جنوبی ایشیا سب سے بدامن خطہ: رپورٹ

عالمی معاشی بحران سے جرائم اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث دنیا میں خطرات بڑھ گئے ہیں تاہم مسلح تصادم کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
سنہ دو ہزار سات سے جو خطہ سب سے زیادہ بد امنی کا شکار رہا ہے وہ ہے جنوبی ایشیا جہاں سری لنکا، پاکستان اور بھارت میں مسلح تصادم ہوتے رہے۔
یہ مشاہدات عالمی تحقیق دو ہزار دس گلوبل پیس انڈیکس رپورٹ کے حوالے میں دیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں جرم کی سطح سے دفاعی اخراجات، ہمسائے ممالک کے ساتھ تصادم اور انسانی حقوق کی پاسداری کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں امن میں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی امن میں کمی کے باعث ایک سال میں سات ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو گا۔
اس رپورٹ کے مطابق بدامنی میں پچیس فیصد کمی کے باعث ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر سالانہ بچائے جا سکتے ہیں۔ اور یہ رقم اتنی ہے کہ اس سے یونان کا قرضہ اتارا جا سکتا ہے، اقوام متحدہ کے ملینیئم مقاصد پورے کیے جا سکتے ہیں اور یورپی یونین سنہ دو ہزار بیس کا موسمی اور کاربن مقاصد پورے کر سکے۔
اس رپورٹ کے سربراہ آسٹریلیا کی کاروباری شخصیت سٹیو کلیلی نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’ہم نے دیکھا ہے کہ معاشی بحران کی وجہ سے براہ راست اثر پڑا ہے۔ کم از کم کچھ بے چینی پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ان اقدامات کی نشاندہی کی جا سکے جس سے اس بے چینی پر قابو پایا جائے۔‘
یہ رپورٹ انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے مرتب کی ہے اور اس میں معلومات اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ سے لی گئی ہیں۔
سٹیو کا کہنا ہے کہ امن کی وجہ سے معاشی فوائد ہیں اور سرمایہ دار اس کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔
ایتھوپیا کو سنہ دو ہزار دس میں سب سے زیادہ بہتر ہونے والا ملک قرار دیا گیا جبکہ سب سے خطرناک ممالک میں عراق، صومالیہ، افغانستان اور سوڈان شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا میں سب سے زیادہ پرامن ممالک میں سر فہرست نیوزی لینڈ ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر آئس لینڈ اور جاپان ہیں۔
سنہ دو ہزار سات سے جو خطہ سب سے زیادہ بد امنی کا شکار رہا ہے وہ ہے جنوبی ایشیا جہاں سری لنکا، پاکستان اور بھارت میں مسلح تصادم ہوتے رہے۔
جارجیا کے ساتھ سنہ دو ہزار آٹھ میں محدود جنگ کے باعث روس کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے جبکہ چین کی درجہ بندی میں کمی دفاعی اخراجات میں پندرہ فیصد اضافے کے باعث آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی فوجی اخراجات میں سے امریکہ کا کل حصہ 54 فیصد ہے جس کی وجہ عراق اور افغانستان کی جنگ ہے۔
سٹیو کا کہنا ہے ’آپ بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر امریکہ ان جنگوں میں ملوث نہ ہوتا تو وہ با آسانی انرجی اور معیشت کی طرف توجہ دے سکتا اور ہم آج وہاں نہ ہوتے جہاں ہم آج ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق پرتگال، آئرلینڈ، اٹلی، یونان اور سپین میں بدامنی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم سنہ دو ہزار سات میں جب یہ رپورٹ شروع کی گئی تھی اس کے بعد سے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔
سٹیو کا کہنا ہے کہ افریقہ میں مسلح تصادم میں کمی آئی ہے اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ ’شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بہتری کی بڑی وجہ ان ممالک کے آپس میں روابط میں بہتری ہے۔‘







