آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ: پاکستانی نژاد خاندان کے قتل کی گتھی 10 برس بعد بھی سلجھ نہیں سکی
ایک پاکستانی ڈاکٹر کی اہلیہ اور ان کے پانچ بچوں کے برطانیہ میں قتل کی تحقیقات کرنے والی تفتیش کار کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں اب بھی بہت سی گتھیاں نہیں سلجھ سکی ہیں۔
ڈاکٹر عبدالشکور کی اہلیہ ڈاکٹر صباح عثمانی، ان کے بچے 12 سالہ حرا، نو سالہ منیب اور چھ سالہ ریّان سنہ 2012 میں ہارلو میں ان کے گھر میں آگ لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔
دیگر دو بچے 11 سالہ صہیب اور تین سالہ ماہین تین دن بعد ہسپتال میں چل بسے۔
بارن میڈ میں واقع اس گھر کی نچلی منزل پر یہ آگ اس وقت شروع ہوئی جب بالائی منزل پر اس خاندان کے افراد آرام کر رہے تھے۔
ڈاکٹر شکور نے مدد کے حصول کے لیے کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی لیکن وہ اُنھیں بچا نہیں پائے۔ دھوئیں میں سانس لینے کی وجہ سے اُن کی طبعیت کافی خراب ہو گئی تھی۔
پولیس کا خیال ہے کہ یہ آگ چوروں نے جان بوجھ کر لگائی تھی۔
ڈیٹیکٹیو چیف انسپکٹر لوئیز میٹکاف نے اس واقعے میں اموات کے بارے میں کہا کہ یہ ’برطانیہ میں غیر معمولی ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ پولیس اب بھی کئی اہم پہلوؤں پر غور کر رہی ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
- ایک سفید فام نوجوان کو اس علاقے سے سائیکل پر دور جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ وہ شخص اب بھی سامنے نہیں آیا ہے اور پولیس اس سے بات کرنا چاہتی ہے۔
- ٹو پِن پلگ والا ڈاکٹر شکور کا لیپ ٹاپ لے جایا گیا اور دوبارہ کبھی نہیں ملا۔ پولیس اس کا پتا لگانا چاہتی ہے۔
- ہارلو کے ایک مقامی سٹور میں اس آگ کے بارے میں ایک ہاتھ سے لکھی گئی پرچی رکھی گئی۔ پولیس تحریر کنندہ سے بات کرنا چاہتی ہے۔
- اموات کے کچھ دن بعد ایک نامعلوم کالر نے ایسیکس پولیس کو اس آگ کے متعلق فون کال کی۔ تفتیش کار جاننا چاہتے ہیں کہ کال کس نے کی تھی۔
انسپکٹر لوئیز میٹکاف نے کہا: ’اب میرا کام ہر چیز پر نظرِ ثانی کر کے یہ دیکھنا ہے کہ کہیں ہم نے کوئی کسر تو نہیں چھوڑی۔‘
یہ بھی پڑھیے
’یہ غیر معمولی ہے کہ چوری کے بعد گھر کو آگ لگا دی جائے۔ اس کیس میں اب بھی ایسے کئی حقائق ہیں جو ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں اس لیے افسوسناک طور پر یہ اب بھی غیر حل شدہ ہے۔'
اس واقعے کے بعد ڈاکٹر شکور پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔
انسپکٹر میٹکاف نے کہا: ’وہ آگے بڑھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے ان سے مل کر کیس پر بات کر کے اچھا لگا اور ہم ساتھ کام کریں گے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ اب اس واقعے کو 10 برس گزر چکے ہیں۔ ’وقت بدل جاتا ہے، وفاداریاں بدل جاتی ہیں۔ ہارلو میں لوگوں کو واقعی اپنے ضمیر کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر وہ کچھ جانتے ہیں تو ہمیں بتائیں۔‘
اُنھوں نے کہا: ’میں جانتی ہوں کہ کسی کو کچھ معلوم ہے، اُنھیں ہمیں بتانا چاہیے۔‘