تمل اثاثے: سری لنکا کی اپیل

سلواراسا پتھماناتھن
،تصویر کا کیپشنپتھماناتھن تمل ٹائیگر کے سینئر رہنما تھے اور انہیں تملوں کی شکست کے بعد رہنما منتخب کیا گیا تھا

سری لنکا نے تمام ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمل باغیوں اور ان کے اثاثوں کو اس کے حوالے کریں۔

سری لنکا کے وزیرِ دفاع گوتابایا راجاپاکسا نے یہ اپیل تمل ٹائیگرز کے نئے رہنما سلواراسا پتھماناتھن کی گرفتاری کے بعد کی ہے۔

سلواراسا پتھماناتھن جن کو عام طور پر کے پی کہا جاتا ہے کو تھائی لینڈ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ کئی برسوں سے رہائش پذیر تھے۔

تاہم تمل ٹائیگرز نے اس سلسلے میں جاری کیے جانے والے بیان میں کہا تھا کہ پتھماناتھن کو ملائشیا سے گرفتار کر کے سری لنکا کی فوج کے حوالے کیا گیا۔

پتھماناتھن تمل ٹائیگر کے سینئر رہنما تھے اور گزشتہ تیس سال کے دوران تمل باغیوں کے دنیا بھر سے اسلحے کی خریداری کے نیٹ ورک کی نگرانی کرتے تھے۔ اب پتھماناتھن سے سری لنکا کی سکیورٹی اہلکار تفتیش کر رہے ہیں۔

سری لنکا نے اسی سال تمل باغیوں پر فتح پانے کا اعلان کیا تھا۔

مسٹر راجاپاکشا نے بی بی سی کو بتایا ’پتھماناتھن تمل باغیوں کے سینئر اور دوسرے بڑے رہنما ہیں اور تفتیش کے دوران آہستہ آہستہ معلومات فراہم کر رہے ہیں، پتھما ناتھن ہی پچھلے تیس سال کے دوران تمل باغیوں کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود خریدنے کی نگرانی کرتے رہے ہیں‘۔

سری لنکا کے باہر تمل باغیوں کا نیٹ ورک انتہائی منظم تھا اور اسی سے انہیں اسلحے اور گولہ بارود کی گرفتاری کے سرمایہ میسر آتا تھا۔

اس کے علاوہ تمل بیرون ملک پرچون کی دکانوں، پیٹرول پمپوں، اپنی عبادت گاہوں، تجارتی جہازرانی اور فلموں تک میں سرمایہ کاری کرتے تھے۔

کیونکہ بہت سے ممالک میں تمل باغیوں پر پابندی تھی اس لیے یہ اور اس طرح کی د وسری کارروائیاں مختلف ناموں سے کی جاتی تھیں۔ اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ پتھماناتھن کو اس بارے میں تمام معلومات حاصل ہیں۔