یونان: تارکین وطن کا کیمپ تباہ

یونان میں پولیس نے مغربی ساحلی علاقے میں قائم غیر قانون طور پر آئے تارکین وطن کا ایک عارضی کیمپ تباہ کر دیا ہے۔ یہ کیمپ غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے والوں کی عارضی رہائشگاہ کا کام دیتا تھا۔
تارکین وطن اس کیمپ سے اٹلی اور مغربی یورپ جانے والے جہازوں پر جگہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کیمپ کی تباہی اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ یونان کی حکومت غیر قانونی تارکین طن سے سختی سے نمٹے گی۔
بہت سے یونانی اس کیمپ کا خاتمہ چاہتے تھے کیونکہ یہ ان کے نزدیک ایک بدنما عمارت تھی جو اٹلی سے آنے والے سیاحوں پر بھی اچھا تاثر نہیں چھوڑتی تھی۔
یونان کی پولیس اتوار کی صبح ایک سو بلڈوزروں کے ساتھ کیمپ میں گئی اور اسے تباہ کر دیا۔ کیمپ کی ایک مسجد اور رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کے خیمے واحد مقام تھے جنہیں پولیس نے نہیں چھیڑا۔
پٹراس کے علاقے میں یہ کیمپ تیرہ سال سے قائم تھا۔ چند ماہ پہلے تک اس میں اٹھارہ سو لوگ رہائش پذیر تھے جن میں سے زیادہ تر افغانستان سے آئے تھے۔ لیکن حال ہی میں وسیع پیمانے پرگرفتاریوں اور ساحلی علاقوں میں سختی کی وجہ سے یہاں پر لوگوں کی تعداد صرف ایک سو رہ گئی تھی۔
ریڈ کراس نے کیمپ کو ختم کرنے کے لیے کی گئی کارروائی کو تارکین وطن کو دہشت زدہ کرنے کی کارروائی کہا۔ تنظیم کے ایک اہلکار نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد غیر قانونی طور پر سفر کرنے والے تارکین وطن کو یہ بتانا تھا کہ اب یونان میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
یونان کی حکومت نے کچھ عرصے سے سخت اقدامات لینے شروع کیے ہیں اور حال ہی میں ایک قانون بھی منظور کیا گیا ہے جس سے لوگوں کو ان کے ملک واپس بھیجنا آسان ہو گیا ہے۔
یونان کو تارکین وطن سے متعلق سخت اقدامات کی وجہ سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے لیکن یورپی یونین کے جسٹس کمشنر ژاک بارو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بغیر روک ٹوک کے تارکین وطن کی آمد سے یونان کی جمہوریت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پٹراس کے کیمپ کے خاتمے کے بعد تارکین وطن ایتھنز اور اٹلی میں ایسے ایجنٹوں کے ہاتھ چڑھ سکتے ہیں انہیں یونان سے نکالنے میں مدد کے لیے ساڑھے چار ہزار پاؤنڈ تک مانگ سکتے ہیں۔ جو تارکین وطن یہ راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے بلغاریہ اور میسیڈونیا کی سرحدوں کا رخ کریں گے۔







