روسی فوجی مشقوں میں چین کی شمولیت پر امریکہ ناراض ، مشقوں میں انڈیا بھی شامل

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس مشق میں انڈیا بھر شامل ہے

روس کی فوجی مشق 'ووسٹوک 2022' میں چین کی شمولیت پر مغربی ممالک میں شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے اور چینی میڈیا میں اس بارے میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ یہ فوجی مشقیں روس کے مشرقی علاقے میں یکم سے 7 ستمبر تک ہو رہی ہیں۔

روس نے پیر کو کہا تھا کہ فوجی مشق „ووسٹوک 2022‘ یکم ستمبر سے 7 ستمبر تک جاری رہے گی جس میں انڈیا، چین اور کئی ممالک کے 50 ہزار سے زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق ، ’یہ سٹریٹجک سرگرمی مختلف ممالک کے 50 ہزار فوجیوں، پانچ ہزار جنگی اور فوجی سازوسامان، 140 طیارے، 60 جنگی جہاز اور دیگر بحری جہازوں کے ساتھ ہو رہی ہے۔‘

امریکہ نے اسے تشویشناک قرار دیا ہے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جین پیئر نے اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’کسی بھی ملک کا روس کے ساتھ فوجی مشقیں کرنا امریکہ کے لیے پریشان کن ہے، کیونکہ روس نے یوکرین کے خلاف بلا اشتعال جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان مشقوں میں حصہ لینے والے ہر ملک کو خود یہ فیصلہ کرنا ہے اور یہ میں ان پر چھوڑتا ہوں۔‘

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے کہا کہ اس مشق کی افتتاحی تقریب 31 اگست یعنی بدھ کو منعقد ہوئی۔ چین نے اس مشق میں ناردرن تھیٹر کمانڈ میں شامل اپنے زمینی، فضائی اور بحریہ کے تقریباً دو ہزار فوجی بھیجے ہیں۔

فوجی مشق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفوجی مشق 'ووسٹوک 2022' یکم ستمبر سے 7 ستمبر تک جاری رہے گی

یہ فوجی مشق اپنے وقت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر زیر بحث ہے۔ یوکرین پر حملے کے بعد سے روس کے مغربی ممالک اور جاپان کے ساتھ تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ تاہم، چین کی وزارت دفاع نے پہلے ہی کہا تھا کہ مشق میں اس کی شرکت کا ’موجودہ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے بدھ کو اپنے اداریے میں کہا کہ ’امریکہ نے چین اور روس کے درمیان تعاون کی مذمت کی اور اسے نقصان پہنچایا۔ اخبار نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ایک ’نئے جرم‘ میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔‘

مضمون میں کہا گیا ہے کہ چین کو امریکہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چین نے کہا کہ یہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی ضروریات اور تربیتی انتظامات کے مطابق فوجی مشقیں کب، کہاں اور کس کے ساتھ کرے۔

دوہرے معیار پر تنقید

اداریے میں امریکہ پر ’دہرے معیار‘ اپنانے پر بھی تنقید کی گئی۔ یہ دلیل دی گئی ہے کہ حال ہی میں امریکہ نے اپنی فوجی مشقوں میں انڈیا، تاجکستان اور منگولیا کی شرکت کو ’خودمختار فیصلہ‘ قرار دیا تھا۔

چین کے شہر چینگڈو میں ایک دفاعی جریدے کے ذریعے چلائے جانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی میڈیا سازش کے تحت ووسٹوک 2022 فوجی مشق کو جارحانہ انداز میں طول دے رہا ہے۔ اس کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ عالمی برادری روس اور چین پر تنقید کرے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس مشق میں انڈیا سمیت کئی ممالک کے فوجی شامل ہیں

گلوبل ٹائمز کے بلاگ میں کہا گیا ہے کہ اس مشق میں کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ یہ چین اور روس کے درمیان ہونے والی دیگر فوجی مشقوں کی طرح ہے اور خود امریکہ ایشیا پیسیفک کے علاقے میں ہر سال ایسی 10 مشقیں کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے وزارت دفاع کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ یکم سے 7 ستمبر تک مشرقی ملٹری ڈسٹرکٹ کے سات تربیتی میدانوں اور سمندری اور ساحلی علاقوں میں ’دفاعی اور جارحانہ کارروائیوں‘ کی مشقیں کی جائیں گی۔ یہ مشقیں اوخوتسک اور جاپانی سمندر کے ساحلی علاقوں میں کی جائیں گی۔

بیان کے مطابق اس فوجی مشق میں چین کے علاوہ انڈیا، لاؤس، منگولیا، نکاراگوا، شام اور کئی سابق سوویت ممالک کے فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

خطرہ کس سے ہے؟

شنگھائی میں قائم کے نیوز سے بات کرتے ہوئے عسکری امور کے ماہر چن ہوکسنگ نے کہا کہ امریکہ نے انڈیا کے شامل ہونے پر کچھ نہیں کہا۔ یہ ’انڈو پیسیفک سٹریٹجی‘ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی فوجی مشقیں چین اور روس سے بھی بڑا خطرہ ہیں۔

چینی میڈیا نے اس فوجی مشق کو موجودہ بین الاقوامی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی سے جوڑا ہے۔

نیشنل ڈیفنس جرنل کے ایک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ، ڈِنچنگ زوجیاؤ نے کہا کہ یہ مشقیں روس اور چین کے لیے ایک موقع کی طرح ہیں ۔ اس کے ذریعے وہ امریکہ کی قیادت میں ’یکطرفہ عالمی نظام‘ کو چیلنج کرتے ہوئے ایک ’کثیر قطبی دنیا‘ کی تشکیل کر سکتے ہیں۔

چین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کسی ایک ملک کو ہر معاملے پرحاوی نہیں ہونا چاہیے۔ چین اور روس ایسے نظام کے حامی ہیں جہاں سب کے لیے یکساں ترقی اور مواقع ہوں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں

مشق کے دوران چین اور روس کی بحری افواج جاپانی سمندر اور بحیرہ اوخوتسک میں سٹریٹجک مشقیں کر رہی ہیں۔ ان سے متعلق ویڈیوز کو چینی میڈیا جاپان کی سرحد کے قریب علاقوں میں دکھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ٹک ٹاک کے چینی ورژن ڈوئن پر اس مشق کا ذکر سب سے زیادہ ہے۔ سرکاری میڈیا کی جانب سے شیئر کی جانے والی اس مشق کی ویڈیو کو بھی کافی لائکس مل رہے ہیں۔ بہت سی ویڈیوز کو ایڈٹ کیا جا رہا ہے اور میوزک شامل کیا جا رہا ہے جس سے پڑوسی ممالک کو ڈرانے یا للکارنے کا تاثر ملتا ہے۔

اسی طرح کی ایک ویڈیو ہوبی کے چانگ جیانگ اخبار نے بنائی ہے۔ اس میں کچھ جنگی جہازوں سے توپیں چلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں لیکن یہ ویڈیو کوئی نئی نہیں ہے۔ اس کے باوجود بدھ کی شام تک تقریباً 3 لاکھ لوگوں نے اس ویڈیو کو پسند کیا تھا۔

اس ویڈیو پر کمنٹس میں بھی لوگ چین اور روس کی دوستی اور ان کے درمیان فوجی تعاون کی تعریف کر رہے ہیں۔

ویڈیو پر جو کمنٹ سب سے زیادہ پسند کیا گیا ہے وہ یہ ہے: ’اگر یہ دونوں فوجیں اکٹھی ہو جائیں تو دنیا میں کوئی افراتفری نہیں ہو گی۔‘