شیخوپورہ: آٹھ افراد کے قتل کی رات کی کہانی، آغاز سے انجام تک

    • مصنف, احمد اعجاز
    • عہدہ, صحافی، مصنف

مُریدکے نارووال روڈ پر ایک گاؤں کوٹ عبداللہ ہے۔ گاؤں سے دونوں شہروں کا فاصلہ تقریباً یکساں 40 کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی سڑک کے دونوں اطرف 20 اور 80 فیصد کے تناسب سے منقسم ہے۔

جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب نو سے 10 بجے کے درمیان لاہور کے علاقے شاہدرہ سے آنے والا ایک نوجوان بیگ کندھے سے لٹکائے کوٹ عبداللہ بس سٹاپ پر اُترتا ہے، بس سے اُتر کر گھر کی طرف بڑھتا ہے، تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں کلہاڑی، لوہے کا راڈ لے کر گھر سے نکل کر گلی میں قدم رکھتا ہے۔

گاؤں کے چند لوگوں کی نظر پڑتی ہے، وہ سب گھبرا جاتے ہیں اور فونز پر ایک دوسرے کو اطلاع دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس نوجوان کے پیچھے لپک پڑتے ہیں۔ نوجوان گلیوں میں بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی اثنا میں بجلی چلی جاتی ہے اور اندھیرا چھا جاتا ہے۔ گاؤں کی گلیاں شور اور خوف سے بھر جاتی ہیں۔ نوجوان اندھیرے میں کہیں غائب ہو جاتا ہے اور اُس کے تعاقب کرنے والے اپنے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

یہ نوجوان اندھیرے میں چھپ کر لوگوں سے بچ کر اپنے پُرانے گاؤں کوٹ راجپوتاں کا رُخ کرتا ہے۔ راستے میں ایک نالہ ڈیک کی پُلی کو عبور کرتا ہے، کچھ ہی فاصلے پر کھیتوں میں سوئے ہوئے چچا بھتیجے پر وار کر دیتا ہے اور آناً فاناً دونوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے۔

نوجوان مقتولین کی جیبیں ٹٹولتا ہے، جو کچھ ہاتھ لگتا ہے، نکالتا ہے اور آگے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔

مقتولین کے پاس رائفل بھی تھی مگر اُس کے حفاظتی استعمال کا اُنھیں موقع ہی نہ مل سکا۔ یہاں سے یہ ساتھ ہی گاؤں ہچڑ میں داخل ہو جاتا ہے جو جائے وقوعہ سے محض آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

اس گاؤں میں لگ بھگ 800 گھر ہیں اور اس کی آبادی اندازے کے مطابق ساڑھے تین ہزار سے چار ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

جب یہ گاؤں میں داخل ہوتا ہے تو تقریباً رات ساڑھے 12 کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ گاؤں مکمل طور پر خاموشی کی چادر میں ڈوبا ہوا ہے۔ گاؤں کے لوگوں کی بدقسمتی کہ کتے تک خاموش اور سوئے ہوئے تھے۔

یہاں نوجوان سوئے ہوئے چار لوگوں پر باری باری حملہ آور ہوتا ہے۔ چچا بھتیجا ایک حویلی میں سوئے ہوئے تھے، پہلے اُن پر دھاوا بولتا ہے۔ بعدازاں ساتھ ہی ایک شخص اور تھوڑے ہی فاصلے پر کھلے میں سوئے 20 سے 22 سالہ نوجوان جو چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور کچھ دِنوں میں اُس کے ہاتھوں میں مہندی سجنے والی تھی، کو موت کے گھاٹ اُتارتا ہے اور گاؤں سے نکل کر آگے پیٹرول پمپ پر جا پہنچتا ہے۔

گاؤں کا پیٹرول پمپ بالکل ہی تنہا اور رش سے عاری۔ یہاں ایک نوجوان کو قتل کرتا ہے اور اس کی جیب سے چابیاں نکال کر الماری سے دِن بھر کا جمع شدہ کیش نکالتا ہے اور واپس کوٹ عبداللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ روڈ پر ایک پیٹرول پمپ پر پہنچتا ہے اور ٹائر شاپ پر سوئے نوجوان پر وار کرتا ہے۔ اُس وقت رات کے ڈھائی بج رہے ہوتے ہیں۔

اسی اثنا میں لاہور سے ڈیوٹی سرانجام دے کر آنے والا ایک پولیس کا سپاہی ظفر اقبال سٹاپ پر اُترتا ہے اور پیٹرول پمپ سے مختصر فاصلے پر ایک کریانہ سٹور پر کھڑی موٹر سائیکل اُٹھاتا ہے اور اپنے گھر جانے سے پہلے پیٹرول پمپ پر تیل ڈلوانے آتا ہے تو آگے نوجوان کو کھڑا پاتا ہے۔

ظفر اقبال اس کو کہتا ہے کہ موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈال دو۔ وہ جواب دیتا ہے کہ پیٹرول ختم ہو گیا ہے۔ اسی دوران جب وہ اُس نوجوان کو غور سے دیکھتا ہے تو اُسے پسینے میں ڈوبا اور لوہے کا راڈ تھامے پاتا ہے۔

آناً فاناً نوجوان اُس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ظفر اقبال موٹر سائیکل بھگا کر تھوڑے فاصلے پر پہنچ کر اُس کو للکارتا ہے اور اپنی پستول نکال کر تان لیتا ہے مگر نوجوان پیٹرول پمپ پر کھڑی موٹر سائیکل کو سٹارٹ کر کے بھاگ پڑتا ہے۔

ظفر اقبال ون فائیو پر کال کرتا ہے۔ اس دوران اور لوگ بھی جمع ہو جاتے ہیں اور یہ نوجوان کا تعاقب کرتے ہیں۔ کچھ ہی فاصلے پر نوجوان ایک مدرسے میں گھس جاتا ہے۔ یہاں ظفر اقبال اپنی موٹر سائیکل پر پہنچ جاتا ہے اور اس کو قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں باقی لوگوں کی مدد سے بعد میں پولیس بھی آ جاتی ہے اور یہ قابو میں آ جاتا ہے۔

یہ نوجوان آخر تھا کون؟

کوٹ عبداللہ کے یہ نوجوان فیض رسول بھٹی ہیں اور ان کے والد کا نام اعجاز احمد عرف ججی تھا جو چند ماہ قبل وفات پا چکے ہیں۔ فیض رسول کی چار بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ ان کی بوڑھی ماں ایک نجی سکول میں اور چند ایک گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔

فیض رسول بھٹی بی ایس سی کر چکے ہیں۔ انھوں نے میٹرک میں گاؤں کے سکول میں پہلی پوزیشن لی تو ایف ایس سی میں بھی انھیں بہتر طالبِ علم تصور کیا گیا۔

مذکورہ واقعے سے پہلے یہ گاؤں کے ایک سکول میں پڑھاتے بھی رہے۔ ان کی ایک بہن شاہدرہ میں سٹاف نرس ہیں۔ ان کا خاندان لگ بھگ 20 سے 25 برس پہلے کوٹ راجپوتاں سے کوٹ عبداللہ آ کر رہائش پذیر ہوا تھا۔

ان کے والد جوانی میں کبڈی کے کھلاڑی رہے، بعد میں روزی روٹی کے لیے چھوٹے موٹے کام کرنے کے علاوہ وین بھی چلاتے رہے، پھر نشے کے عادی ہو کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے اور ایک روز مٹی کی چادر اُوڑھ لی ہے۔ فیض رسول بھٹی کے ایک چچا اور کزن کوٹ راجپوتاں میں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس لرزہ خیز کہانی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟

یہ کہانی زبیر نامی شخص کی زبانی شروع کرتے ہیں۔ زبیر اس نوجوان کے گاؤں کے رہائشی ہیں اور آٹھویں کلاس تک یہ نوجوان کے اُستاد بھی رہے ہیں۔

زبیر نے ہمیں بتایا کہ ’چار بجے کا وقت تھا۔ میں اس کے گھر گیا۔ فیض رسول کے بھائی نے بتایا کہ وہ اندر کمرے میں ہے۔ یہ اُس وقت ماں سے جھگڑ کر اسے زخمی کر چکا تھا۔ میں گیٹ پر کھڑا تھا۔ یہ پیچھے سے آیا اور لکڑی کا بڑا سا ٹکڑا میرے سرپر مارا۔ میں نیچے گر کر بے ہوش ہو گیا۔‘

اس کے بعد کی کہانی میاں ارشد بیان کرتے ہیں۔ میاں ارشد کوٹ عبداللہ کے رہائشی ہیں اور اپنے علاقے میں سیاسی طور پر سرگرم رہتے ہیں۔

وہ ہمیں بتاتے ہیں ’جس دِن یہ ماں کو زخمی کرتا ہے، اُسی دِن ماں سمیت دو عورتوں اور چار مردوں کو زخمی کرتا ہے ۔گاؤں کے لوگ اس کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ تھک کر اپنے گھر کے سامنے خاموش ہو کر آ کر بیٹھ جاتا ہے۔ لوگ تھپڑ مارتے ہیں اور پولیس کو اطلاع کرتے ہیں مگر جب پولیس نہیں آتی تو کوٹ راجپوتاں میں مقیم چچا کو اطلاع دیتے ہیں اور وہ آ کر اسے لے جاتے ہیں۔‘

میاں ارشد کے مطابق وہ اس سارے معاملے میں موقع پر موجود تھے۔ اس سارے واقعے کی تصدیق مقامی صحافی عاطف افتخار بھٹی بھی کرتے ہیں جبکہ اس واقعے پر باریک بینی سے کام کرنے والے شیخوپورہ کے صحافی وحید مغل بھی یہی کہانی سناتے ہیں۔

میاں ارشد، عاطف افتخار بھٹی اور وحید مغل کے مطابق فیض رسول کوٹ راجپوتاں میں ایک رات گزار کر شاہدرہ میں اپنی بہن کے پاس پہنچتے ہیں اور اُن سے مارپیٹ کر کے ان کا پرس چھین لیتے ہیں اور واپس گھر کے لیے بس سٹینڈ کی جانب پہنچتے ہیں مگر راستے میں رکشے والے پر حملہ کرتے ہیں۔ وہاں باقی رکشے والے مل کر اُس کو خوب مارتے ہیں جس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑتے ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔

وحید مغل کے مطابق یہاں جب اُنھیں ہوش آیا تو لوگوں نے ابتدائی طبی امداد کے بعد اُنھیں گھر کی طرف روانہ کر دیا۔ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب وہ کوٹ عبداللہ بس سٹاپ پر آئے اور گھر کا راستہ لیا۔

گاؤں کے مقامی لوگوں اور صحافیوں سمیت فیض رسول کے استاد ناصر مغل اور جہاں سے میٹرک کیا تھا، اُس نجی سکول کے مالک پرویز اقبال نے جو کہانی سنائی، وہ کچھ یوں ہے: فیض رسول کے والد چند ماہ قبل فوت ہوئے۔ کچھ دِن قبل کسی نے فیض کو کہا کہ ان کے والد کی قبر کا ایک حصہ بیٹھ چکا ہے۔

یہ قبرستان پہنچے اور دیکھا کہ بارش کی وجہ سے قبر کی ایک سِل نیچے کو جھک گئی ہے۔ انھوں نے سِل تبدیل کی اور مبینہ طور پر والد کی قبر کو کھود دیا اور نماز جنازہ پڑھی۔ پھر اُنھوں نے گھر آ کر یہ واقعہ ماں کو سنایا۔ واقعہ سنانے کے درمیان ہی اچانک طیش میں آ کر ماں پر حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ اس کے بعد زبیر نامی شخص آتا ہے جس کو یہ گھر کے دروازے پر سر کے اُوپر ضرب لگا کر زخمی کر دیتا ہے۔

فیض رسول بھٹی شروع سے ہی ایسا تھا؟

گاؤں کے لوگوں کی مجموعی رائے ہے کہ وہ لوگوں سے اتنا گھلتے ملتے نہیں تھے اور نہ ہی ان کا کوئی خاص دوست تھا۔ ناصر مغل جو ایف ایس سی میں اس کو کیمسٹری پڑھاتے رہے، کا کہنا تھا ’وہ 2018 سے 2022 تک مجھ سے پڑھتا رہا۔ اس کی بہن بھی میری شاگرد تھی۔ اس کی کوئی شکایت کبھی نہ سنی۔ کھیلوں میں حصہ لیتا تھا۔ معاشی طور پر یہ خاندان کمزور تھا مگر متشدد روّیوں کا حامل نہیں تھا۔‘

پرویز اقبال کے سکول میں وہ چند ماہ پڑھاتا رہا ہے۔ اُن کے مطابق بھی ’کبھی کسی نے اس کی کوئی شکایت نہیں کی تھی۔‘

عاطف افتخار بھٹی کا کہنا تھا ’میرے سکول میں ان کے والد بچوں کی پک اینڈ ڈراپ وین کے ڈرائیور تھے مگر بعد میں نشے میں پڑ گئے تو نوکری بھی جاتی رہی۔‘

میاں ارشد کا کہنا تھا کہ ’نشے کی بدولت ہی ان کے والد کی موت ہوئی جبکہ صحافی وحید مغل کا کہنا تھا ’میں نے گاؤں کے لوگوں اور پڑوسیوں سے جان کاری لی مگر چند دِن پہلےتک سب کچھ معمول کے مطابق تھا ۔بس اچانک ہی سب کچھ ہوا۔‘