ایشیا کپ تنازع: لیسٹر میں انڈین اور پاکستانی باشندوں میں کشیدگی، 15 افراد کو گرفتار کر لیا گیا

برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہفتے کے آخر میں بدامنی پھیلنے کے بعد ’مزید کشیدگی روکنے‘ والے آپریشن کے دوران پندرہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مشرقی لیسٹر کے کچھ علاقوں میں سنیچر کو ایک بڑی تعداد میں پاکستانی اور انڈین باشندوں کے آمنے سامنے آنے اور ’نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی‘ کرنے کے باعث بدنظمی پیدا ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اتوار کو ایک اور احتجاجی مظاہرہ ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ تازہ ترین احتجاج میں اتوار کی شام، تقریباً 100 افراد کا ایک گروپ شہر میں جمع ہوا تھا۔
یہ افراد بیلگریو روڈ پر جمع ہوئے، مظاہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حالیہ کشیدگی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
پولیس نے سڑک بند کر دی اور مظاہرین میں سے کچھ نے تھوڑی دیر کے لیے پولیس لائنوں سے گزرنے کی کوشش کی، انھیں شکایت تھی کہ انھیں مارچ کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

اس سے قبل مشرقی لیسٹر کے کچھ علاقوں میں بدنظمی پیدا ہونے کے بعد پولیس اور پاکستانی و انڈین کمیونٹی رہنماؤں نے سب سے پُرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔
آن لائن فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ سنیچر کی شام سینکڑوں لوگ، خاص طور پر مرد، سڑکوں پر نکل آئے۔
28 اگست کو ایشیا کرکٹ کپ میں انڈیا اور پاکستان کے مابین کھیلے جانے والے کرکٹ میچ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کی یہ تازہ ترین کڑی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا تھاکہ وہ صورتحال کو ’قابو میں کر رہے ہیں‘ اور عام شہریوں سے کہا کہ وہ اس میں ملوث نہ ہوں۔
عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے ایک ویڈیو میں کہا کہ ’ہمیں مشرقی لیسٹر کے کچھ حصوں میں بد نظمی کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس اہلکار موجود ہیں، ہم اس صورتحال کو کنٹرول کر رہے ہیں، وہاں اضافی نفری بھی بھجوائی جا رہی ہے۔ پولیس کو کراؤڈ کو منتشر کرنے، شہریوں کو روکنے اور تلاشی لینے جیسے اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔‘
پولیس چیف نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’براہ کرم اس میں شامل نہ ہوں، ہم امن کے لیے یہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔‘
ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سنیچر کے روز احتجاج کر رہے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ احتجاج تازہ ترین تنازعے کا باعث بن گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مشرقی لیسٹر میں کمیونٹی کے سربراہان احتجاج کی جگہ پر پولیس افسران کے ساتھ موجود تھے اور وہ سب لوگوں کو پرامن رہنے اور گھروں کو واپس لوٹ جانے کا کہہ رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGoogle
یہ تنازع ہے کیا اور یہ کیسے شروع ہوا؟
خیال رہے کہ دبئی میں ہونے والے ایشیا کرکٹ کپ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہنگامی آرائی اور مخالفانہ نعری بازی کے بعد نفرت انگیز جرائم کے تحت ہونے والی تحقیقات کے دوران پانچ افراد کو گرفتار اور درجنوں شہریوں سے تفتیش کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں 'نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی' کے مناظر دیکھنے میں آئے جس کے بعد پولیس نے بھی تفتیش شروع کر دی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایشیا کپ کا یہ پہلا میچ تھا جو ایک سخت مقابلے کے بعد انڈیا نے جیت لیا تھا۔
پولیس اہلکاروں کو شہریوں کو روک کر تلاشی لینے کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے۔ اختیارات کا اطلاق شہر کے بیلگریو، رشی میڈ اور سپنی ہل کے علاقوں میں ہوا۔
لیسٹرشائر کے پولیس حکام نے کہا کہ ’ایک فعال پولیسنگ منصوبے کے تحت غیر سماجی رویے، کرائم اینڈ پولیسنگ ایکٹ 2014 کی دفعہ 34 اور 35 کے تحت ہجوم کو منتشر کرنے کے اختیارات منگل کی رات آٹھ بجے سے بدھ صبح چھ بجے تک نافذ کیے گئے تھے۔
پولیس اہلکاروں کو اس کے علاوہ کرمنل جسٹس اینڈ پبلک آرڈر ایکٹ 1994 کی دفعہ 60 کے تحت بھی اختیارات دیئے گئے تھے جس کے تحت افسران کو کسی مخصوص علاقے میں کسی شخص کو کوئی وجہ بتائے بغیر روکنے اور تلاشی لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
پولیس نے تصدیق کی کہ مجموعی طور پر 131 افراد کو روکا گیا اور ان کی تلاشی لی گئی جبکہ 18 افراد کو منتشر کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہLEICESTER MEDIA
اس کے علاوہ چار گرفتاریاں بھی ہوئیں تھیں:
- لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ شخص کو ایک کنڈکٹڈ انرجی ڈیوائس (سی ای ڈی) رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
- لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ شخص کو جارحانہ ہتھیار رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
- ایک 17 سالہ شخص کو جارحانہ ہتھیار رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
- لیسٹر سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ شخص کو شراب نوشی کی حالت میں ڈرائیونگ کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
قائم مقام چیف کانسٹیبل روب نکسن نے پولیس ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا جس میں پولیس کے اضافی اختیارات دیئے جانے کی وضاحت کی گئی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ ہمارے شہر کے کچھ حصوں میں کافی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کشیدگی کا باعث انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد 28 اگست کو پیش آنے والا ایک واقعہ تھا۔ جس کے بعد مزید دو واقعات ہوئے ہیں، ایک برج روڈ پر اور دوسرا کوٹیسمور روڈ کے علاقے میں۔‘
پولیس کا کہنا تھا کہ ’ان تینوں واقعات کی الگ الگ تحقیقات پوری ذمہ داری سے جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLEICESTER MEDIA
انھوں نے کہا کہ پولیس نے 28 اگست کو ہونے والے واقعے سے مبینہ طور پر منسلک پانچ افراد کی نشاندہی کی ہے اور صرف ان افراد کا نام شامل تفتیش ہے۔
راب نکسن نے کہا کہ پولیس کو اختیارات استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ’لہذا اگر لوگ آوارہ گردی کر رہے ہیں اور چہرے کو ڈھانپ کر ہتھیار لے کر جا رہے ہیں تو میں توقع کروں گا کہ میرے افسران ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کا باہر نکل کر لیسٹر کی سڑکوں پر تشدد کرنا بالکل ناقابل قبول ہے۔ اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
’ہمیں اس واقعے میں کسی بھی اضافے کو روکنے کے لیے مل کر متحرک ہونے کی ضرورت ہے اور میں آپ کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ ہمارے ساتھ کام کریں اور شہر میں پرسکون ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری مدد کریں۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہLEICESTER MEDIA
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ کے بعد لیسٹر میں ہجوم جمع ہونے پر ایک پولیس افسر اور ایک عام شہری پر حملہ کرنے کا ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا تھا۔
حکام کے مطابق پولیس کی نفری کو اتوار کے روز بیلگریو کے علاقے ہجوم جمع ہونے کی اطلاع کے بعد طلب کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک جوڑے پر حملہ کیا گیا جس میں ایک 28 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا۔
نفری طلب کیے جانے کے بعد لیسٹرشائر پولیس نے بتایا کہ ایشیا کپ میچ کے اختتام کے بعد افسران نے میلٹن روڈ، شافٹسبری ایونیو اور بیلگریو روڈ کے علاقے میں گشت شروع کیا۔
میچ کے بعد پولیس حکام نے کہا کہ اسے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی 'نسل پرستانہ اور نفرت انگیز نعرہ بازی' کی متعدد ویڈیوز سے آگاہ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جب بھی کسی دوسرے ملک میں یا برطانیہ کے اندر کوئی میچ ہوتا ہے تو دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں انتہائی جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے۔
لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں مانچسٹر، برمنگھم، لیسٹر، بریڈ فورڈ اور دیگر جہگوں پر جہاں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت آباد ہے وہاں ایسے موقعوں پر اکثر کشیدگی دیکھنے میں آتی ہے لیکن نعرے بازی سے بات کبھی آگے نہیں بڑھی۔
ایک ٹویٹ میں مشرقی لیسٹر پولیس کی ٹیم نے کہا: ’ذمہ داروں کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ہم اس نعرہ بازی کو نفرت انگیز جرم سمجھ رہے ہیں اور جس کسی نے بھی حصہ لیا ہے اس سے قانون کے مطابق اس سے نمٹا جائے گا۔‘
پولیس کی شہریوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت
پولیس نے شہریوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے اور یہ بتایاکہ وہاں پولیس اپنا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
گرین لین روڈ کی ایک رہائشی نے بتایا کہ انھوں نے سنیچر کی شام جو کچھ دیکھا وہ بہت پریشان کن تھا۔ ساری صورتحال 'واقعی قابو سے باہر لگ رہی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہMAJID FREEMAN
ان کے مطابق پولیس وہاں موجود تھی لیکن ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کے مطابق لوگ اب بھی بہت خوفزدہ اور غیر یقینی محسوس کر رہے تھے، اور حال ہی میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس سے گذشتہ چند ہفتوں میں بہت زیادہ تناؤ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
لیسٹر سے رکن اسمبلی کلوڈیا ویبے نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں کو واپس چلے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت غصے پر قابو پانے اور پرامن رہنے کا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دلائل کو اچھے تعلقات رکھ کر مضبوط بنا سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ آپ کے خاندان آپ کے تحفظ سے متعلق پریشان ہوں گے، لہٰذا براہ مہربانی جو پولیس کہہ رہی ہے ایسا ہی کریں کیونکہ وہ کشیدگی ختم کرنے کی کوشش اور پرامن رہنے کی اپیل کر رہی ہے۔
مشرقی لیسٹر کے مقامی پولیس کمانڈر، انسپکٹر یعقوب اسماعیل نے کہا کہ ’مقامی اہلکار علاقے میں نوجوانوں، کمیونٹی رہنماؤں اور دیگر لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی تقریب کا اہتمام منصوبہ بندی اور مکمل احتیاط کے ساتھ کیا جائے۔








