’دو ریاستی منصوبے کو تسلیم کریں‘

امریکی صدر براک اوباما نے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات میں فلسطینی ریاست کو قبول کرنے پر زور دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی اپنے عہدے سنبھالنے کے بعد یہ پہلی ملاقات تھی۔ صدر اوباما نے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ دو ریاستی منصوبے کی حمایت کرتے ہیں اور امریکہ اس عمل میں شریک رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2003 کے نقشہ راہ (روڈ میپ) کے مطابق اسرائیل کو غربِ اردن میں یہودی آبادیوں کو روکنا چاہیئے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ وہ فوری طور پر امن مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے فلسطینی ریاست کی حمایت پر بات نہیں کی۔
ملاقات کے بعد براک اوباما نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ ان کے پاس فلسطینی ریاست کے قیام کے متعلق کچھ کرنے کے لیے تاریخی موقع ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہے اور وہ فوری طور پر مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ اس بات سے جڑا ہو گا کہ فلسطینی اسرائیل کو یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کریں۔
بنیامن نیتن یاہو نے اب تک دو ریاستی حل پر بات نہیں کی ہے، ان کا صرف یہ موقف رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ایک ’نئی سوچ‘ کے حق میں ہیں۔



