تیزاب حملے کے بعد

- مصنف, عنبر خیری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ڈیڑھ سال پہلے جب برطانوی ماڈل کیٹی پائپر پر تیزاب پھینکا گیا تو ان کی جلد اتنی زیادہ جل گئی تھی کہ انہیں لگا کہ ان کی زندگی ہی ختم ہو گئی ہے۔
لیکن اس متاثرہ خاتون کی ان کے خاندان کے علاوہ مقامی پولیس اور ڈاکٹروں نے بھرپور حمایت کی۔ پولیس نے ان پر حملے کے ذمہ داروں کو سزا دلوائی اور ڈاکٹروں نے پلاسٹک سرجری کا ایک نیا طریقہ استعمال کرتے ہوئے ان کی جلد کو دوبارہ بنایا اور چہرہ کافی حد تک ٹھیک کر دیا۔
تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی کیٹی پائپر کی کہانی ایک دستاویزی فلم میں بتائی گئی ہے جو انتیس اکتوبر کو برطانیہ کے چینل فور پرنشر کی جا رہی ہے۔
تیزاب حملے کے بعد ان کی جھلسی ہوئے جِلد کا ہنگامی علاج لندن کے چیلسی اینڈ ویسٹمنسٹر ہسپتال میں کیا گیا۔ سرجنوں کی ٹیم کی رہنمائی کراچی سے تعلق رکھنے والے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر محمد علی جواد نے کی اور انہوں نے ایک جدید طریقہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جو اب تک اس طرح کے کیس میں نہیں آزمایا گیا تھا۔
اس آپریشن میں جِلد کی بنیاد کے طور پر میٹریڈیرم نامی ایک مواد استعمال کیا گیا جو اب تک تازہ زخموں پر نہیں بلکہ پہلے کے زخموں کے نشانات پر ہی استعمال ہوتا رہا تھا۔
میٹری ڈیرم کے تہہ کے اوپر پھر کیٹی پائپر کے کمر سے لی گئی جِلد لگائی گئی۔ میٹری ڈیرم کولاجِن اور الیسٹن کا بنا ہوا مواد ہے۔

ڈاکٹر جواد کا کہنا ہے کہ اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے چہرے کے تاثرات ختم نہیں ہوتے کیونکہ جِلد میں لچک رہتی ہے۔ کیٹی پائپر پر اس نئے طریقے کے استعمال کے بعد وہ اس کو کم سے کم پندرہ مزید کیسوں میں استعمال کر چکے ہیں اور اب فرانس، سپین اور اٹلی میں بھی ڈاکٹروں نے یہ طریقہ استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
ڈاکٹر جواد کے مطابق تیزاب یا کسی اور وجہ سے جل جانے والے مریضوں کیمشکلات پر اور زیادہ توجہ درکار ہے۔ ان کو کیٹی پائپر کے اس کیس میں اس لیے بھی بہت دلچسپی ہے کہ برطانیہ میں خواتین پر تیزاب حملے اتنے عام نہیں ہیں جتنے برصغیر میں اور وہ کہتے ہیں کہ نہ صرف مجرموں کو سزا دلانے کا عمل مضبوط کرنا چاہیے بلکہ ایسے حملے کا نشانہ بننے والوں کو بہتر علاج کے ذریعے بھی امید کی کرن دکھانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹی وی فلم ’مائی بیوٹی فُل فیس‘ میں کیٹی پائپر پر حملے اور اس کے اثرات کی کہانی بتائی گئی ہے ان پر تیزاب سے حملہ ان کے ایک سابق بوائے فرینڈ نے کروایا تھا جن کے ساتھ کیٹی نے اپنے تعلقات کئی پُر تشدد واقعات کے بعد ختم کر دیے تھے۔
اس سابق بوائے فرینڈ کے بھیجے گئے ایک شحض نے کیٹی کے گھر کے باہر ان کا انتظار کیا اور جب وہ نکلیں تو ان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ ان کی جِلد بری طرح جل گئی اور ان کی ایک آنکھ بیکار ہو گئی۔
آپریشن کے بعد علاج کا عمل طویل تھا۔ سرجری کے مہینوں بعد تک کیٹی کو چہرے پر ایک ماسک پہننا پڑا اور کھانا اور ادویات ان کو انجیکشن کے ذریعے دی جاتیں۔
اس کے علاوہ حملے کے بعد کیٹی کو گرم مشروبات اور گرم اشیا سے سخت گھبراہٹ ہوتی رہی اور سکیورٹی کے لحاذ سے بھی وہ اپنے آپ کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کرتی رہیں۔ پولیس نے ان کے کیس پر بہت محنت سے کام کیا اور حملہ کروانے والے شخص کو عدالت نے دس سال کی سزا سنا دی۔
کیٹی پائپر پہلے گھر سے باہر نکلنے سے گھبراتی تھیں لیکن سب کی حوصلہ افزائی اور مدد کی وجہ اب وہ گھر سے بھی نکلتی ہیں اور ہنسی خوشی زندگی کی جد و جہد جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان کی ڈیڑھ سال کی اس جد وجہد پر دستاویزی فلم کی افتتاحی تقریب میں انہوں نے تقریر بھی کی۔ اس موقع پر ان کے سرجن ڈاکٹر جواد بھی موجود تھے اور وہ کیٹی پائپر کی صحتیابی اور حوصلہ پر والدین جتنا ہی خوش دکھائی دے رہے تھے ۔







