وہ متنازع امریکی سائنسی تجربہ جس نے متعدد جڑواں بچوں کو جان بوجھ کر الگ کر دیا

    • مصنف, میلِسا ہوگین بوم
    • عہدہ, بی‌ بی ‌سی

کیتھی سیکلر کی عمر 16 برس تھی جب ایک غیر متوقع دریافت نے ان کی زندگی مکمل طور پر بدل کر رکھ دی۔ یہ چار ستمبر 1977 کی بات ہے۔ انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ ان کی آواز لرز رہی تھی جب ایک دوست نے ان کو بتایا کہ وہ لوری پرٹزل نامی لڑکی سے مشابہت رکھتی ہیں۔

اسی دوست نے سوال کیا کہ کیا انھیں گود لیا گیا تھا۔ کیتھی سیکلر کی تاریخ پیدائش وہی تھی جو لوری پرٹزل کی تھی اور دونوں بالکل ایک جیسی دکھائی دیتی تھیں۔ کیتھی سیکلر کو معلوم تھا کہ انھیں کم عمری میں گود لیا گیا تھا۔

لیکن پھر انھیں علم ہوا کہ لوری پرٹزل کو بھی اسی ایجنسی نے گود لیا تھا۔ دونوں نے فون پر بات کی اور انھیں احساس ہوا کہ ان کے دوست کا شک ضرور درست تھا کہ وہ جڑواں ہیں۔ کیتھی سیکلر جب پہلی بار اپنی جڑواں بہن سے ملیں تو وہ رو رہی تھیں۔

’ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ یہ کافی عجیب تجربہ تھا۔ میں اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کر رہی تھی۔ ایک لے پالک بچہ ہونے کے ناطے، میرے احساسات مختلف تھے۔ مجھے ایسا لگا کہ میرا بھی اس دنیا میں کوئی ہے۔‘

وہ دونوں سگریٹ نوشی کرتی تھیں۔ دونوں ہی موسیقی کی دلدادہ تھیں۔ پرٹزل کے بقول یہ بہت عجیب بات تھی۔ ’مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ رہی ہوں۔‘

وہ پہلے بھی ایک دوسرے کو مل سکتی تھیں کیونکہ دونوں خاندانوں کے جاننے والوں نے پہلے بھی اس مماثلت کی نشاندہی کی تھی۔

لوری پرٹزل نے یہ کہتے ہوئے اس امکان کو رد کر دیا تھا کہ کیا کبھی کبھار ہر کوئی یہ نہیں سنتا کہ وہ کسی اور سے بھی مشابہت رکھتا ہے؟

دونوں بہنیں ایک دوسرے سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر رہ رہی تھیں اور دونوں کے مشترکہ دوست تھے۔ ‎ان کے والدین جڑواں بچوں کے بارے میں تقریباً ایک دہائی سے جانتے تھے، لیکن انھیں اسے خفیہ رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

ایک متنازع تحقیق

چند برس بعد یہ بات عیاں ہوئی کہ کیتھی سیکلر اور لوری پرٹزل ایک متنازع تحقیق کا حصہ تھیں۔ 1960 کی دہائی میں نیو یارک میں ایک بہت معروف بچوں کی پرورش کرنے والی ’لوئس وائز سروسز‘ ایجنسی نے جان بوجھ کر 10 شیر خوار جڑواں بچوں کے جوڑوں کو ایک دوسرے سے جُدا کیا اور انھیں مختلف خاندانوں کے حوالے کیا۔

کیتھی سیکلر اور لوری پرٹزل بھی جڑواں بچوں میں سے تھیں جو ایک دوسرے سے مشابہت بھی رکھتی تھیں اور وہ 60 کی دہائی میں پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک جوڑی ایسی بھی تھی جن میں تین ایک ساتھ پیدا ہونے والے بچے تھے۔

ایجنسی نے نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر اور ماہر نفسیات کے ایک گروپ کے ساتھ شراکت کی تھی تاکہ یہ کھوج لگا سکیں کہ کیا چیز ہمیں باور کراتی ہے کہ ہم کون ہیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ ہماری فطرت اور ہماری پرورش سے ہماری کتنی شناخت ہوتی ہے۔ لیکن کس قیمت پر؟

بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم کے لیے میں نے ایک جیسے اور برادرانہ جڑواں شرکا کے ساتھ ساتھ اس میں شامل اصل محققین میں سے ایک کے ساتھ بات کی تاکہ یہ دریافت کیا جا سکے کہ کیا آج بھی جڑواں بچے اس انداز سے ان کی اجازت کے بغیر اس تجربے میں شمولیت کے بارے میں جواب تلاش کر رہے ہیں۔

کیتھی سیکلر نے مجھے دستاویزی فلم کے لیے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’ہم واقعی بہنیں ہونے سے محروم تھیں، جڑواں ہونا تو اور بات ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف خوفناک تھا جو انھوں نے کیا۔ ایک گود لیا ہوا بچہ ہونا کافی مشکل تھا۔ مجھے ایک ساتھی کی رفاقت سے محروم کرنا خوفناک تھا۔‘

ماہر جنیات اور 'ڈیلیبریٹلی ڈیوائڈڈ ' کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب کی مصنفہ نینسی سیگل جو جڑواں بچوں کے امور سے متعلق بھی مہارت رکھتی ہیں کا کہنا ہے کہ لوئس وائز ایجنسی کے 60 کی دہائی میں گود لیے ہر بچے کو یہ حق ہے کہ وہ یہ سوچے کہ شاید اس کا کوئی جڑواں بھی ہے۔

انھوں نے نیویارک کے ’چائلڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر ٹوئن سٹڈی‘ میں شامل بہت سے اصل کرداروں کا سراغ لگانے میں کئی سال گزارے۔

جان بوجھ کر الگ کیے جانے والے بچے

یہ کہانی پہلی بار سنہ 1980 میں اس وقت منظر عام پر آئی، جب 19 برس کی عمر میں تین نوجوانوں نے دریافت کیا کہ وہ ایک جیسے تین بچے ہیں۔ ان کے دوبارہ اکھٹا ہونے پر دنیا بھر کے میڈیا کی شہہ سرخیاں بن گئیں۔ جلد ہی، یہ واضح ہو گیا کہ ایسے کئی اور جڑواں بچے تھے جو الگ کیے گئِے تھے۔

جڑواں بچے طویل عرصے سے انسانی تخیل کی توجہ کا مرکز ہیں۔ جڑواں بچوں کو گلی میں روک کر ان سے اکثر سوال کیے جاتے ہیں۔ کیتھی سیکلر سے آج بھی ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں جب وہ اس بات کا ذکر کرتی ہیں کہ ان کی جڑواں بہن بھی ہے۔

محققین کے لیے، جڑواں بچے ہماری جینیات اور جس ماحول میں ہم رہتے ہیں ان کے درمیان پیچیدہ تعامل کے بارے میں انوکھی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

ایک جیسے جڑواں بچے جو مختلف خاندانوں میں الگ رہ کر پروان چڑھتے ہیں صرف ان کی جینز ایک جیسی ہوتی ہیں نہ کہ ماحول۔ اس لیے دریافت ہونے والی کوئی بھی مشترکات بڑی حد تک ان کے جینز سے منسوب کی جا سکتی ہیں حالانکہ حالیہ برسوں میں فطرت اور پرورش کے درمیان تعلق کو اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ پایا گیا ہے۔

مثال کے طور پر ذہانت، قد اور وزن جیسی خصلتیں، سبھی اہم جینیاتی اثرات کی حامل پائی گئی ہیں۔ اس طرح کے نتائج جڑواں بچوں کے علحیدہ علیحدہ پرورش پانے کی سابقہ ​​​​تحقیق سے جمع کیے گئے برسوں کے اعداد و شمار سے اخذ کیے گیے ہیں۔

نینسی سیگل کے مطابق ہم سمجھتے تھے کہ رویے کا تعلق جینیاتی سے ہے۔ جینیات ہی سب کچھ نہیں ہے، لیکن یہ اس بات کی بہت وضاحت کرتے ہیں کہ ہم ایک شخص سے دوسرے کو مختلف کیسے پاتے ہیں۔

اگرچہ یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے لیکن ایک جیسے جڑواں بچے جن کی علیحدہ علیحدہ پرورش ہوتی ہے عام طور پر وہ کئی برس بعد ہی یہ دریافت کرتے ہیں۔

لوئس وائز سروسز ایجنسی کے ساتھ کام کرنے والے محققین کا خیال تھا کہ انھیں اس معاملے پر تحقیق کا ایک راستہ مل گیا ہے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ وہ پیدائش سے ہی مشابہت رکھنے والے جڑواں پیدا ہونے والے بچوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

اس ایجنسی کی مشیر جو نفسیات کی ڈاکٹر ہیں، وائلا برنارڈ، نے جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا جواز پیش کیا۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ اس سے انھیں اپنے والدین کی محبت کے لیے ایک ہی گھر میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی شناخت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس کی تائید اس وقت کے سائنسی مطالعات سے ہوئی ہے۔ نینسی سیگل کہتی ہیں کہ ’میں آپ کو ایمانداری سے بتا سکتی ہوں کہ بچوں کی نشو و نما کا ایسا کوئی لٹریچر موجود نہیں ہے۔‘ انھوں نے کبھی اس حوالے سے کی جانے والی تحقیق کا نام نہیں لیا۔

معلوم تاریخ میں پہلے کبھی پالیسی کے طور پر جڑواں بچوں کو الگ نہیں کیا گیا تھا۔ برنارڈ نے پیٹر نیوباؤر نامی ایک محقق کے ساتھ کام کیا، پھر نیویارک میں جیوش بورڈ آف گارڈینز کے چائلڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر میں، جنھوں نے طویل عرصے سے علیحدہ پرورش پانے والے جڑواں بچوں کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

گود لینے والے والدین کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کے بچے میں جڑواں یا تین بچے ہیں، صرف یہ کہ وہ بچوں کی نشو و نما کے مطالعے میں حصہ لے رہے ہیں۔ نینسی سیگل کا کہنا ہے کہ ’یہ بالکل واضح تھا کہ اگر انھوں نے تحقیق کا حصہ بننا قبول نہ کیا اور محققین کو وقتاً فوقتاً ان کے گھر آنے کی اجازت نہ دی، تو شاید وہ یہ بچہ حاصل نہیں کریں گے۔‘

جڑواں بچوں کو ذہانت اور شخصیت سے متعلق متعدد خصلتوں کو دیکھتے ہوئے متعدد ٹیسٹ دیے گئے اور ان کی فلم بنائی گئی۔

کیتھی سیکلر کو یاد ہے کہ جب محققین گھر آئے تو انھوں نے خود کو کس قدر حساس پایا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میری والدہ اس لیے راضی ہوئیں کیونکہ انھوں نے نفسیات پڑھ رکھی تھی اور بچوں کی نشو و نما کے مطالعہ کی اہمیت کو جانتی تھیں۔‘

لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھیں سچ نہیں بتایا گیا تھا۔

شروع سے ہی تجربے میں مسائل تھے۔ ہم نے لارنس پرلمین سے رابطہ قائم کیا، جو ان چند محققین میں سے ایک ہیں جنھوں نے اس مطالعہ میں اپنی مختصر شمولیت کے بارے میں بات کی ہے۔ وہ اس وقت پوسٹ گریجویٹ طالب علم تھے۔

وہ تحقیق میں شامل جڑواں بچوں سے ملتے تھے اور ان کے رویے کا جائزہ لیتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کو حیرت ہوتی تھی کہ کچھ جڑواں بچوں میں کس حد تک مماثلت تھی۔

’صرف جسمانی شکل ہی نہیں، بلکہ ان کی پوری شخصیت۔ یہ میرے لیے بالکل واضح تھا کہ جینیاتی اثرات بہت مضبوط تھے۔ مثال کے طور پر دو جڑواں بھائی، دونوں کو کیچپ پسند تھی، جو ایک گود لینے والی ماں کے لیے خوشی جبکہ دوسری کے لیے مایوسی کا باعث تھا۔‘

جڑواں بچوں کو کئی اہم عوامل کی بنیاد پر احتیاط سے منتخب کیے گئے خاندانوں کے ساتھ رکھا گیا تھا، جیسا کہ ان کے والدین کی عمر، سماجی اور اقتصادی حیثیت، تعلیم، مذہب اور ان کے دیگر بچے۔

سائنسی تحقیق میں اخلاقی خلاف ورزیاں

لیکن یہ تجربہ جلد ہی مسائل کا شکار ہو گیا۔ فنڈنگ ​​ختم ہوگئی اور رضامندی حاصل کرنے سے متعلق 1970 کی دہائی میں اخلاقی خدشات پائے جاتے تھے۔ والدین کو پرانی تاریخوں والے رضامندی کے فارمز پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن کچھ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

میں نے نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر اور طبی اخلاقیات کے ماہر آرتھر کیپلان سے بات کی، جنھوں نے مجھے بتایا کہ یہ مطالعہ ایسے وقت میں ہوا جب سائنسی تحقیق میں اخلاقی خلاف ورزیاں بہت عام تھیں اور انھوں نے اس تحقیق کو ایک واضح کیس قرار دیا۔

آرتھر کیپلان کا کہنا ہے کہ ’آپ واقعی شدید نقصان، ازدواجی خلل، بچوں اور ان کے والدین کے درمیان سڑک پر لڑائی کا سبب بن سکتے ہیں۔ نقصان کا امکان حقیقی ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا امکان، بالکل موجود ہے۔‘

جڑواں بچوں کے درمیان فاصلہ بھی مناسب نہیں رکھا گیا تھا اور ان کی ملاقات کا امکان تھا۔ بچوں کو ایک ایسے وقت میں نیویارک کے میٹروپولیٹن علاقے میں رہنے والے خاندانوں کے ساتھ رکھا گیا تھا جب کمیونٹیز آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ قربتیں رکھتی تھیں۔

سیکلر اور اس کی بہن کو اسی طرح کے سماجی حلقوں میں رہنے والے خاندانوں نے گود لیا تھا۔ درحقیقت، ان کے والدین دوسرے جڑواں بچوں کے وجود کے بارے میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جانتے تھے، لیکن ان سے کہا گیا کہ وہ لڑکیوں کی بھلائی کے لیے اس خبر کو خفیہ رکھیں۔

وائلا برنارڈ نے خاص طور پر گود لینے والے والدین کے دونوں جوڑوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی لے پالک بچیوں کو نہ بتائیں۔ انھیں یہ مشورہ دیا گیا کہ یہ ’بہت زیادہ نقصان دہ‘ ہو سکتا ہے۔

دوسرے جڑواں بچے جو علیحدہ ہو گئے تھے وہ بھی اتفاق سے ملے تھے، اکثر باہمی دوستوں یا ملنے جلنے والوں کے ذریعے، جیسا کہ 19 سال کی عمر میں ملنے والے ایک جیسے تین جڑواں بچوں کا معاملہ تھا۔

سائنسی طور پر بھی یہ تحقیق ناقص تھی۔ پرلمین ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھوں نے بچوں کے بارے میں جو ڈیٹا اکٹھا کیا وہ بے ترتیب تھا اور تحقیق کو اچھی طرح منظم نہیں کیا گیا تھا۔

نیوباؤر اور ان کی ٹیم نے کبھی کوئی سائنسی مقالے شائع نہیں کیے۔ پرلمین کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انھیں سائنسی نقطہ نظر سے اسے سنبھالنے کے مناسب طریقے کا ادراک نہیں تھا۔ انھیں مقدموں کی دھمکیاں دی گئیں اور کچھ بھی شائع نہیں کیا گیا۔‘

اس تجربے میں ایسے جڑواں بچوں کو شامل نہیں کیا گیا جو ہم شکل نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود ایجنسی نے ان کو بھی الگ الگ خاندانوں کو دے دیا۔

ہم نے ایلیسن کانٹر سے بات کی جن کو لوئیس وائز ایجنسی سے گود لیا گیا تھا لیکن حال ہی میں ان کو اپنی جڑواں بہن کے بارے میں علم ہوا۔ انھوں نے ایک دستاویزی فلم دیکھ کر اپنا جینیاتی ٹیسٹ کروایا۔

’مجھے یاد ہے کہ میرا پورے جسم یہ سوچ کر کانپ اٹھا تھا کہ واہ، اگر یہ حقیقی ہو تو کیا ہوتا؟‘

ان کا ڈی این اے مشیل مورڈکوف نامی کسی عورت کے ساتھ میچ ہوا تھا۔ وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکا، ایک دوسرے سے ملے۔

کنٹر کا کہنا ہے کہ 'یہ میرے ایک ٹکڑے کی طرح تھا جو ہمیشہ غائب رہتا تھا جسے میں کبھی نہیں جانتی تھی۔

’جتنا زیادہ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں، اتنا ہی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک جیسے ہیں، جذباتی طور پر اور ہم نے زندگی کو کس طرح دیکھا اور ہم نے اپنی زندگی کیسے گزاری۔‘

صرف چند سال بعد، مورڈکوف لبلبے کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئیں، یعنی جڑواں بہنیں تین سال سے بھی کم وقت ساتھ رہ سکیں۔

کنٹر نے بتایا کہ ’ہم سے انھیں کوئی معلومات حاصل ہونے والی نہیں تھیں جو وہ ہم شکل یا ایک جیسے جڑواں بچوں سے حاصل کر سکتے ہیں لہذا انھوں نے ہمیں فراموش کر دیا۔‘

جمع کیے گئے اعدادوشمار کا کیا ہوا، اور دوسرے نادانستہ شرکاء اب بھی اس بدقسمت مطالعے میں ان کی شمولیت کے بارے میں حقیقی جوابات کیوں تلاش کر رہے ہیں؟

پرلمین نے اس منصوبے پر صرف 10 ماہ تک کام کیا۔ لیکن اس کے بعد کے سالوں میں، وہ اس کے بارے میں سوچتے رہے۔ چند رپورٹیں سامنے آئیں جن میں بہت کم تفصیلات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نیوباؤر کو کوئی ندامت نہیں تھی

بالآخر 2004 میں سیگل اور پرلمین ایک دوسرےسے ملے۔ وہ دونوں نیویارک شہر میں 91 سالہ نیوباؤر سے ملنے گئیں۔ نیوباؤر نے اپنے کیے پر کوئی افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ پرلمین کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے اس تجربے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویولا برنارڈ کا خیال تھا۔‘

’وہ کچھ غلط کرنے کی کسی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کرنے جا رہا تھا۔ تو یہ صرف اس کا موقف تھا اور وہ اپنی بات پر اڑ گئے۔ سائنسی تحقیق کے نام پر انھوں نے ڈیٹا کا استعمال کیے بغیر لازمی طور پر ان خاندانوں کا استحصال کیا۔‘

لوئیس وائز سروسز، جو کبھی ایک معتبر ایجنسی تھی، 2004 میں بند ہو گئی اور اس نے اپنا تحقیقی ریکارڈ اسپنس چیپن نامی ایک اور ایجنسی کو دے دیا۔ تاہم اس تحقیق کے ریکارڈ کا کنٹرول جیوش بورڈ آف فیملی اینڈ چلڈرن سروسز کے پاس ہے جنھوں نے اس تحقیق کی کوئی ذمہ داری لینے سے انکار کیا ہے۔

ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رازداری کے قوانین کی وجہ سے اور ان مطالعاتی ریکارڈز میں شامل معلومات کی انتہائی نجی اور ذاتی نوعیت کے پیش نظر، ہمیں خود مطالعاتی مضامین تک ریکارڈ تک محدود رسائی حاصل ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ تمام زندہ افراد جو اس تحقیق میں تخت مشق بنے اب ان کی شمولیت سے آگاہ ہیں۔

سیکلر اور پرٹزل کی اجازت سے، میں نے ان کے بچپن میں بنائی گئی دستاویزی فلم تک رسائی کی درخواست کی- لیکن مجھے بتایا گیا کہ جڑواں بچوں کو خود اس کی درخواست کرنی ہو گی۔ اس کے بعد ان کو بتایا گیا کہ اگر انھیں رسائی مل جائے تو وہ فائلیں کسی اور کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ ان میں ’جن بچوں پر مطالعہ کیا گیا ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے بارے میں حساس معلومات‘ ہو سکتی ہیں۔

اپنے ماضی کا دوبارہ جائزہ لینے کے ممکنہ جذباتی نقصان کی وجہ سے جڑواں بچے اس کا مزید تعاقب نہیں کرنا چاہتے تھے۔

مہر بند ریکارڈ

اس وقت مطالعے کے ذریعے جمع کردہ اعداد و شمار ییل یونیورسٹی میں مہر بند ہیں اور 2065 تک نہیں کھولے جا سکتے۔ نیوباؤر نے 1990 میں ییل میں ریکارڈ بند کرنے کا انتظام کیا اور دعوی کیا کہ اس نے جڑواں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسا کیا۔

سیگل کا کہنا ہے کہ ’میں ایک منٹ کے لیے اس پر یقین نہیں کرتا. مجھے یقین ہے کہ یہ کام اپنے تحفظ کے لیے کیا گیا تھا۔‘

کیپلن حیران ہے کہ کیا اس کی وجہ صرف نااہلی کو چھپانا تھا۔ ’تحقیق کے ریکارڈ کو سربمہر کیوں رکھا جائے؟ میں سمجھتا ہوں کہ میں صرف ایک ہی وضاحت دے سکتا ہوں وہ شرمندگی ہے۔‘

لیکن اگر یہ ڈیٹا کسی معنی خیز طریقے سے موجود ہے، اخلاقی خدشات اور مطالعے کی ناقص نوعیت کی وجہ سے، یہ مشکوک ہے کہ کیا اسے کبھی استعمال کیا جاسکے گا۔

مثال کے طور پر سیگل نے زور دیا کہ یہ ایک ایسا مطالعہ ہے جو اول تو کبھی ہونا ہیں نہیں چاہیے تھا۔ وہ کہتی ہیں، ’واقعی اس میں کوئی بصیرت نہیں تھی۔ ہم وہاں کیا ہے کے بارے میں نہیں جانتے. اور اگر ہم اس تک رسائی حاصل کریں اور اسے شائع کریں تو یہ مستقبل کے محققین کو کس طرح کا پیغام دیتا ہے؟‘

خاندانوں کو کبھی سوالات کے جواب نہیں ملے۔

اس تجربے سے ایک غیر ارادی طور پر حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ یہ ایک مثال فراہم کرتا ہے کہ سائنس کو کس طرح نہیں کیا جانا چاہیے اور اخلاقیات ہر مرحلے پر کتنی اہم ہے۔

سیکلر ذاتی طور پر امید کرتی ہے کہ اپنی کہانی سنانے سے ان کی تکلیف کم ہو گی۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ جڑواں ہیں، تو ان سے سوالات پوچھے جانے لگے: ’ایک ساتھ بڑے ہونے میں بہت مزہ آیا ہو گا، کیا آپ ایک جیسا لباس پہنا کرتی تھیں، ایک ہی جیسے نظر آتے ہوں گے؟‘

سیکلر کا کہنا ہے یہ آسان ہوتا ہے کہ آپ وہ سب کچھ یاد نہ کریں۔ ’میں جھوٹ بولتی اور کہتی، جی ہاں، ہم مختلف لباس پہنتی تھیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ مجھے اس خفیہ بہن کی کہانی کو جاری رکھنا پڑا۔

اگرچہ یہ مطالعہ جینز اور ماحول کے کردار کو ان کی شناخت پر پڑنے والے اثرات معلوم کرنے کے لیے کیا گیا، لیکن اس کے بجائے اس نے ان کی اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں پر جو اثر مرتب کیے، اس کا تصور کرنا مشکل ہے۔ ان کے خفیہ ہم شکل بہن بھائیوں کو تلاش کرنے سے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

مطالعے میں شامل تین افراد اپنی دریافت کے بعد برسوں تک ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار رہے (اگرچہ انھیں نوعمری میں نفسیاتی مسائل بھی تھے) اور ان میں سے ایک نے خودکشی کرلی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی اصل ماں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا۔ ایک جڑواں جوڑے سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون، جسے علیحدہ کر دیا گیا تھا، کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے خودکشی کر لی تھی- اس کے حیاتیاتی خاندان کی بھی ڈپریشن کی تاریخ تھی۔

(یہ بات قابل غور ہے کہ اگرچہ دباؤ کے تجربات ضروری نہیں کہ ذہنی خرابی کا سبب بنتے ہیں، شدید دباؤ ذہنی صحت کے سابقہ مسائل کو بڑھا سکتا ہے خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو اس میں جینیاتی رجحان رکھتے ہیں۔)

دوسروں کو اس تجربے میں ملوث ہونے پر غصہ، اداسی اور افسوس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے اس نے ان کے گود لینے والے والدین کے ساتھ ان کے تعلقات کو متاثر کیا۔ اور سب سے زیادہ اس نے ان کے جڑواں بچوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو متاثر کیا۔

سیکلر کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم کبھی واپس نہیں جا سکتے تھے کیونکہ ہم جڑواں تھے لیکن ہم بہنیں نہیں تھیں۔ ہم ایک ساتھ بڑے نہیں ہوئے اور آج تک بھی جو ہمارے تعلقات کا ایک بہت مشکل حصہ رہا ہے۔‘

سب سے زیادہ انھوں نے اس میں شامل لوگوں کو مقصود تحقیق کے موضوع کے بارے میں ایک بڑا سوال پوچھنے پر مجبور کر دیا: ان کی فطرت پر ان لوگوں نے کتنا اثر ڈالا جنھوں نے انھیں تقسیم کیا۔