کے بعد مساجد سے باہر آنے پر کیے گئے۔ جبکہ شمال مشرق میں نیٹو کے ایک اڈے کے سامنے مظاہرین کے مشتعل ہوجانے کے بعد فائرنگ میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ شرکا نے امریکی پرچم جلا ئے اور مردہ باد کے نعرے لگائے۔

فلوریڈا کے پادری کے منصوبے پر مسلم رہنماؤں کی جانب غم و غصے اور مذمتی بیانات جاری کیے جارہے ہیں۔

صدر حامد کرزئی نے کہا کہ پادری کا یہ اعلان اسلام کی توہین ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ قر آن جلانے سے اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا کیونکہ یہ دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں میں بستا ہے۔

پاکستان کے شہر ملتان میں بھی مظاہرے ہوئے
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے شہر ملتان میں بھی مظاہرے ہوئے

انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بانگ بانگ نے امریکی پادری کے منصوبے کو دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

واضح رہے کہ رات گئے پادری ٹیری جونز نے ایک نیوز کانفرنس میں نے اعلان کیا کہ نیویارک شہر کے امام نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے نزدیک اسلامی ثقافتی سینٹر تعمیر کہیں اور کرنے پر متفق ہوگئے ہیں لہذا اب اب قرآن کے نسخے جلانے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔تاہم اسلامی ثقافتی سینٹر تعمیر کرنے والوں نے تردید کی ہے کہ وہ مرکز کو کہیں اور تعمیر کر رہے ہیں۔

پادری ٹیری جونز کے اس اعلان سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ قرآن کو نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ نہ صرف امریکی اقدار کے خلاف ہے بلکہ اس سے عراق اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

براک اوباما امریکی فوج کے کمانڈر ان چیف ہیں اور ان سے قبل یہی بات افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے کہی تھی جسے امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کی طرف سے بھی تائید ملی تھی۔ جمعرات کو امریکی وزیرِ دفاع نے بھی ٹیری جونز سے رابطہ کیا اور انھیں اپنے منصوبے سے باز رہنے کے لیے کہا۔

ٹیری جونز کے قرآن نذرِ آتش کرنے کے منصوبے پر دنیا بھی میں ان کی مذمت کی جا رہی تھی اور ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے باز رہیں۔ اس منصوبے کے خلاف پاکستان، انڈونیشیا اور افغانستان میں مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ خود امریکہ میں بے شمار لوگوں نے ٹیری جونز کے منصوبے کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا۔

امریکہ نے مسلم دنیا میں بڑھتے ہوئے احتجاج اور غم و غصے کے پیشِ نظر دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو دورانِ سفر احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

شمالی امریکہ کے لیے میں بی بی سی کے ایڈیٹر مارک مارماڈیل کے مطابق پادری ٹیری جونز نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ انھوں نے قرآن جلانے کا اعلان اس لیے کیا تھا کہ اسلام میں ریڈیکل عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے احتجاج کی ایک وجہ نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب اسلامی ثقافتی سینٹر کا قیام تھا۔

ٹیری جونز کے قرآن نذرِ آتش کرنے کے منصوبے پر دنیا بھی میں ان کی مذمت کی جا رہی تھی اور ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے باز رہیں
،تصویر کا کیپشنٹیری جونز کے قرآن نذرِ آتش کرنے کے منصوبے پر دنیا بھی میں ان کی مذمت کی جا رہی تھی اور ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ارادے سے باز رہیں

پادری کا کہنا تھا: ’پچھلے کچھ دنوں سے میں دعائیں کر رہا تھا کہ اگر خدا نہیں چاہتا کہ قرآن جلائے جائیں تو وہ مجھے کوئی اشارہ دے۔ اور یہ اشارہ مجھے نیو یارک سٹی کے امام کی صورت میں نظر آیا جنھوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ گراؤنڈ زیرو پر اسلامی ثقافتی مرکز نہیں بنےگا لہذا میں نے قرآن جلانے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے اور میں جلد ہی ان لوگوں سے ملوں گا جو اب اسلامی ثقافتی مرکز کو کہیں اور تعمیر کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔‘

تاہم جب بی بی سی نے اسلامی ثقافتی مرکز کے منتظمین سے پوچھا کہ آیا وہ اس مرکز کی گراؤنڈ زیرو کے قریب تعمیر کے موقف سے دستبردار ہو گئے ہیں تو انھوں نے اس کی پرزور تردید کی۔