کرکٹ ورلڈ کپ 1975: ویسٹ انڈیز کی فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے 350 پاؤنڈ فیس، بولر کی گیند سے زخمی بلے باز سے پولیس کا رابطہ

ورلڈ کپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

21 جون کو عام طور پر سال کے طویل ترین دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ سنہ 1975 میں بھی یہ اسی طرح کا ایک طویل دن تھا لیکن اس طوالت کو لارڈز کے تاریخی میدان میں موجود کھلاڑیوں اور 26 ہزار تماشائیوں نے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کیا تھا کیونکہ صبح گیارہ بجے شروع ہونے والے میچ کا اختتام رات پونے نو بجے ہوا تھا۔

لیکن اس سے زیادہ تاریخی لمحہ اور کیا ہو سکتا تھا کہ جب ویسٹ انڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈ نے ایم سی سی کے صدر ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ سے چمکتی ٹرافی وصول کی تھی۔

یہ موقع تھا ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کے اولین ورلڈ کپ کے فائنل کا جس میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی ٹیمیں مدمقابل تھیں اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم 17 رنز سے کامیابی حاصل کر کے ون ڈے کرکٹ کی پہلی فاتح عالم ٹیم کہلائی تھی۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈ کے لیے ایسا نہیں تھا کہ یہ جیت طشتری میں رکھ کر انھیں پیش کر دی گئی ہو بلکہ یہ ایک اعصابی جنگ تھی۔ لائیڈ کے لیے دوہری خوشی بہرحال یہ ضرور تھی کہ اس جیت کے مرکزی کردار وہ خود تھے کیونکہ انھی کی سنچری نے ویسٹ انڈیز کو جیت کے قابل بنایا تھا۔

کلائیو لائیڈ اپنی کتاب ’لِیونگ فار کرکٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں جب بیٹنگ کے لیے گیا تو صرف پچاس کے سکور پر رائے فریڈرکس، گورڈن گرینج اور کالی چرن آؤٹ ہو چکے تھے لیکن جب میں نے بیٹنگ شروع کی تو مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ آج یہ میرا دن ثابت ہو گا۔

’مجھ سے کتنی ہی بار یہ پوچھا جا چکا ہے کہ میرے کیریئر میں اس اننگز کا کیا مقام ہے؟ سچ بات تو یہ ہے کہ میں موازنے پر یقین نہیں رکھتا۔ میں اسے اپنی ان اننگز میں شامل کرتا ہوں جنھیں کھیل کر مجھے بہت مزہ آیا۔‘

کلائیو لائیڈ کس بات پر ناراض؟

ویسٹ انڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنویسٹ انڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈ

کلائیو لائیڈ کہتے ہیں کہ ’عالمی کپ جیت کر ہم نے اپنے ملک میں لوگوں کو خوشی کا بہترین موقع فراہم کیا تھا لیکن مجھے ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے رویے سے بہت مایوسی ہوئی تھی۔ کرکٹ بورڈ کی طرف سے اس کامیابی پر کھلاڑیوں کی کوئی پذیرائی نہیں کی گئی، ماسوائے اس کے کہ کھلاڑیوں کو پہلے سے طے شدہ 350 پاؤنڈ فیس تھما دی گئی۔‘

’کرکٹ بورڈ نے خود تو کچھ نہیں کیا بلکہ سب کچھ گیانا کی حکومت پر ڈال دیا، جس نے جارج ٹاؤن کی سڑکوں پر فاتح ٹیم کے لیے کاروں کے استقبالیہ جلوس کا اہتمام کیا اور ہر کھلاڑی کو سونے کی چین دی۔

’اس کے بعد جزائر غرب الہند کی مختلف حکومتوں نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے تھے۔‘

جیت کی مبارکباد یا شکست کی خبر

آصف اقبال کریز پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآصف اقبال کریز پر شارٹ کھیلتے ہوئے

ویسٹ انڈیز نے فائنل سے قبل پاکستان کے خلاف جو گروپ میچ کھیلا تھا اسے ون ڈے کی تاریخ کے چند انتہائی دلچسپ میچوں میں شمار کیا جاتا ہے جس میں ویسٹ انڈیز نے صرف ایک وکٹ سے ڈرامائی کامیابی حاصل کی تھی۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان آصف اقبال اپنڈکس کے آپریشن کی وجہ سے یہ میچ نہیں کھیل سکے تھے۔

آصف اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس میچ کو یاد کرتے ہیں۔ ’میں ہسپتال میں تھا۔ نرس نے آ کر مجھے بتایا کہ کسی برنارڈ جولین نام کے شخص کا آپ کے لیے فون آیا تھا اور اس نے آپ کو پاکستانی ٹیم کی جیت کی مبارکباد دی ہے۔‘

آصف اقبال کا کہنا ہے ’برنارڈ جولین ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں شامل تھے اور میرے ساتھ کینٹ کاؤنٹی میں بھی کھیلتے تھے۔ انھیں پتہ تھا کہ میں ہسپتال میں زیرعلاج ہوں۔ انھوں نے سٹیڈیم سے اس وقت فون کیا تھا جب ویسٹ انڈیز کے 9 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے تھے اور تقریباً ساٹھ رنز اسے جیتنے کے لیے درکار تھے۔ نرس بھی مجھے مبارک باد دے کر چلی گئی۔‘

آصف اقبال کہتے ہیں ’کچھ دیر بعد میرے گھر والے مجھ سے ملنے کے لیے آئے تو اُن کے چہرے اُترے ہوئے تھے۔ وجہ پوچھی تو وہ بولے کہ پاکستانی ٹیم ہارگئی ہے۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم لوگ مذاق کر رہے ہو۔ میں نے نرس کے ذریعے ملنے والے مبارکباد کے پیغام کے بارے میں بتایا تو گھر والوں نے بتایا کہ آخری پارٹنرشپ نے ویسٹ انڈیز کو میچ جتوا دیا۔‘

آپ کو کس نے زخمی کیا؟ پولیس والے کا سوال

جیف تھامسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیف تھامسن اپنے زمانے میں دنیا کے تیز ترین بولر سمجھے جاتے تھے

ورلڈ کپ میں آسٹریلوی فاسٹ بولر جیف تھامسن کی تیز بولنگ کا ہرطرف چرچا تھا جو اس زمانے میں دنیا کے تیز ترین بولر سمجھے جاتے تھے۔

جیف تھامسن جتنے تیز بولر تھے غصے کے بھی اتنے ہی تیز تھے۔ پاکستان کے خلاف پہلے میچ میں انھوں نے دو چار نہیں بلکہ 12 نو بال کر ڈالیں جس پر انھوں نے امپائر ٹام سپنسر کی طرف دو انگلیوں کا نامناسب اشارہ بھی کیا۔ جس پر انگلینڈ کے میڈیا میں بہت کچھ لکھا گیا لیکن تھامسن کو کسی کی پروا نہ تھی۔

آسٹریلیا کا دوسرا میچ سری لنکا سے تھا۔ سری لنکا اور مشرقی افریقہ دو ایسوسی ایٹ ٹیمیں تھیں جنھیں ورلڈ کپ میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اس میچ سے قبل آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جیف تھامسن کو وطن واپس بلا لیا جائے۔ ٹیم کے منیجر فریڈ بینیٹ نے انھیں اپنے کمرے میں بلا کر اس فیصلے کے بارے میں بتا دیا۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ اُن کے نام سے میڈیا میں شائع ہونے والے مضامین سے خوش نہیں ہے۔ یہ مضامین تھامسن کے منیجر ڈیوڈ لارڈ تحریر کرتے تھے۔

جیف تھامسن اپنی کتاب ’تھامو سپیکس آؤٹ‘ میں لکھتے ہیں ’میں فریڈ بینیٹ کے کمرے سے باہر آیا۔ برابر والا کمرہ کپتان ای این چیپل کا تھا، میں اُن کے پاس گیا جہاں گریگ چیپل اور راڈنی مارش بھی موجود تھے اور ساری روداد بیان کر دی۔ای این چیپل غصے میں آ گئے اور مجھے لے کر سیدھے منیجر کے کمرے میں گئے اور ان سے دو ٹوک انداز میں کہا کہ آپ آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے ممبرز کو صاف صاف بتا دیں کہ اگر تھامسن کو واپس بلانے کا سوچا ہے تو زیادہ بہتر یہی ہے کہ ہمیں بھی واپس بلا لیا جائے۔‘

تھامسن کہتے ہیں ’ای این چیپل کی مداخلت کام آ گئی لیکن اس صورتحال نے مجھے متحرک کر دیا۔ میں کچھ کر دکھانا چاہتا تھا۔ سری لنکن بیٹسمینوں کی بدقسمتی تھی کہ وہ غلط وقت پر میرے سامنے آ گئے۔‘

اس میچ میں تھامسن کی تیز رفتار گیندوں کو کھیلنا سری لنکن بیٹسمینوں کے لیے نیا تجربہ تھا۔ بیٹسمین سنیل ویٹمنی سری لنکن ایئرلائنز میں پائلٹ تھے جنھوں نے اپنے کیریئر میں خراب موسم اور تکنیکی مسائل کو کئی بار کامیابی سے جھیلا تھا لیکن اس روز تھامسن کو جھیلنا اُن کے لیے آسان نہ تھا۔

انھوں نے اگرچہ حوصلے کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری سکور کی لیکن تین گیندیں ان کی ران، کولہے اور پسلی پر بُری طرح لگی تھیں۔

سنیل ویٹمنی کو تھامسن کا طنزیہ جملہ اچھی طرح یاد ہے کہ 'تمہارا پاؤں ابھی نہیں ٹوٹا ہے لیکن اگلی گیند کھیلتے وقت یہ ضرور ٹوٹ جائے گا۔' پھر وہ وقت بھی آیا جب ویٹمنی کے پیر پر گیند اس زور کی لگی کہ انھیں سٹریچر پر ڈال کر سینٹ تھامس ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھی بیٹسمین دلیپ مینڈس پہلے سے موجود تھے۔ تھامسن کی گیند اُن کی پیشانی پر لگی تھی اور وہ چکرا کر گر پڑے تھے۔

تھامسن کا کہنا ہے ’اگر گیند دو انچ بھی ِادھر یا اُدھر لگتی تو مینڈس کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔‘

سنیل ویٹمنی کہتے ہیں ’مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے مجھے فالج ہوگیا ہو۔ میرا دایاں پاؤں ٹوٹ چکا تھا۔ ران کی تکلیف ناقابل برداشت تھی اور یہی حال کوہلے کی ہڈی کا تھا۔ پسلی کے بارے میں ڈااکٹر نے بتایا کہ ہیئر لائن فریکچر ہے۔‘

تھامسن کی اس جارحانہ بولنگ کے باوجود سری لنکن بیٹسمینوں نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکور کو چار وکٹوں پر 276 رنز تک پہنچا دیا تھا اور آسٹریلوی ٹیم 52 رنز سے میچ جیت پائی تھی۔

دلیپ مینڈس اور سنیل ویٹمنی جب ہسپتال میں اپنے زخموں کا علاج کروا رہے تھے تو ایک پولیس والا وہاں آ پہنچا اور اس نے ہسپتال کے عملے سے پوچھا کہ مینڈس اور ویٹمنی کس طرح زخمی ہوئے ہیں؟ اسے بتایا گیا کہ یہ دونوں ایک آسٹریلوی شخص کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں جس کا نام جیف تھامسن ہے۔

دلیپ مینڈس بتاتے ہیں ’وہی پولیس والا اگلی صبح دوبارہ ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا آپ مسٹر جیف تھامسن کے خلاف رپورٹ درج کرانا چاہیں گے؟‘

دلیپ مینڈس کہتے ہیں ’میں اس کی بات پر ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑگیا لیکن پھر میں نے جواب دیا نہیں۔ کانسٹیبل یہ صرف ایک کھیل ہے۔‘

کچھوے کی چال جیسی بیٹنگ

سنیل گواسکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنیل گواسکر نے 174 گیندوں پر صرف 36 رنز ناٹ آؤٹ کی سست ترین اننگز کھیلی

دنیا کو آج تک اس سوال کا صحیح جواب نہیں مل پایا ہے کہ عالمی کپ کے افتتاحی میچ میں انڈین بیٹسمین سنیل گواسکر نے انگلینڈ کے خلاف 60 اوورز کی اننگز میں سست رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 36 رنز کیوں بنائے تھے؟

جی ہاں 36 رنزناٹ آؤٹ جس کے لیے انھوں نے 174گیندیں کھیل ڈالی تھیں۔ انڈین ٹیم تین وکٹوں پر صرف 132 رنز بنا پائی تھی اور اسے 202 رنز سے شکست ہوئی تھی۔

کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سنیل گواسکر عالمی کپ کے لیے انڈین ٹیم کے سلیکشن اور ٹیم کا کپتان وینکٹ راگھون کو بنائے جانے پر خوش نہیں تھے اور انھوں نے اس ناراضی کا اظہار سست بیٹنگ کے ذریعے کیا تھا۔

خود سنیل گواسکر نے اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ لارڈز کی وکٹ پر سٹروکس کھیلنا آسان نہیں تھا اور انھیں بیٹنگ میں دشواری محسوس ہو رہی تھی لیکن ٹیم کے منیجر رام چند نے ان کے اس جواز کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اسی وکٹ پر انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 334 رنز کیسے بنا لیے تھے جس میں ڈینس ایمس کی سنچری بھی شامل تھی۔

رام چند نے گواسکر کی اننگز کے بارے میں برطانوی اخبار ڈیلی ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا تھا کہ یہ سب سے شرمناک اور خود غرض اننگز تھی جو انھوں نے دیکھی ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان ٹیڈ ڈیکسٹر نے جو اس وقت بی بی سی کے لیے کمنٹری کر رہے تھے کہا تھا کہ کپتان کو چاہیے تھا کہ وہ گواسکر کو واپس بلا لیتے۔

مزید پڑھیے

اس عالمی کپ کے کئی سال بعد سنیل گواسکر نے یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ جیف آرنلڈ کی دوسری ہی گیند پر وکٹ کیپر ایلن ناٹ کے ہاتھوں صفر پر کیچ آؤٹ ہوگئے تھے لیکن کسی نے بھی اپیل نہیں کی تھی اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ کریز چھوڑ کر کیوں نہیں گئے؟

گواسکر نے اپنی کتاب ’سنی ڈیز‘ میں لکھا ہے کہ یہ ان کی سب سے خراب اننگز تھی۔ کئی بار انھوں نے یہ سوچا کہ سٹمپس سے ہٹ ہو جائیں اور بولڈ ہو جائیں۔ اس اننگز میں ان کے تین کیچز بھی ڈراپ ہوئے تھے۔

جس وقت گواسکر بیٹنگ کر رہے تھے تو دیکھنے والے پہلے تو یہ سمجھے کہ وہ نئی گیند کی چمک ختم کرنے کے بعد تیز کھیلیں گے لیکن جب اس سست رفتار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رہا تو شائقین ہی نہیں بلکہ خود انڈین ڈریسنگ روم میں بھی مایوسی بڑھتی چلی گئی تھی۔

فاسٹ بولر کرسن گاوری یاد کرتے ہیں کہ ڈریسنگ روم سے گواسکر کو پیغام بھی بھیجے گئے لیکن اس وقت وہ صرف اپنی بیٹنگ پر توجہ دے رہے تھے، انھوں نے کسی پیغام پر دھیان نہیں دیا تھا۔

وطن واپسی پر منیجر رام چند کی ٹور رپورٹ کی روشنی میں انڈین کرکٹ بورڈ نے بھی گواسکر سے جواب طلب کیا تھا لیکن پھر معاملہ ختم کر دیا گیا تھا۔