لندن بم حملے، تین ملزمان بری

برطانیہ میں ایک عدالت نے ان تین ملزمان کو بری کر دیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جولائی سنہ دو ہزار پانچ کے لندن بم حملوں کے خودکش حملہ آوروں کی مدد کی تھی۔
شمالی انگلینڈ کے شہر لیڈز سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ وحید علی، اٹھائیس سالہ سدیرسلیم اور بتیس سالہ محمد شکیل کا کہنا تھا کہ ان کی بمباروں سے واقفیت تھی تاہم انہوں نے حملے کے منصوبے میں ان کی مدد نہیں کی تھی۔
ان افراد کے خلاف مقدمہ پچھلے سال چلایا گیا تھا لیکن اس وقت جیوری کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پائی تھی لہذا مقدمہ دوبارہ چلانا پڑا۔
ان تینوں ملزمان کو لندن بم حملوں سے تعلق کے الزام میں بری کر دیا گیا ہے تاہم عدالت نے ان میں سے دو کو پاکستان میں واقع دہشت گردی کے تربیتی کیمپ میں شامل ہونے کے منصوبے کے الزام میں قصوروار پایا ہے۔ ان دونوں مجرموں، وحید علی اور محمد شکیل کو بدھ کو سزا سنائی جائے گی۔
سات جولائی سنہ دو ہزار پانچ کے لندن بم حملوں میں لندن کے بسوں اور ٹرینوں پر سفر کرنے والے 52 افراد مارے گئے تھے۔لندن بم حملوں کے سلسلے میں ان تینوں افراد کے علاوہ کسی پر مقدمہ نہیں چلا ہے۔
یہ مقدمہ تین ماہ تک جاری رہا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ تینوں افراد حملہ آور محمد صدیق خان کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور یہ اس گروپ میں بھی شامل تھ جس نے لندن حملوں سے پہلے شہر میں آکر حملے کا نشانہ بنائے جانے والے مختلف مقامات کا جائزہ لیا تھا۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ تینوں شدت پسند جہادی نظریے میں یقین رھتے تھے۔
تاہم مقدمے کے دوران تینوں ملزمان کا موقف تھا کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف تھے اور جب لندن کے بم حملے ہوئے تو وہ اس کی خبر پر چونک گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں سے پہلے وہ سب لندن اس لیے گئے تھے کہ وحید علی اور سدیر سلیم پاکستان میں دہشت گردوں کے ایک تربیتی کیمپ میں تربیت کے لیے روانہ ہونے والے تھے اور وحید علی روانگی سے پہلے لندن میں اپنی بہن سے ملنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی دوست محض تفریح کے لیے ان کے ساتھ آگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن حملہ آور محمد صدیق خان اور شہزاد تنویرپہلے سے اس تربیتی کیمپ میں موجود تھے جہاں وہ بھی جانے والے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







