سربرینتزا میں کب کیا ہوا

بوسنیا، مسلمانوں کی قبریں
،تصویر کا کیپشنسربرینتزا میں سرب فوج کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا

اقوام متحدہ کی طرف سے بوسنیا کے شہر سربرینتزا کو محفوط علاقہ قرار دیئے جانے کے دو سال بعد سنہ انیس سو پچانونے کے موسم گرما میں اس شہر میں بوسنیائی جنگ کا سب سے بدترین قتل عام دیکھنے میں آیا۔

سنہ انیس سو پچانونے میں چھ سے آٹھ جولائی کے درمیان بوسنیائی سرب افواج نے سربرینتزا کے اس محفوظ علاقے کا محاصرہ کر لیا جہاں پر شمال مشرقی بوسنیا میں سرب افواج کے حملے سے بچنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں بوسنیائی شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

ہزاروں کی تعداد میں ان نہتے شہریوں کی چھ سو کے قریب ڈچ انفینٹری دستے حفاظت کر رہے تھے۔ سربرینتزا کے علاقے میں محصور ان لوگوں کے پاس ایندھن ختم ہو رہا تھا اور اس علاقے میں مئی کے مہینے سے خوارک کی رسد بند تھی۔

چھ جولائی

بوسنیائی سرب فوجوں نے علاقے پر بمباری شروع کر دی اور وہاں موجود بوسنائی مسلمانوں نے امن فوج کے دستوں سے اپنے ہتھیار واپس مانگنے شروع کیئے جو انھوں نے اس علاقے میں پناہ لیے سے قبل ان کے پاس رکھوا دیئے تھے۔

پناہ گزینوں کے علاقوں کے قریب سربیائی فوج کے گولےگرنے کے بعد ڈچ کمانڈر نے سراجیو میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کواٹر سے فضائی مدد طلب کی درخواست کی۔

نو جولائی

بوسنیائی سرب فوج کی بمباری میں شدت آ گئی اور ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزینوں نے جنوبی کیمپ سے شہر کے وسط کی طرف منتقل ہونا شروع کر دیا۔ پیش قدمی کرتی سربیائی فوج نے ڈچ فوجیوں کی ایک چوکی پر قبضہ کر کے تیس ڈچ فوجیوں کو یرغمال بنا لیا۔

دس جولائی

ڈچ کمانڈر کرنل کریمان نے فضائی امداد کے لیے پھر درخواست کی جسے اقوام محتدہ کے کمانڈر جنرل ہاویر نے ابتدائی طور پر رد کر دیا لیکن کرنل کی طرف سے ایک اور درخواست موصول ہونے کے بعد یہ تجویز مان لی۔ سربیائی فوج نے طیاروں کے پہنچنے سے قبل ہی بمباری روک دی اور فضائی حملہ روک دیا گیا۔

اس دن چار ہزار کے قریب پناہ گزین شہر میں تھے اور شہر کی سڑکوں پر شدید خوف و ہراس پایا جاتا تھا۔ ڈچ فوج کی چوکیوں کے باہر ہزاروں افراد جمع تھے۔

ڈچ کمانڈروں نے شہریوں کو بتایا کہ نیٹو فوج کے لڑاکا طیارے سربیائی فوج پر شدید بمباری کریں گے اگر انھوں نے محفوظ زون سے صبح چھ بجے تک اپنی فوجوں کو واپس نہیں بلایا۔

گیارہ جولائی

سربیائی فوج نے اس علاقے کو خالی نہیں کیا۔ اس دن صبح نو بجے کے قریب کرنل کیرمان کو اقوام محتدہ کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا کہ فضائی حملے کے لیے انھوں نے جو درخواست کی ہے اس کے لیے صحیح فارم استعمال نہیں کیا

کرنل کریمان نے دوسری درخواست بھیجی جو ساڑھے دس بجے اقوام متحدہ کے ہیڈکواٹر کو ملی لیکن اس وقت تک نیٹو فوج کے طیارے اٹلی کے ہوائی اڈوں پر ایندھن بھروانے واپس جا چکے تھے

اسی دن سہ پہر تک بیس ہزار کے قریب پناگزیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے وہ پوٹوکاری میں ڈچ فوج کے کیمپ کے باہر جمع ہو گئے۔

بارہ جولائی

سربرینتزا میں بسیں پہنچنا شروع ہو گئیں تاکہ عورتوں اور بچوں کو مسلمان علاقوں میں پہنچایا جا سکے جبکہ سربیائی فوجیوں نے بارہ سے ستتر سال کی عمر کے تمام مردوں کو جنگی جرائم میں ملوث افراد کی شناخت لیے روک لیا۔

ایک اندازے کے مطابق تیئس ہزار کے قریب خواتین اور بچوں کو اگلے تیس گھنٹوں میں جلا وطن کر دیا گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں مردوں کو قید کر لیا گیا

پندرہ ہزار کے قریب مسلمانوں جنگجؤں نے سربرینتزا سے رات کو فرار ہونے کی کوشش کی جن پر شدید بمباری کی گئی

تیرہ جولائی

پہلے نہتے مسلمان کو کراویکا کے گاؤں کے میں ایک ویئر ہاؤس کے قریب ہلاک کیا گیا

ڈچ امن فوج کے دستوں نے پانچ ہزار مسلمانوں کو جو کہ پوٹوکاری کی چوکی کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے سربیائی فوج کے حوالے کر دیا جس کے بدلے میں سربیائی فوج نے چودہ ڈچ فوجیوں کو رہا کر دیا۔

سولہ جولائی

اس قتل عام کی خبریں پہنچنا شروع ہوئیں جب سربرینتزا سے بھاگنے والا پہلا شخص مسلمانوں کے زیر قبضہ علاقے میں پہنچنے میں کامیاب ہوا

اقوام متحدہ اور سربیائی فوج کے درمیان مذاکرات کے بعد ڈچ فوجیوں کو سربرینتزا چھوڑنے کی اجازت دی گئی اور سربرینتزا سے نکلتے وقت انھیں اپنے تمام ہتھیار، خوارک اور ادویات کا ذخیرہ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی

سربرینتزا پر قبضے کے بعد سات ہزار سے زیادہ مسلمان مردوں کو گولیاں مار کے ہلاک کر دیا گیا

بوسنیائی سرب فوج کے سابق سربراہ رادوان کرادچ پر ان دنوں بین اقوامی جرائم کے ٹرائبیونل میں سنہ انیس سو بانوے سے سنہ انیس سو پچانوے کی بونسیائی جنگ کے دوران جنگی جرائم، قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے گیارہ مختلف الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے

رادوان کرادچ کو گیارہ سال تک فرار رہنے کے بعد گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں

سربیائی فوج کے ایک اور اہم کمانڈر رادکو ملادچ کو بھی اقوام متحدہ نے اس قتل عام میں ملزم نامزد کیا ہے لیکن وہ تاحال مفرور ہیں اور خیال ہے کہ وہ اس خطے میں کسی سربیائی آبادی میں روپوش ہیں۔