سڈنی، پانچ ’دہشتگرد‘ قصوروار

آسٹریلیا میں ایک عدالت نے پانچ افراد کو دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرنے کی پاداش میں مجرم قرار دیا ہے۔
حکومت نے مجرم قرار پانے والے افراد کے ناموں کو ظاہر نہیں کیا ہے اور صرف اتنا کہا ہے کہ ان افراد میں سے ایک نے پاکستان میں لشکر طیبہ کے ایک تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کی تھی۔ پاکستان میں تربیت حاصل کرنے والے شخص نے نیو ساؤتھ ویلز میں ایک کیمپ قائم کر رکھا تھا جہاں لوگوں کو دہشتگردی کی تربیت دی جاتی تھی۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک جیوری تئیئس روز کے غور و غوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ پانچ افراد آسٹریلیا میں دہشتگردی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
ان افراد کو 2005 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایک ہارڈویئر سٹور اور گن شاپ کے مالک نے پولیس کو ان افراد کی خریداریوں کے بارے میں مطلع کیا۔
جیوری نے نومبر 2008 میں اس مقدمے کیس سماعت شروع اور ایک سو ستر روز تک سماعت کے اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ یہ افراد آسٹریلیا کو مشرق وسطیٰ کے بارے اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے دہشتگردی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
جیوری نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ مجرموں کے قبضے سے بم بنانے کی معلومات اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔
مجرموں کی سزا کا ابھی تعین نہیں ہوا ہے لیکن قانون کی جن شقوں کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے اس کے تحت انہیں عمر قید بھی دی جا سکتی ہے۔
ان مجرموں کے حامیوں نے عدالت کے باہر شدید احتجاج کیا اور ان کی پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی ہے۔ مجرم قرار پانے والے ایک شخص کے بھائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس طرح کے فیصلوں سے آسٹریلیا میں دہشتگردی کا خطرہ پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے بلکہ اسے دہشتگردی کا خطرہ بڑھے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پراسیکوٹر رچرڈ میڈمنٹ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مجرمان جن کی عمریں پچیس سے چوالیس سال کے درمیان ہیں آسٹریلیا کومشرق وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسی کو بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
جسٹس اینتھونی ویلی نے جیوری کی مستعدی اور ایمانداری کی تعریف کی۔







