مونا حیدری: ایران میں 17 سالہ لڑکی کا ’غیرت کے نام‘ پر قتل

،تصویر کا ذریعہInstagram / tahminehmilani
انتباہ: اس مضمون میں موجود تفصیلات کچھ صارفین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
ایران میں 17 سالہ لڑکی کے مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل نے ملک میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے متعلق قوانین اور ان جرائم کی میڈیا میں عکاسی پر گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بھیانک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں ایک شخص کو اپنے ایک ہاتھ میں چھرا اور دوسرے میں ایک لڑکی کا سر اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسے ایرانی نیوز ویب سائٹ روکنا پر بھی اپ لوڈ کیا گیا تاہم بعد میں حکام نے یہ ویب سائٹ بند کروا دی تھی۔
واقعہ کیا ہے؟
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ پانچ فروری کو صوبہ خوزستان کے جنوب مغربی شہر اہواز میں پیش آیا۔ روکنا کے مطابق 17 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس کا شوہر بتائے جانے والے شخص نے قتل کر کے اس کا سر قلم کر دیا تھا۔
بی بی سی فارسی سروس کے مطابق مقامی طور پر مونا (غزل) حیدری کے نام سے جانی جانے والی لڑکی کا ایک تین سالہ بیٹا بھی تھا اور وہ اپنے شوہر کے ’پرتشدد رویوں‘ کے باعث ترکی فرار ہو گئی تھیں۔
تاہم اطلاعات ہیں کہ بعد میں اُن کا خاندان اُنھیں واپس لے آیا۔
مبینہ قاتل کی ہاتھ میں کٹا ہوا سر پکڑے گلیوں میں گھومنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں اور نیوز ادارے نے بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی تاہم اُنھوں نے سر کو دھندلا دیا تھا۔
اگلے دن ایرانی نیوز ادارے اِلنا (ایرانیئن لیبر نیوز ایجنسی) نے خبر دی کہ دو بھائیوں کو قتل کے چار گھنٹے بعد گرفتار کیا گیا ہے اور پولیس کی حراست میں اُنھوں نے خاتون کا سر قلم کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
النا نے پولیس افسر کرنل سہراب حسین نژاد کے حوالے سے بتایا کہ ان افراد کو عدالت کے روبرو پیش کر دیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا نے بعد میں رپورٹ دی کہ حکام نے مذکورہ شخص اور اس کے بھائی کو اس شخص کی بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا، اور دعویٰ کیا کہ ممکنہ طور پر اس قتل کے پیچھے خاندانی وجوہات تھیں۔
مقتولہ کے خاندان نے کیا کہا؟
مونا کے والد نے ایرانی خبر رساں ادارے انتخاب سے بات چیت میں کہا کہ وہ مونا کے سسر کے ساتھ ترکی گئے تھے تاکہ اُنھیں واپس اہواز لایا جا سکے۔
مونا کے والد کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی کو انسانی سمگلنگ کے ایک نیٹ ورک نے اہواز سے اٹھایا، تہران منتقل کیا اور پھر وہاں سے ترکی بھیج دیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ترکی میں ایک شامی سمگلر نے مونا کی رہائی کے لیے بھاری معاوضہ طلب کیا۔
اُنھوں نے اس بات کی تردید کی کہ مونا اپنے شوہر سجاد سے طلاق چاہتی تھیں مگر اُنھوں نے تصدیق کی کہ اُنھوں نے یہ شادی تب طے کی جب مونا بچی تھیں اور بعد میں اُنھوں نے مونا کو ’ازدواجی زندگی کے لیے فٹ‘ قرار دینے کے ثبوت کے طور پر ’جسمانی نشوونما‘ کی عدالتی سند بھی حاصل کی۔
مونا کے والد کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اُن کی بیٹی کا سر قلم کرنے پر سجاد کے خلاف عدالت میں فوجداری مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور وہ انھیں معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
ردعمل کیا رہا ہے؟
سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اس قتل کی مخالفت کی اور مختلف ہیش ٹیگز استعمال کر کے ایران میں خواتین کے حقوق پر بات کی۔
کچھ صارفین نے شکایت کی کہ خاتون کا نام خبروں میں نہیں دیا گیا اور یہ کہ اُنھیں ’موت کے بعد بھی تفریق کا نشانہ بنایا گیا۔‘
یہ خبر کئی ایرانی اخبارات کے صفحہ اول پر آئی۔ اخبار ’ارمانِ مِلّی‘ نے سرخی لگائی: ’غیرت کے نام پر قتل: خواتین اب بھی متاثر ہیں۔‘
اصلاح پسند اخبار ’ابتکار‘ نے لکھا: ’خواتین کے خلاف تشدد ایک سماجی مسئلہ ہے اور یہ طلاق، گھر سے فرار اور غیرت کے نام پر قتل کی وجہ بنتا ہے۔‘
ایران کے سخت گیر اخبار ’جوان‘ نے تکلیف دہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر تنقید کی اور لکھا: ’لوگوں کے حقوق میں مطلع ہونے کا حق بھی شامل ہے تاہم تشدد پر مبنی گھناؤنی ویڈیوز دنیا بھر میں ہر پروفیشنل میڈیا ادارے کے لیے سرخ لکیر ہیں۔‘
واضح رہے کہ روکنا نیوز ایجنسی کی شائع کردہ اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو کو اب تک ایران میں دسیوں ہزار لوگ دیکھ چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کچھ میڈیا اداروں کی جانب سے ایسی ویڈیوز پوسٹ کرنے پر ملک بھر میں تنقید ہوئی ہے۔
اتوار کو ایران کے پریس سپروائزری بورڈ نے ’مواد کی اشاعت میں پے در پے خلاف ورزیوں‘ پر روکنا کی ویب سائٹ بند کر دی۔
ایرانی آڈیو ویژوئل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ساترا) نے بھی متذکرہ مناظر سے ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے روکنا کے مینیجنگ ڈائریکٹر مسعود ابراہیمی کے حوالے سے بتایا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہے ہیں اور انھیں اس کا جواب دینا ہو گا۔
ارنا سے بات کرتے ہوئے مسعود ابراہیمی نے ’غلط فیصلے‘ کی ذمہ داری لی۔ ’ہم اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور (سمجھتے ہیں) کہ اس ویڈیو نے عوام کو متاثر کیا ہو گا۔ صحافت میں غلطیاں ہوتی ہیں اور ہم بھی اس سے پاک نہیں ہیں۔‘
ابراہیمی نے مزید کہا کہ اُنھیں اُمید ہے کہ وہ روکنا پر پابندی ختم ہونے کے بعد ادارتی ٹیم میں کچھ تبدیلیاں لا کر ’نیا ماحول تعمیر‘ کر سکیں گے۔
ایران کے پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر منتظری نے بھی اس ویڈیو کلپ کی اشاعت کی ’مذمت‘ کی تاہم کہا کہ اُن کا دفتر فی الوقت روکنا کے خلاف قانونی ایکشن نہیں لے رہا۔‘
ایران میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے متعلق کیا قوانین ہیں؟
ایران کا اسلامی تعزیری ضابطہ گھریلو تشدد یا ’غیرت کے نام پر قتل‘ میں قتل یا جسمانی طور پر بچوں کو نقصان پہنچانے کے مرتکب باپ یا دادا کے لیے کم سزا تجویز کرتا ہے۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق، ضابطہ اپنے بچوں یا پوتے پوتیوں کو قتل کرنے کے مجرم پائے جانے پر باپ، اور دادا یا نانا کو سزائے موت سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔
اگر مقتول کے بھائی یا دیگر رشتہ دار قتل کے مرتکب پائے جاتے ہیں، تو انھیں قصاص کی سزا دی جا سکتی ہے۔ تاہم، خاندان انھیں معاف کر سکتا ہے۔
رومینہ اشرفی کا قتل
حالیہ قتل نے ایران میں بہت سے لوگوں کو اپنے والد کے ہاتھوں قتل اور سر قلم کیے جانے والی 14 سالہ رومینہ اشرفی کی یاد دلائی ہے۔ ان کے والد کو رومینہ کے 35 سالہ بوائے فرینڈ کے ساتھ تعلقات پر اعتراض تھا اور وہ ان کی شادی کے مخالف تھے۔
رومینہ کی موت کے بعد، ایران نے ایک قانون پاس کیا جس کا مقصد بچوں کو تشدد سے بچانا تھا۔
ایک دہائی سے زائد عرصے تک قانون سازی رکی ہوئی تھی، لیکن رومینہ اشرفی کے قتل کے بعد 7 جون کو سخت گیر نگران کونسل نے اسے منظور کر لیا۔
اب بچوں اور نوعمروں کے تحفظ کے قانون کے مطابق، 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ تشدد اور بدسلوکی، جس میں جسمانی تشدد، جنسی استحصال اور جسم فروشی کے ساتھ ساتھ معاشی استحصال بھی قابل سزا جرم ہے۔ لیکن کچھ اسلامی فقہی احکامات پر عمل کرنے کے لیے جس عزم کے ساتھ اس قانون کا نفاذ کیا جا رہا ہے، انسانی حقوق کے کارکن اس سے خوش نہیں۔
سنیچر کے روز مونا حیدری کے قتل کے بعد، ایک ایرانی اصلاح پسند سیاست دان اور اسلامی ایران پیپلز پارٹی کی یونین کے سیکرٹری جنرل آذر منصوری نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’مونا حیدری غیرت کے نام پر قتل کا ایک اور شکار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’برسوں تک بحث کے بعد خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی گئی مگر متعلقہ فریقوں کے درمیان ابھی تحفظات برقرار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram/alireza_locked
ایران میں یہ کتنا عام ہے؟
ایران میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق، کچھ تحقیقات میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہر سال ایسے 375 سے 450 واقعات ہوتے ہیں۔
ایران میں پولیس کی جانب سے 2019 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایران میں 30 فیصد تک قتل اسی قسم کے تشدد سے متعلق تھے۔
رپورٹس کے مطابق دیہاتوں اور قبائلی برادریوں میں غیرت کے نام پر قتل زیادہ عام ہیں، جن میں سے اکثر مغربی صوبوں خوزستان، کرمانشاہ اور الام میں کیے گئے ہیں۔ لیکن بڑے شہروں میں بھی ایسے ہی جرائم کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔
سنہ 2020 میں اپنے والد کے ہاتھوں رومینہ اشرفی کے قتل کو ملک کے سب سے بھیانک واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
مئی 2021 میں، صوبہ خوزستان سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ ہم جنس پرست علی فاضلی مونفرید کو مبینہ طور پر اہواز میں ان کے کزنز اور بھائیوں نے اغوا کر کے ان کا سر قلم کر دیا۔
کہا جاتا ہے علی فاضلی کا قتل ان کے خاندان کو ان کی جنس کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد کیا گیا (ایران میں ہم جنس پرست اور شادی شدہ افراد کے لیے اپنے میاں یا بیوی کے علاوہ کسی کے ساتھ کسی قسم کی جنسی سرگرمی منع ہے)۔
اطلاعات کے مطابق علی فاضلی اپنے قتل سے پہلے ایران سے فرار ہو کر ترکی میں اپنے بوائے فرینڈ کے پاس جانا چاہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے

’غیرت کے نام پر قتل‘ کیا ہوتا ہے؟
یہ خاندان کی جانب سے کسی ایسے فرد کا قتل ہے جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہو کہ وہ رشتہ داروں کی بے عزتی کا سب بنا ہے۔
پریشر گروپ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سب سے عام وجوہات یہ ہیں:
- جب کوئی لڑکی یا لڑکا طے شدہ شادی کرنے سے انکار کر دے
- کوئی فرد جنسی حملے یا ریپ کا شکار ہوا ہو
- شادی سے باہر جنسی تعلقات کا الزام
اس طرح کے قتل کرنے والے مجرموں کی طرف سے دی جانے والی دیگر وجوہات میں کسی عورت کا ’غیر مناسب سمجھا جانے والا لباس پہننا‘ یا ’ایسے رویے کا اظہار کرنا جسے نافرمانی سمجھا جاتا ہو‘ بھی قتل کی وجوہات میں شامل ہے۔









