ڈیوڈ ہیڈلی ہیں کون؟

ڈیوڈ کولمین ہیڈلی
،تصویر کا کیپشنعدالت میں ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی پیشی کا ایک خاکہ

ممبئئ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ میں گرفتار امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی ہیں کون؟

ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کچھ سال پہلے تک داؤد گیلانی کے نام سے جانے جاتے تھے اور وہ ریڈیو پاکستان کے ایک معروف ڈائریکٹر جنرل سید سلیم گیلانی مرحوم کے بیٹے ہیں۔

ہیڈلی کی زندگی اور پاکستان سے تعلق کے بارے میں معلومات اس وقت سامنے آئیں جب ان کے سوتیلے بھائی دانیال گیلانی نے پچھلے ماہ ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔ دانیال گیلانی سرکاری ملازم ہیں اور وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانے کے پبلک ریلیشنز آفسر ہیں۔

انہوں نے یہ بیان بھارتی میڈیا میں ان کے ڈیوڈ ہیڈلی کے بھائی ہونے اور وزیر اعظم سے رشتہ داری کے بارے میں قیاس آرائیاں چھپنے کے بعد جاری کیا۔

بھارتی میڈیا میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پچھلے سال سید سلیم گیلانی کے انتقال کے بعد وزیر اعظم تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔

دانیال گیلانی نے اپنے بیان میں یہ وضاحت کی کہ ان کے خاندان کا یوسف رضا گیلانی سے کوئی رشتہ نہیں ہے اور ان کا خاندان بھارتی پنجاب کے علاقے جسترول اور یو پی کے علاقے ایٹاوا سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا جبکہ وزیر اعظم گیلانی کے خاندان کا تعلق ملتان سے ہے۔

اپنے سوتیلے بھائی کے بارے دانیال گیلانی نے بتایا کہ ہیڈلی عرف داؤد گیلانی کی والدہ امریکی ہیں اور ان کے والد سلیم گیلانی نے ان سے اس وقت شادی کی تھی جب وہ وائس آف امریکہ ریڈیو کے لیے امریکہ میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ داؤد انیس سو ساٹھ میں واشنگٹن میں پیدا ہوئے تھے۔ اس کے کچھ دن بعد سلیم گیلانی اپنے خاندان سمیت پاکستان رہنے واپس آئے لیکن یہ شادی چلی نہیں اور ساٹھ کی ہی دہائی میں ان کی بیوی امریکی لوٹ گئیں اور طلاق ہوگئی۔

دانیال گیلانی کے مطابق ان کا خیال ہے کہ داؤد گیلانی حسن ابدال کیڈٹ کالج میں پڑھے۔ سکول کے بعد وہ اپنی والدہ کے پاس امریکہ چلے گئے جس کے بعد ان کا پاکستان میں خاندان سے بہت کم تعلق رہا۔

امریکی اخبار دا نیو یارک ٹائمز نے کچھ رشتہ داروں اور جاننے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سترہ سالہ داؤد امریکہ میں صورتحال سے سمجھوتہ نہ کر سکے۔ وہ کالج کی تعلیم بھی پوری نہ کر سکے اور منشیات کے چکروں میں پڑ گئے۔ان ذرائع کے مطابق انیس سو اٹھانوے میں داؤد گیلانی کو منشیات سمگل کرنے کے کیس میں قصوروار پایا گیا اور تقریباً ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے لیکن حکام سے تعاون کرنے کے باعث انہیں جیل کی طویل سزا نہیں کاٹنی پڑی اور وہ پھر امریکہ کی انسداد منشیات ادارے کے پاکستان میں خفیہ آپریشنز میں کام کرنے لگے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق سنہ دو ہزار چھ میں وہ امریکہ کے شہر شکاگو منتقل ہو ئے۔ سنہ دو ہزار پانچ یا چھ میں انہوں نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور داؤد گیلانی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی بن گئے۔ ہیڈلی ان کے ننھیال کا نام ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی اہلیہ اور بچے شکاگو میں ہی رہتے ہیں۔

ڈیوڈ ہیڈلی عرف داؤد گیلانی کے سوتیلے بھائی دانیال گیلانی کے بیان کے مطابق ان کا خاندان سے تعلق تقریباً ختم ہو گیا تھا کیونکہ ان کے منشیات سے تعلق کے باعث ان کے والد چاہتے تھے کہ ان سے دور ہی رہا جائے۔