صومالی قزاق: ہسپانوی کشتی رہا کر دی

سپین کے وزیر اعظم جوسےلویئس رودریگیززا پاتیرو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صومالی قزاقوں نے چھ ہفتوں سے یرغمال بنائی گئی ایک ہسپانوی کشتی کو عملے کے ارکان سمیت رہا کر دیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق قزاقوں نے الاکرانا نامی ٹیونا مچھلیاں پکڑنے والی کشتی اور اس میں سوار عملےکے چھتیس ارکان کو رہا کر دیا ہے۔
ہسپانوی دار الحکومت میڈرڈ میں ایک اخباری کانفرس میں وزیراعظم زاپاتیرو نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس پورے ملک کے لیے ایک بڑی اچھی خبر ہے۔ انھوں نے کہا ’میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ الاکرانہ نامی کشتی نے محفوظ سمندر کی جانب سفر شروع کر دیا ہے اور اس میں موجود عملے کے تمام ارکان محفوظ اور خیریت سے ہیں۔‘
اس سے پہلے قزاقوں نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ تین اعشاریہ پانچ ملین ڈالر تاوان کے وعدے کے بعد کشتی اور عملے کے ارکان کو رہا کیا گیا ہے۔ قزاقوں کے ترجمان نے نیوز ایجنسیوں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہسپانوی حکومت کی جانب سے تین اعشاریہ چار ملین ڈالر سے چار ملین ڈالر تاوان وصول کر رہے ہیں تاہم حکومت نے اس دعوے 0 کی تصدیق نہیں کی ہے۔
عملے سمیت یرغمال بنائی گئی کشتی کا مسئلہ اس وقت شدت اختتیار کر گیا جب سپین کی نیوی نے دو صومالی قزاقوں کو گرفتار کرنے کے بعد عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے سپین منتقل کر دیا تھا۔ اس کے بعد ان کے ساتھی قزاقوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر گرفتار کیے گئے دو افراد کو واپس نہیں کیا گیا تو وہ کشتی کے عملے کو ایک ایک کر کے ہلاک کر دیں گے۔
ایک بیان کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب الاکرانہ نامی کشتی نے یورپی یونین اور ہسپانوی نیوی کی جنگی جہازوں کی نگرانی میں کھلے سمندر کی جانب سفر شروع کر دیا ہے۔
کشتی کے نائب کپتان کی بہن ارگی گلبریتو نے بتایا کہ ان کی ان کے بھائی سے رہائی کے بعد ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔’ انھوں نے مجھے بتایا ہے کہ رہا ہونے کے بعد وہ بندرگاہ پر اور پھر گھر پہنچے پرخوش ہیں۔
الاکرنا نامی کشتی کو گزشتہ ماہ عملے کے چھتیس افراد کے ساتھ صومالی قزاقوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ عملے کے ارکان میں سے سولہ ہسپانوی، آٹھ انڈونیشیا کے اور باقی گھانا، ائیوری کوسٹ، مداگاسکر اور سینگال کے شہری تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب صومالی قزاقوں نے سوموار کو صومالیہ کی سمندری حدود میں ایک کیمیکل ٹینکر پر عملے کے اٹھائیس اراکان سمیت قبضہ کر لیا ہے جبکہ خلیج عدن میں ناؤفور کے سمندری محافظوں نے صومالی قزاقوں کی جانب سے یوکرائن کے مال بردار جہاز کو یرغمال بنانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
صومالی قزاق اب صومالیہ سے کہیں دور واقع علاقوں میں کارروائیاں کرنے لگے ہیں جس کی تازہ مثال رواں ماہ جزائر سیشلز سے چار سو بحری میل دور ایک آئل ٹینکر پر قزاقوں کا حملہ ہے۔
جس جگہ یہ کارروائی ہوئی وہ صومالیہ سے ایک ہزار ناٹیکل میل یا ایک ہزار آٹھ سو پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اب بھی صومالیہ کی سمندری حدود میں قزاوں نے وارداتوں میں دس مختلف بحری جہازوں کے عملے کے دو سو کے قریب ارکان کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اب بمشکل ہی کوئی دن گزرتا ہے کہ قزاقی کی کوئی نئی واردات سامنے نہ آئے۔







