وہ شخص جسے پانچ مرتبہ جڑواں بچے پیدا کرنے کے بعد بیوی چھوڑ گئی

ایوپو اوگنلی، جن کے ہاں پانچ مرتبہ جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی اب مغربی نائیجیریا میں اپنے علاقے کی ایک مشہور شخصیت بن گئے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی یوروبا کو بتایا کہ وہ اب اپنے بچوں کی پرورش ریاست اوگن کے علاقے اڈو-اڈو میں اکیلے کر رہے ہیں کیونکہ ان کی بیوی ان کے والدین کی شکایت کے بعد وہاں سے چلی گئی تھی کہ ان کے ہاں بہت زیادہ جڑواں بچے پیدا ہو رہے ہیں۔

40 سالہ ایوپو اب اپنے سات بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ ان کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے دو جڑواں بچے شیر خوارگی میں ہی چل بسے تھے اور آخری جڑواں بچوں میں سے بھی ایک لڑکا بھی مر گیا تھا۔

اوگنلی کا کہنا تھا کہ جب ان کی بیوی پہلی بار حاملہ ہوئی تو وہ جڑواں بچوں کی توقع نہیں کر رہے تھے اور جب انہیں ہسپتال لایا گیا تو وہ حیران رہ گئے۔

’جب میں نے سنا کہ میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے تو میں نے پوچھا کہ یہ لڑکا ہے یا لڑکی، تو انھوں نے کہا کہ میرے جڑواں بچے ہیں۔‘

یہ ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر جیسا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں بچپن سے اس کے لیے دعا کرتا رہا تھا، میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ میں نے اپنی بیوی کو گلے لگایا اور مبارکباد دی۔‘

یوروبا کمیونٹی، جو بنیادی طور پر مغربی نائیجیریا میں پائی جاتی ہے، یہ دنیا میں سب سے زیادہ جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح رکھنے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔

مزید پڑھیے

جڑواں بچوں کو ’ابیجی‘ کہا جاتا ہے اور ثقافتی طور پر ان کا یقین ہے کہ ان کے بعد ایک ہی بچے کا جنم ہونا چاہیے ’اڈوو‘ کہا جاتا ہے۔

لیکن اوگنلی کا کہنا ہے کہ جب بھی ان کی بیوی حاملہ ہوئیں، ان کے ہاں جڑواں بچے ہوئے۔

ان کا کہنا تھا ’دوسری بار جڑواں، تیسری بار جڑواں، چوتھی بار جڑواں، پانچویں بار بھی جڑواں ہوئے۔‘

اتنے زیادہ جڑواں بچوں کی پیدائش کی وجہ ان کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ خاص نہیں کھاتے اور نہ ہی دوسروں سے کچھ مختلف کرتے ہیں۔

اتنے سارے بچوں کی پرورش کے حوالے سے مالی مشکلات کے باوجود، وہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو پسند کرتے ہیں۔ اور دوسری شادی کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بچے خدا کی نعمت ہیں۔‘