آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایتھوپیا کی خانہ جنگی: ٹیگرے فوجوں کی پسپائی اور لاشوں پر منڈلاتے لکڑ بگے
- مصنف, فاروق چھاتھیا اور ٹکلے مریم بکت
- عہدہ, بی بی سی نیوز
دیہاتیوں کی گلی سڑی لاشوں کو بھنبھوڑتے ہوئے لکڑ بگے، ہوائی حملوں میں تباہ ہونے والے قصبے اور شہر، اور عمر رسیدہ مردوں اور جوان عورتوں کی فوج میں جبری بھرتیاں۔ یہ ہیں وہ خوفناک مناظر جو ایھتوپیا کے تاریخی علاقے ٹیگرے سے ابھر کے سامنے آ رہے ہیں جہاں اب تک لاکھوں نہیں تو دسیوں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
ٹیگرے کا علاقہ ایک زمانے میں ایتھوپیا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہوا کرتا تھا اور دنیا بھر سے لوگ تراشے ہوئے پتھر کے کلیساؤں، اسلامی مزاروں اور زمانہ قدیم کی گیز زبان میں لکھی ہوئی مذہبی تحریروں کی تلاش میں یہاں کچھے چلے آتے تھے۔
لیکن اب یہ علاقہ ایک طویل خانہ جنگی کا نقشہ پیش کر رہا ہے جہاں ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجیں ٹیِگرے پیپلز لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کی فوج سے لڑ رہی ہیں۔ ہر فریق یہی سمجھتا ہے کہ جو بھی ٹیگرے پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، ایتھوپیا (جو تاریخی طور پر حبشہ کا حصہ ہوا کرتا تھا) پر اسی کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے۔
گزشتہ 17 برس سے ٹیگرے پر شدید پابندیاں عائد ہیں اور نہ تو یہاں بینک، ٹیلیفون یا انٹرنیٹ کی سہولت پائی جاتی ہے اور یہ خطہ ذرائع ابلاغ کی پہنچ سے بھی باہر ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران اس خانہ جنگی میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں، جس میں کبھی ایک فریق حاوی ہو جاتا ہے تو کبھی دوسرا۔
نومبر سنہ 2020 میں ٹی پی ایل ایف کی جانب سے مبینہ بغاوت کے بعد ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجوں نے ٹیگرے کے دارالخلافے،مکیلے پر قبضہ کر لیا تھا۔
اس کے جواب میں ٹی پی ایل ایف نے اپنے حامیوں کی مدد سے مکیلے کے قریبی علاقوں امہارا اور افار میں لڑائی کا آغاز کر دیا اور ایک سال میں باغی فوجی ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے قریب پہنچ گئے۔
اور پھر حال میں ہی ایتھوپیا اور اریٹیریا کی افواج نے ٹیگرے کے کچھ حصوں پر اپنا دوبارہ کنٹرول قائم کرنا شروع کر دیا ہے جس میں شائر کا اہم شہر بھی شامل ہے۔اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ ایک بار پھر مکیلے پر بھی قبضہ کر لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ورلڈ پیس فاؤنڈیشن کےڈائریکٹر ایلکس ڈی وال کہتے ہیں کہ ' اریٹیریا اور ایتھوپیا کے کم از کم پانچ لاکھ فوجی اس جنگ میں پوری طرح فعال ہیں، جبکہ مخالف جانب سے دو لاکھ افراد اس میں حصہ لے رہے ہیں۔'
پروفیسر ایلکس کے بقول پچاس دن کی مسلسل لڑائی کے بعد، اس ہفتے شائر کے علاقے پر مبینہ ٹیگرے کے فوجیوں کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے کیونکہ انھیں گولہ بارود نہیں مل رہا ہے۔
اگرچہ ایتھوپیا کی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شائر کے لوگوں کو امداد اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرتی رہے گی لیکن پروفیسر ایلکس کو خدشہ ہے کہ 'ٹیگرے کے فوجیوں کو اس سے بہت دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ اس علاقے کے لوگوں کو قتل عام، خواتین کے ریپ اور بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔'
ٹیگرے کے پورے علاقے میں پائے جانے والے انسانی بحران کا اندازہ شائر کی صورت حال سے لگایا جا سکتا ہے جس کے بارے میں ایک امدادی کارکن کا کہنا تھا کہ تقریباً چھ لاکھ افراد اس شہر میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں جو ان علاقوں سے بے گھر ہو کر یہاں پہنچے ہیں جہاں ایک عرصے سے جنگ جاری ہے۔
اپنی شناحت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ لوگ کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں جو درختوں اور جھاڑیوں میں سونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔'
ایتھوپیا کی افواج کی جانب سے خوفناک بمباری کے بعد شائر میں موجود تقریباً تمام امدادی کارکن شہر سے نکل آئے ہیں۔
امدادی تنظیموں کے علاوہ ہزاروں شہری بھی قتل و غارت کے خوف سے شائر سے نکل کر قریبی علاقوں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ایتھوپیا اور اریٹیریا کے کی فوجوں نے جن علاقوں پر پہلے قبضہ کیا وہاں بھی عام شہریوں کو اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
امدادی کارکن کے مطابق 'چار چشم دید گواہوں نے بتایا ہے کہ ستمبر میں شمبیلنا نامی گاؤں میں (فوجیوں نے) 46 افراد کو پکڑ کر گولی مار دی تھی۔ مقامی لوگوں کو ان افراد کی لاشیں ان مرے ہوئے جانوروں کے درمیان پڑی ملی تھیں جنھیں فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔
جب مقامی لوگ وہاں پہنچے تو 'لکڑ بگے چند انسانی لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا چکے تھے اور مرنے والوں کی شناخت صرف ان کے کپڑوں کی باقیات کو دیکھ کر کی گئی تھی۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس لاشوں کو دفن کرنے کا وقت بھی نہیں تھا اور اب تک لکڑ بگے بچی کھُچی لاشوں کو بھی کھا چکے ہوں گے۔'
امدادی کارکن کا کہنا تھا کہ جو بات اس قتل و غارت کو خاص بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا شکار ہونے والے لوگوں میں سے اکثر کا تعلق ایک چھوٹے قبیلے، کنامنا سے ہے اور یہ قبیلہ لڑائی میں شامل بھی نہیں تھا۔
'دونوں جانب سے فوجی مارے جا رہے ہیں لیکن جب یہ فوجی کسی گاؤں میں جاتے ہیں تو اپنا غصہ مقامی لوگوں پر نکالتے ہیں۔'
ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجوں کی طرح ٹیگرے کے فوجیوں کو بھی اسی قسم کے الزامات کا سامنا ہے کہ وہ بھی ماورائے قانون قتل اور لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے امہارا اور افار پر چڑھائی کی تھی۔ اس علاقے کی آبادی تقریباً 70 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جو کہ ایتھوپیا کی کل آباد (دس کروڑ) کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
پرانے زمانے کے جنگی حربے
معصوم لوگوں پر مظالم ڈھانے کے علاوہ، ایتھوپیا میں جاری اس جنگ میں شامل تمام فوجوں پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ شہریوں کو زبردستی لڑائی کے لیے بھرتی کرنے اور زمین پر قبضہ کرنے کے لیے "انسانی لہر" کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔
برطانیہ میں مقیم افریقی امور کے ماہر عبدالرحمان سید کہتے ہیں کہ ایتھوپیا میں 'لوگوں کو فوج میں جبری بھرتی کیا جاتا ہے اور صرف چند ہفتوں کی تربیت کے بعد، ان میں سے اکثر کو د شمن کے مورچوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔'
'دشمن ان پر گولیاں برساتے ہیں اور ان میں سے اکثر کو مار دیتے ہیں، لیکن حکام نئے بھرتی کیے جانے والے لوگوں کو 'لہروں کی شکل میں ' اس وقت تک بھیجتے رہتے ہیں جب تک دشمن کے پاس گولہ بارود ختم نہیں ہو جاتا ۔'
'یہ (اس علاقے میں) جنگ کا پرانا ہتھکنڈا ہے جسے پہلی مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نے سنہ 1890 کے عشرے میں اطالوی فوجوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کیا تھا۔ اس وقت اطالوی فوجیوں کو گولہ بارود کی برتری حاصل تھی، لیکن ان کو اتنے زیادہ لوگوں کا سامنا تھا کہ وہ اس علاقے پر قبضہ نہ کر سکے۔
عبدالرحمان سید کہتے ہیں کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں بہت سے لو گ مارے جاتے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق گزشتہ دو برس سے جاری خانہ جنگی میں اب تک سات سے آٹھ لاکھ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
'ہلاکتوں کے اعتبار سے یہ جنگ ایتھوپیا کی تاریخ کی سب سے خوفناک جنگ بن چکی ہیں۔'
اگرچہ امریکہ میں مقیم افریقی امور کے ماہر فیصل روبل اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ٹیگرے کے فوجی عام لوگوں کو انسانی ڈھال یہ لہر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، لیکن اس جنگ میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد کے بارے میں ان کا اندازہ بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔
'اس جنگ کے پہلے دو مراحل میں تقریباً پانچ لاکھ فوجی مارے گئے تھے اور اس تیسرے مرحلے میں شاید ایک لاکھ مزید مارے جا چکے ہیں۔'
مسٹر روبل بتاتے ہیں کہ ٹیگرے کی فوج بہت تربیت یافتہ ہے اور ان میں 'لڑنے کا جذبہ' بھی ہے لیکن ایتھوپیا کی فوج کو تعداد اور فضائی حملوں کی برتری حاصل ہے۔'
ایتھوپیا کے ایک جنرل، جو اب سفات کار ہیں، ان کے مطابق ایتھوپیا کی فوج ہر سال دس لاکھ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کے پاس جنگی جہاز بھی ہیں اور ترکی کے بنے ہوئے ڈرون بھی ان کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ ٹیگرے کے جنگجوؤں کے پاس کوئی فضائیہ نہیں ہے۔'
مسٹر روبل مزید کہتے ہیں کہ ایتھوپیا نے اپنی فضائیہ کا ہیڈ کوارٹر اسمارا میں قائم کر لیا ہے جہاں سے ٹیگرے پر حملے کرنا بہت آسان ہو گیا ہے کیونکہ اسمارا یہاں سے بہت قریب ہے۔
پرانے جھگڑے نمٹانے کا وقت
اریٹیریا کے اس جنگ میں کودنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ٹی پی ایل ایف کو اپنا جانی دشمن سمجھتا ہے۔ ایتھوپیا کے موجودہ وزیر اعظم ایبی احمد کے سنہ 2018 میں اقتدار میں آنے سے پہلے ٹی پی ایل ایف ہمیشہ حکمران اتحاد کا حصہ رہی ہے۔
یاد رہے کہ ٹی پی ایل ایف کی زیر قیادت ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان سرحدی علاقوں میں ایک جنگ ہو چکی ہے جس میں تقریباً 80 ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ بعد میں ایک بین الاقوامی عدالت نے فصیلہ سنایا تھا کہ ایتھوپیا کو متنازعہ علاقہ عارضی طور پر اریٹیریا کے حوالے کر دینا چاہیے، لیکن اس وقت حکومت پر ٹی پی ایل ایف کا غلبہ تھا جس کی وجہ سے حکومت اس فیصلے پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔
حالیہ جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد، نومبر 2020 میں اریٹیریا نے یہ علاقہ اپنے قبضے میں کر لیا اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اریٹیریا کے صدر ایتھوپیا میں وزیر اعظم ایبی احمد کی حکومت کی مدد کر رہے ہیں تاکہ وہ ٹی پی ایل ایف کا خاتمہ کر دے اور حکومت کو کبھی اس تنظیم کی جانب سے خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
عبدالرحمان سید کے مطابق 'اریٹیریا کو خدشہ ہے کہ ٹی پی ایل ایف ایک مرتبہ پھر ایتھوپیا میں طاقت اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے یا وہ اسمارا میں ایک ایسی علاقائی حکومت بنانا چاہتی ہے جس کے ذریعے ٹیگرے کا غریب علاقہ بحر احمر کے ذریعے باقی دنیا سے جُڑا رہے۔'
گزشتہ ہفتوں میں جوں جوں ٹیگرے میں جنگ میں شدت آئی ہے، اریٹیریا کی حکومت `نے بھی سختی شروع کر دی ہے اور وہ ان افراد کا جگہ جگہ پیچھا کر رہی ہے جو جبری بھرتی سے بچنے کے لیے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
اس کی ایک مثال ستمبر میں اس وقت سامنے آئی جب اریٹیریا کے فوجیوں نے اکرُور کے علاقے میں ایک چرچ پر چھاپہ مارا اور مقامی پادری سمیت ان نوجوانوں کو حراست میں لے لیا جو فوج کی طرف سے اعلانات کے باوجود چُھپے رہے اور بھرتی کے لیے پیش نہیں ہوئے۔
پرفیسر ایلکس کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اریٹیریا کے صدر اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں، تاہم وہ جبری بھرتی کیے جانے والے فوجیوں میں سے اکثر کو ٹیگرے کے علاقے میں تعینات نہیں کر رہے ہیں۔
'ٹیگرے میں اریٹیریا کے کچھ فوجی یونٹ تعینات ہیں لیکن جنگ میں حصہ لینے والے اکثر فوجی ایتھوپیا کے ہیں۔تاہم، اس جنگ کی باگ ڈور اریٹیریا کے صدر کے ہاتھ میں ہے کیونکہ ان کے خیال میں وہ ایتھوپیا کے صدر کو دکھانا چاہتے ہیں کہ (باغیوں کے خلاف) جنگ کیسے جیتی جاتی ہے۔ لیکن ٹیگرے کے لوگ یہ لڑائی لڑتے رہیں گے، چاہے انھیں یہ جنگ چاقوؤں اور پتھروں سے لڑنا پڑے کیونکہ یہ ان کے لیے زندگی موت کا سوال ہے۔'
مذاکرات کے امکانات کم ہیں
عبدالرحمان سید کے خیال میں یہ جنگ چار یا چھ محاذوں پر لڑی جا رہی ہے جہاں ایتھوپیا اور اریٹیریا کے دسیوں ہزاروں فوجی ٹیگرے کے قصبے ادیگرات کے گرد و نواح میں تعینات ہیں۔
'یہ لوگ کسی بھی وقت ادیگرات اور مکیلے کے شہروں پر چڑھائی کر سکتے ہیں۔'
مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دونوں فوجوں نے شائر کے علاقے سے تاریخی شہر السوم کے علاوہ ادوا اور ادیگرات کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔'
اگرچہ بین الاقوامی طاقتیں دونوں فریقوں پر زور دے رہی ہیں کہ تنازعہ کو بات چیت کے ذیعے حل کیا جائے، لیکن عبدالرحمان سید کے خیال میں اس بات کے امکانات کم ہیں کہ فریقین بات چیت کریں گے۔
تاریخی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کے حکمران طبقے نے ہمیشہ اقتدار پر قبضہ جنگ کے ذریعے ہی کیا ہے۔ بادشاہوں کا بادشاہ ہمیشہ سب سے زیادہ طاقتور رہنما ہی بنتا ہے اور وہ اس وقت تک حکمران رہتا ہے جب تک کوئی اس سے زیادہ طاقتور پیدا نہیں ہو جاتا۔ یہاں معاملات کو پرامن طریقے سےحل کرنے کی کوئی روایت نہیں پائی جاتی۔ اس کھیل میں کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔'
تاہم، پروفیسر ایلکس کہتے ہیں کہ جنگی بندی کے لیے بین الاقوامی برادری کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
'اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو خطرہ ہے کہ یہاں نسل کشی اور بڑے پیمانے پر بھوک کا راج ہوگا۔`
'علاقے میں فصلوں کی کٹائی کا موسم شروع ہوا چاہتا ہے، لیکن لگتا لہے کہ اریٹیریا کی قیادت میں لڑنے والی افواج نے ٹیگرے کی زمین کو بنجر کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔'