جرمنی ملازمین کی کمی پوری کرنے کے لیے ’موقع کارڈ‘ لانے کے لیے تیار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غیر یورپی لوگوں کے لیے بھی اب ممکنہ طور پر جرمنی میں قانونی طور پر کام کرنا آسان ہونے والا ہے اور اس کی وجہ اس کا اپنا ’موقع کارڈ‘ ہے جو راوں سال کے اواخر میں نافذ العمل ہو جائے گا۔
جرمنی ایک طویل عرصے سے مزدوروں کی کمی کا شکار رہا ہے اور دوسرے ممالک سے لوگوں کو اپنے پاس آنے کی ترغیب دیتا رہا ہے مگر اب اس کی امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلی کے باعث غیر یورپی افراد کے لیے جرمنی آنے کا مرحلہ پہلے سے آسان ہونے کی توقع ہے۔
ستمبر کے اوائل میں جرمنی کے وفاقی وزیرِ محنت و سماجی امور ہیوبرتس ہائل نے اعلان کیا تھا کہ پوائنٹس پر مبنی سسٹم کے ساتھ ایک کارڈ لایا جائے گا جو چانسنکارٹ (موقع کارڈ) کہلائے گا۔
یہ امریکہ میں رائج ’گرین کارڈ‘ کی طرح ہے جو خصوصی مہارتیں رکھنے والے پروفیشنلز کی امریکہ آمد کو سہل بناتا ہے۔
چانسنکارٹ کی خاص بات یہ ہے کہ غیر ملکی افراد اب کام کی تلاش میں جرمنی آ سکیں گے اور ان کے پاس ویزا کے حصول کے لیے جرمن ملازمت ہونا لازمی نہیں ہو گا۔
دنیا کے کئی ممالک میں ورک ویزا حاصل کرنے کے لیے مذکورہ ملک میں ملازمت کی پیشکش ہونا لازمی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اب غیر ملکی افراد کو جرمنی سے باہر رہ کر یہاں ملازمت کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس نئے کارڈ سسٹم کے تحت درج ذیل چار میں سے کم از کم تین خصوصیات کے حامل افراد کو جرمنی آ کر یہاں کام تلاش کرنے کی اجازت ہو گی:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
- کالج ڈگری
- جرمن زبان پر عبور یا جرمنی میں رہنے کا تجربہ
- تین سالہ کام کا تجربہ
- 35 برس سے کم عمر
اس کے علاوہ اُنھیں یہ بھی ظاہر کرنا ہو گا کہ جب تک اُنھیں جرمنی میں ملازمت نہیں مل جاتی، تب تک وہ اپنا خرچ اٹھا سکیں گے۔
قانون میں تبدیلی کیوں کی جا رہی ہے؟
’یورپ کا انجن‘ کہلانے والا یہ ملک بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کا حامل ہے۔ یہاں کی تقریباً 20 فیصد آبادی یہاں سے باہر پیدا ہوئی جبکہ کم از کم 25 فیصد کے خاندان کہیں اور سے آئے ہیں۔
یہ ملک 1970 کی دہائی اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں مشرقی یورپی ممالک کا بلاک ختم ہونے، اور حال ہی میں شام کے بحران کے دوران تارکینِ وطن کی بڑی تعداد کو قبول کر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی کے انسٹیٹیوٹ آف لیبر اکنامکس (آئی زیڈ اے) میں سینیئر ریسرچر الف رینے نے بتایا: ’جرمنی میں (عالمی) جنگ کے بعد جو معاشی تیزی آئی وہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کے باعث تھی۔‘
اس ملک کو اس وقت لاحق سب سے بڑا مسئلہ عمر رسیدہ افراد کی آبادی کا ہے جس کی وجہ سے اگلے چند سالوں میں جاب مارکیٹ میں اتنے لوگ آئیں گے نہیں جتنے کہ اس میں سے نکل جائیں گے۔
جرمن اکنامک انسٹیٹیوٹ (آئی ڈبلیو) میں خاندانی پالیسی اور ترکِ وطن کے معاملات پر مہارت رکھنے والے ویڈو گیس تھون کہتے ہیں کہ ’مزدوروں کی کمی جرمنی میں ملازمت کے تمام شعبوں کو متاثر کر رہی ہے مگر اس وقت سب سے زیادہ مسائل سائنسی، تکنیکی، طبی اور نرسنگ کے شعبوں میں ہیں۔‘
معیشت پر اس کے اثرات
اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو اس کے جرمن معیشت پر اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
گیس تھون کہتے ہیں کہ ’اگر بڑے پیمانے پر مزدوروں کی کمی کو پورا نہ کیا گیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ کمپنیاں اپنی پوری صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہیں۔ صنعتوں میں اس کا مطلب فیکٹریوں کی ملک سے باہر منتقلی اور جرمنی میں اشیا کی رسد میں کمی ہو گا۔‘
الف رینے بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔
’جرمنی میں نوجوان آبادی اور مزدوروں کی کمی پہلے ہی جرمن معیشت کی ترقی میں رکاوٹ بن رہی تھی پر اب یہ باقاعدہ طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ کمی اب کم اجرتوں والے شعبوں تک بھی پہنچ گئی ہے۔‘
کن شعبوں میں مواقع موجود ہیں؟
ملازمین کی کمی سے کئی شعبے اور کمپنیاں متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن آف جرمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق 56 فیصد جرمن کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اہل ملازمین کی کمی کے باعث ان کا کاروبار متاثر ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسوسی ایشن کے ترجمان تھامس رینر کہتے ہیں کہ ’تعمیراتی اور ہوٹلنگ کی صنعت، اور طبی و سماجی خدمات سمیت ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔‘
دیگر مقامی میڈیا اداروں کے مطابق ملک میں الیکٹریشنز، ماہرینِ معیشت، پیداواری معاونین، سیلز مینیجرز، ماہرینِ تعمیرات اور سول انجینیئرز کی بھی کمی ہے۔
وزیرِ محنت ہیوبرتس ہائل کے مطابق یہ کارڈ محدود تعداد میں جاری کیے جائیں گے اور ان کی تعداد لیبر مارکیٹ کی ضروریات پر منحصر ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
گیس تھون نے کہا کہ ’یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ کیا جرمنی نوجوان کارکنوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گا یا نہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’جرمنی کا امیگریشن قانون پہلے ہی یہاں تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں آنے والوں کے لیے کافی گنجائش کا حامل ہے مگر انتظامی مراحل بہت طویل ہیں اور ملک سے باہر موجود لوگوں کو کبھی کبھی یہ مراحل سمجھنے میں مشکل بھی ہوتی ہے۔‘
زبان اور دفتری تاخیر کے مسائل
مگر کئی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک کو دو ایسے بڑے مسائل کا سامنا ہے جن کی وجہ سے بہت سی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ پہلا زبان کی دشواری کا ہے اور دوسرا مسئلہ کسی یونیورسٹی یا دوسری تعلیمی سند کی جانچ کی راہ میں حائل انتظامی دشواریاں ہیں۔
الف رینے کہتے ہیں کہ ’جرمن زبان بہت بڑی دشواری اور بین الاقوامی مقابلے میں رکاوٹ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زبان کے معاملے پر وہ کہتے ہیں کہ اسے پوری طرح حل اگر نہیں کیا جا سکتا تو کچھ حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
'اس کے علاوہ جرمنی بیرونِ ملک سے حاصل کی گئی اسناد کو قبول کرنے میں بہت ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا ہے۔‘
الف رینے کہتے ہیں کہ ’طریقہ کار کو تیز تر اور ڈیجیٹائز کرنا چاہیے اور ضوابط کی رکاوٹوں کو کم کرنا چاہیے کیونکہ ضروری نہیں کہ جرمن معیارات کے ہم پلّہ معیارات دنیا میں ہر جگہ رائج ہوں۔‘
اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی ہے جو بین الاقوامی مقابلے کی فضا میں جرمنی کے سامنے آئے گا۔
گیس تھون کہتے ہیں کہ ’دیگر ممالک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہنر مند مزدوروں کی کمی ہے اور وہ بھی ان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انگریزی بولنے والے ممالک کو یہ فائدہ ہے کہ دنیا میں بھر میں زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ویسے ہی اچھی انگلش بول لیتے ہیں۔‘
چھوٹی کمپنیاں، بڑے کاروبار
جرمنی میں خاص طور پر ایسی بہت سی کمپنیاں ہیں جن میں 100 سے 200 لوگ کام کرتے ہیں اور وہ اپنے چھوٹے سائز کے باوجود بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر لیتی ہیں اور برآمدات کرتی ہیں۔
ملک کا کاروباری شعبہ کافی حد تک چھوٹے اور درمیانے حجم کی کمپنیوں پر مبنی ہے اور ماہرین کے مطابق یہی جرمنی کی معیشت میں 25 فیصد کا حصہ ڈالتی ہیں۔
یہ اکثر ایسے خاندانی کاروبار ہیں جو طویل المدتی منصوبوں، اپنے عملے کی تربیت میں زبردست سرمایہ کاری، سماجی ذمہ داری کے بلند احساس اور وسیع تر علاقائی موجودگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔











