سڈنی میں پانچ مسلمانوں کو سزا

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک عدالت نے پانچ مسلمانوں کو دہشت گردی کے ایک مقدمے میں سترہ سے اکیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ان افراد کو گزشتہ سال بم بنانے کی ہدایات اور دھماکہ خیر کیمیائی مواد رکھنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ اشخاص عراق اور افغانستان میں جاری کارروائی میں آسٹریلوی شمولیت کے وجہ سے ملک میں پرتشدد جہادی حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
قانونی وجوہات کی بنا پر ان اشخاص کے نام جاری نہیں کیے گئے۔
ان افراد کو آسٹریلیا کی تاریخ کے سب سے طویل مقدمے کے بعد مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ان افراد کو سزا سنانے والے نیو ساؤتھ ویلز سپریم کورٹ کے جج جسٹس اینتھونی ویلی کے مطابق ان کے جرم کی بنیادی وجہ عدم پرداشت اور ان کے انتہا پسند مذہبی خیالات تھے۔
جج کے مطابق انہوں نے آسٹریلوی حکومت، اس کی قیادت اور اس کے قوانین کی طرف توہین آمیز رویہ کا مظاہرہ کیا تھا۔
سڈی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نِک برائنٹ کے مطابق ان افراد کو ایک ہارڈ ویئر سٹور اور اسلحہ سٹور کے مالکان کی مخبری پر گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار کے مطابق ان افراد کے بارے میں شک و شبہات نے اس وقت جنم لیا جب انہوں نے غیر معمولی طور پر بڑی مقدار میں کیمیائی مواد اور اسلحے کے آرڈر دینے شروع کیے۔
استغاثہ کے مطابق ایک ملزم نے پاکستان میں جہادی تنظیم لشکرِ طیبہ کے تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کی تھی اور آسٹریلیا واپس آکر نیو ساؤتھ ویلز کے دیہی علاقے میں ایک نیم فوجی طرز کا کیمپ قائم کیا تھا اور وہیں اپنے دیگر تین ساتھیوں کو ٹریننگ دی تھی۔







