نیزہ پھینکتے ہوئے اپنی دوست کی جان لینے والی لِس نے خود کو کیونکر معاف کیا؟

لِس کیشین

سانحہ کے دن لِسکیشین جب بیدار ہوئیں تو وہ بہت پرجوش تھیں۔ یہ سنہ 1983 کی بات ہے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 13 سال تھی اور انھیں سکول کے ایک مقابلے میں جیولن (نیزہ) پھینکنے کے ایک امیدوار کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ وہ میڈل حاصل کرنے کی دعویدار نظر آرہی تھیں۔

لیکن اس دن کی دوپہر کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔

انھوں نے کہا: 'میں چلتی ہوئی ریمپ تک پہنچی، جیولن ہاتھوں میں تھاما، ایک گہرا سانس لیا اور نیزہ کو جتنی قوت سے پھینک سکتی تھی پھینکا۔'

دوڑ کے آخری لمحے میں بھالے کا سرا دائیں طرف مڑا اور ان کی دوست سیمی کی طرف جانے لگا۔

انھوں نے کہا: 'میں نے دیکھا کہ نیزہ سیدھا اس کی پیشانی پر بائیں آنکھ کے بالکل اوپر لگا۔ وہ آگے کی طرف لڑکھڑائی، وہاں خون ہی خون تھا۔'

شمالی انگلینڈ کی رہائشی کیشین بولتے ہوئے رک جاتی ہیں۔ وہ اس واقعے کو یاد کرکے سانس اندر لیتی ہیں۔

'میں اپنے گھٹنوں پر آ گئی اور اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔'

اور چار دنوں بعد سیمی زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہو گئی۔

لِس کیشین کئی دہائیوں تک اپنی دوست کی موت کے لیے خود کو ذمہ دار ٹھہراتی رہیں۔ وہ برسوں اس سانحے سے متاثر رہیں لیکن بظاہر ٹھیک ہونے کا بہانہ کرتی رہیں۔

ایسے حادثات کے بعد معاف کرنا کیسے سیکھا جائے؟

لس

،تصویر کا ذریعہBBC IDEAS

میڈیا کا شور

یہ حادثہ اخباروں کی سرخیاں بن گیا۔ یہ خبر تمام میڈیا میں تھی۔ اس دوران ان کے گھر والوں نے انھیں میڈیا کے اس شور سے بچانے کی پوری کوشش کی۔

لیکن لِس کا کہنا ہے کہ واقعی کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایسے میں کیا کرنا چاہیے۔ اس لیے وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ انھیں خود ہی اس پر قابو پانا ہے۔

بہر حال اس وقت لِس کا اپنے سوتیلے والد کے ساتھ کوئی بہت خوشگوار رشتہ نہیں تھا۔ سیمی کے جنازے سے گھر جاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ متاثرہ کا نام گھر پر اب کبھی نہیں لیا جائے گا۔

اس لیے نہ صرف لِس پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنے سے قاصر رہیں بلکہ وہ گھر پر اس کے بارے میں کسی سے بات بھی نہیں کر سکتی تھیں۔

حادثے کے بعد کا تناؤ

لِس میں پوسٹ ٹراما سٹریس یعنی حادثے کے بعد کا تناؤ پیدا ہو گیا لیکن برسوں تک اس کی تشخیص نہیں کی جاسکی۔

پوسٹ ٹرامیٹک تناؤ ایک ذہنی حالت ہے جس میں ماضی کے خطرناک لمحات یاد آتے ہیں، مریض بے خوابی کا شکار رہتا ہے اور شدید جذباتی تناؤ میں ہوتا ہے۔

فوری صدمے کے علاوہ لِس کئی دہائیوں تک خود کو مورد الزام ٹھہراتی رہیں حالانکہ تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سیمی کی موت ان کی غلطی نہیں تھی۔

ایک طویل عرصے تک وہ ٹھیک ہونے کا ڈھونگ کرتی رہیں جبکہ حقیقت میں وہ شدید جذباتی انتشار کا شکار تھیں۔

لس
،تصویر کا کیپشناس وقت لس 13 سال کی تھیں اور نیزہ پھینکنے کے سکول کے مقابلے میں شرکت کر رہی تھیں

تبدیلی

لِس نے 47 سال کی عمر میں اپنی ٹراما تھراپی شروع کی۔ انھیں آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا کہ سیمی کی موت ان کی غلطی نہیں تھی۔

لِس نے کہا: 'اس تھراپی کے بعد ایسا لگا جیسے میرے کندھوں سے بوجھ اتر گیا ہو۔ جس لمحے میں نے محسوس کیا کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا، مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ تمام درد اور تکلیف میرے لیے ہی پیدا کی گئی تھی۔'

صحافی اور دی فورگونیس پروجیکٹ کی بانی مرینا کینٹاکوزینو کا کہنا ہے کہ 'مجھے ایک کمرے کے اندر اتنا درد کبھی نہیں محسوس ہوتا جتنا اس وقت ہوتا ہے جب میں لوگوں سے خود کو معاف کرنے کے بارے میں بات کرتی ہوں۔

دی فورگونیس برطانیہ میں قائم ایک خیراتی ادارہ ہے جو متاثرین اور جرم کے مرتکب افراد کی حقیقی کہانیوں کا استعمال کرتا ہے تاکہ لوگوں کو بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کے خيالات سے روشناس کرائے۔

وہ کہتی ہیں: 'یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جب میں لوگوں سے دوسروں کو معاف کرنے کے بارے میں باتیں کرتی ہوں کیونکہ خود کو معاف کرنا ہمیں اپنی شناخت کے بنیادی حصے تک لے جاتا ہے۔'

وہ مزید کہتی ہیں کہ 'لوگ اکثر خود کو دریافت کرنے کے سفر پر جاتے ہیں، اور کیشین اس کی ایک اچھی مثال ہیں۔ انھیں خود کو معاف کرنے اور اس سے آگے جانے میں کئی دہائیاں لگ گئیں، کیونکہ انھیں احساس ہوا کہ اس وقت وہ خود بچہ تھیں اور وہ ایک حادثہ تھا اور وہاں بالغ افراد بھی تھے اور وہاں جو کچھ ہوا وہ اس کی پوری ذمہ داری لے سکتے تھے۔'

یہ بھی پڑھیے

کیشین کا کہنا ہے کہ انھوں اپنے لیے خود ہی تباہ کن خیالات پیدا کیے کہ وہ بری تھیں اور یہ کہ انھیں سزا ملنی چاہیے۔ اور وہ برسوں خود کو مورد الزام ٹھہراتی رہیں۔

کیشین نے کہا: 'جب مجھے پتہ چلا، میرا دل کھل گیا، میں نے خود سے ہمدردی پیدا کی اور مجھے اپنے آپ کو ہر اس چیز کے لیے معاف کرنے کی ضرورت تھی جو میرے ساتھ اتنے سالوں سے ہوتا رہا تھا۔'

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خود کو معاف کرنا اضطراب اور افسردگی کی علامات کو کم کر سکتا ہے اور یہ جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتا ہے۔

لس

،تصویر کا ذریعہBBC IDEAS

اگر آپ خود کو معاف نہیں کر پا رہے ہیں تو آپ کیا کریں؟

کینٹاکیزینو کا کہنا ہے کہ احساس جرم اور شرم خود کو معاف کرنے میں بہت زیادہ کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم کون ہیں اس بات کو قبول کریں اور زندگی کے بارے میں ایک وسیع تناظر کو اپنائیں۔

اس کے لیے وہ منشیات کی لت کے متعلق ایک مثال دیتی ہیں۔

'شاید آپ نے دوسروں کو اور اپنے آپ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ آپ اپنے نقطہ نظر کو وسیع کر سکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک لت ہو یا پھر بیماری ہو۔ آپ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور آپ زندگی کو کیسے گزارنا چاہتے ہیں اس بات سے فرق پر سکتا ہے۔'

صحافی کے مطابق ہمدردی اور رحم اپنے آپ کو معاف کرنے کے کلیدی اجزا ہیں۔

میرینا کینٹاکیزینو

،تصویر کا ذریعہBBC IDEAS

،تصویر کا کیپشنصحافی میرینا کینٹاکیزینو

دوسرے لوگوں کی اسی طرح کی کہانیوں کو دیکھ کر یہ حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس کے ساتھ خود آگاہی کو فروغ دینا اور اپنے آپ کو بہتر طور پر جاننا چند دوسری کلید ہین جو اس ضمن میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق: 'اگر ہم خود کو نہیں جانتے ہیں، تو ہم اکثر اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور دنیا کو بڑا نقصان پہنچاتے ہیں۔'

کیشین کا کہنا ہے کہ 'اب میرا مشن ہر روز خود کو چاہنا اور خود کی دیکھ بھال کی مشق کرنا ہے۔ میں ہر روز مراقبہ کرتی ہوں۔ میں ورزش کرنے یا فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے باہر جاتی ہوں۔' کیشین کا دعوی ہے اب انھیں دوستوں اور خاندان کے ایک بڑے نیٹ ورک کی حمایت حاصل ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر آپ کو لگے کہ آپ کو پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے تو آپ اسے حاصل کریں۔

کینٹاکوزینوں اخیر میں کہتی ہیں کہ کچھ لوگ خود کو معاف کرنے کو خود غرضی کہتے ہیں، لیکن یہ ان چیزوں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے کے بارے میں ہے جو آپ نے کیے ہیں اور اسے تبدیل نہیں کر سکتے۔ اس طرح آپ یہ قبول کرتے ہیں کہ آپ ایک انسان ہیں اور دوسرے انسانون کی طرح آپ بھی ناکام ہو سکتے ہیں۔'