سانپ کے کاٹے کے لیے جوگیوں کی تربیت

بنگلہ دیشی وزارت صحت نے کہا ہے کہ وہ سانپ کے کاٹے کے علاج کے لیے جوگیوں کو جدید تربیت دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
اس اقدام کا فیصلہ سانپ کے ڈسنے سے متعلق ایک وسیع سروے کے بعد کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق ملک میں ہر سال سات لاکھ افراد زہریلے سانپوں سے ڈسے جاتے ہیں جن میں ہر سال چھ ہزار ہلاک ہوجاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر جوگیوں کو سانپ کے ڈسنے کے علاج کی جدید تربیت دیدی جائے تو ہلاکتوں کی یہ تعداد بہت کم ہوجائے گی۔
سروے میں دیکھا گیا ہے کہ سانپ کے کاٹے کے صرف تین فی صد متاثرین ہسپتالوں تک پہنچتے ہیں جبکہ اکثریت جوگیوں سے اپنا علاج کرواتی ہے۔
یہ جوگی سانپوں کے ماہر ہوتے تاہم ڈسنے کا علاج بھی کرتے ہیں۔
مگر علاج میں ایسے طریقے استعمال کرتے ہیں جو متاثرہ شخص کے لیے نقصاندہ ہوتے ہیں، مثلاً متاثرہ مقام کو باندھ دینا، خون چوس کر زہر نکالنا اور متاثرہ حصے کی مالش کرنا وغیرہ۔
سروے کے مطابق زیادہ تر افراد گاؤں دیہات میں چلتے یا کھیتوں میں کام کے وقت ڈسے جاتے ہیں، مگر تقریباً پندرہ فی صد کے قریب افراد سوتے میں ڈسے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سانپ کے ڈسے جانے کے سب سے زیادہ واقعات مون سون کی بارشوں میں ہوتے ہیں جب سانپ اور انسان دونوں ہی خشکی کی طرف بھاگتے ہیں۔







