جیمز فولی: اغوا کے بعد قتل ہونے والے امریکی صحافی کی والدہ اور قاتل کی ملاقات

- مصنف, نومیہ اقبال
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ورجینیا
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دو رکن، جن پر امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل میں مدد کا الزام ہے، اب امریکہ میں انصاف کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کو اگست میں سزا سنا دی گئی تھی۔ جیمز کی والدہ نے حال ہی میں دوسرے ملزم کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔
یہ ورجینیا کی ایک سرد صبح تھی جب ڈایان فولی اس شخص کے سامنے بیٹھی تھیں جس نے ان کے بیٹے کو اغوا کیا اور اس کے قتل میں مدد کی۔ وہ ایک عدالت کے کمرے میں اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں جہاں اسے عمر قید کی سزا سنائی جانی تھی۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو الیگزینڈا کوٹے ایف بی آئی ایجنٹس اور وکلا میں گھرا پہلے ہی وہاں موجود تھا۔
لیکن جب وہ اپنی نشست پر بیٹھ گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگا جیسے وہاں بس میں اور وہ دو ہی لوگ ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہیلو کہا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ آسان نہیں تھا لیکن ایسا کرنا ضروری تھا۔ میرا بیٹا یہی چاہتا ہو گا۔‘
جیمز فولی کو 2014 میں ایک ایسے گروہ نے قتل کر دیا تھا جو ’بیٹلز‘ کے نام سے مشہور تھا اور اپنی بربریت کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔

اس گروہ نے عراق اور شام کے کئی علاقوں میں اس وقت دہشت پھیلائی جب 2014 سے 2017 تک یہاں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اپنے عروج پر تھی۔
19 اگست 2014 کو جیمز کا قتل ٹؤٹر پر نشر کیا گیا۔ ایک نوجوان نارنجی جمپ سوٹ پہنے صحرا میں گھٹنے ٹیکے بیٹھا ہے۔ کالے ماسک سے چہرہ ڈھانپے ایک شخص اس کے پیچھے چھری تھامے کھڑا ہے جو کیمرا کے سامنے ہی اسے قتل کر دیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ویڈیو کا عنوان تھا ’امریکہ کے نام ایک پیغام۔‘
سات سال بعد، دو سابق برطانوی شہری، 33 سالہ الشفیع الشیخ اور 38 سالہ کوٹے کو امریکہ کی ایک عدالت میں اس قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر سزا سنائی گئی۔
اپریل میں کوٹے کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جب ڈایان نے ان سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے چار گھنٹے ان کے لیے ایک عہد کی تجدید، ایک وعدہ اور درگزر کرنے جیسے تھے جو اب ان کی زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ اپنے بیٹے کی موت کے سانحے کے بعد وہ دنیا بھر میں مغویوں کی رہائی کے مشن پر کام کر رہی ہیں۔
72 سالہ ڈایان نے ایسی زندگی کبھی نہیں سوچی تھی۔
2012 میں جب جیمز شام میں لاپتہ ہوا تو وہ بطور نرس کام کر رہی تھیں۔ بیٹے کی گمشدگی کے چند ہی ہفتوں بعد انھوں نے نوکری چھوڑ دی۔
ان کا بیٹا پہلی بار اغوا نہیں ہوا تھا۔
2011 میں جیمز اور ان کے ساتھیوں کو لیبیا میں قذافی حکومت نے اغوا کر لیا تھا لیکن 44 دن بعد ان کو رہا کر دیا گیا۔ اس بار ان کا انجام مختلف ہونا تھا۔
جیمز 2012 میں شام گئے تھے۔ ان کو ممکنہ خطرات کا بھرپور علم تھا اور وہ مسلسل اپنے گھر والوں سے رابطے میں تھے۔
نومبر میں ایک ماہ تک ڈایان کا جیمز سے رابطہ نہ ہو سکا اور اسی ماہ کے آخر میں ان کو ایک ای میل موصول ہوئی۔
شدت پسند گروہ نے جیمز کو اغوا کرنے کا دعوی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکہ اہم مسلمان قیدیوں کو رہا کرے یا پھر 100 ملین یورو ادا کرے۔
گروہ کی جانب سے دیگر امریکی مغویوں کی رہائی کے لیے بھی ایسے ہی مطالبات کیے گئے تھے جن میں انسانی حقوق کارکن کائلا موئلر، پیٹر کیسگ اور صحافی سٹیون سوٹلوف شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہHANDOUT/BOSTON GLOBE
دن ہفتوں میں بدلے اور پھر مہینوں میں۔ جیمز کے خاندان کو اب بھی امید تھی کہ وہ واپس آئیں گے۔
امریکی حکومت کے فولی خاندان کو مطلع کر دیا تھا کہ وہ مزاکرات نہ کریں۔ ڈایان کہتی ہیں کہ ان کو قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی اگر انھوں نے خود سے تاوان اکھٹا کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ محکمہ خارجہ اس کی تردید کرتا ہے۔
کئی ماہ بعد فولی خاندان کو ایک اور پیغام ملا جس میں دھمکی دی گئی کہ امریکی فضائی حملوں کے بعد جیمز کو قتل کر دیا جائے گا۔
ڈایان کو اپنے بیٹے کے قتل کے بارے میں ایک صحافی سے علم ہوا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے لگا یہ کوئی ظالمانہ مذاق ہے۔‘
جیمز کے قتل کے بعد اسی گروہ نے پیٹر اور سٹیون کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، ان کو فاقوں پر مجبور کیا اور پھر ان کو قتل کر دیا۔ کائیلا کو 2015 میں قتل کر دیا گیا لیکن اس کی ویڈیو نہیں بنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
اسی سال امریکی ڈرون حملے میں اس گروہ کے سربراہ محمد امزاوی کو ہلاک کر دیا گیا۔ الشیخ اور کوٹے کو شام سے 2018 میں امریکی حمایت یافتہ کرد ملیشیا نے گرفتار کیا اور امریکہ کے حوالے کر دیا۔
اغوا ہونے والوں کے خاندانوں نے اصرار کیا کہ ان کو گوانتانامو بے کی فوجی جیل بھجوانے کی بجائے امریکہ لا کر مقدمہ چلایا جائے۔
ڈایان کہتی ہیں کہ ’ہمارے لیے یہ بہت ضرروی تھا کہ ان پر امریکہ میں مقدمہ چلایا جاتا اور ان کو شفاف مقدمے کا حق حاصل ہوتا۔‘
لیکن انصاف کا یہ سفر مشکل تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس مقام تک پہنچنے میں 10 سال لگے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’کاش ہمارے ملک اکھٹے مل کر کام کرتے اور ان کے قتل کے بعد احتساب پر اتنا وقت صرف کرنے کی بجائے ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کو زندہ واپس لاتے لیکن پھر بھی یہ کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘
کوٹے نے اغوا، تشدد اور شام میں مغویوں کے سر قلم کرنے سمیت آٹھ الزامات کو تسلیم کر لیا اور ڈیل کے تحت ہلاک ہونے والوں کے خاندان سے ملاقات کی حامی بھی بھری۔
ڈایان نے بھی اس ڈیل کو قبول کر لیا۔
اس چھوٹے سے کمرے میں ملاقات میں ڈایان کہتی ہیں کہ ’مجھے اس سے ڈر لگ رہا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ میں محفوظ ہوں اور وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، میرے پاس کچھ طاقت تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
’وہ پہلے ہی میرا پیارا بیٹا مجھ سے چھین چکا تھا۔ اس سے زیادہ وہ کیا کر سکتا تھا۔‘
ان چار گھنٹوں میں ڈایان کو اس دہشت گرد پر ترس آیا جسے اب اپنی ساری زندگی جیل میں گزارنی تھی۔
’میں چاہتی تھی کہ وہ اپنے اعمال کی وحشت کا سامنا کرے۔‘
انھوں نے اسے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا۔ ’میں چاہتی تھی کہ اس کو معلوم ہے کہ اس نے کس طرح اچھائی کو تباہ کیا اور جیمز جیسے لوگ شام کیوں گئے تھے۔ کیوں کہ وہ چاہتے تھے کہ دنیا کو سچ بتا سکیں۔‘
کوٹے نے خاموشی سے ان کی باتیں سنیں اور پھر اپنے خاندان کے بارے میں بھی بات کی۔
’اس نے کہا کہ وہ خدا سے معافی مانگ رہا ہے۔ اس نے اپنے خاندان کی ایک تصویر دکھائی۔ اس کے چھوٹے بچے ہیں جن کو شاید اب وہ کبھی نہیں دیکھ سکے گا۔ مجھے احساس ہوا کہ اس نے نفرت اور پروپیگینڈا کے پیچھے کتنا کچھ کھو دیا ہے۔ مجھے اس پر ترس آیا۔‘
لیکن کوٹے نے ڈایان کو یہ نہیں بتایا کہ جیمز اور دیگر افراد کو کہاں دفنایا گیا تھا۔ آج تک ان کی لاشیں نہیں مل سکیں۔
’اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ سوری۔ وہ مجھ سے احترام سے پیش آیا اور اس نے پچھتاوے کی بات کی لیکن اس نے معافی نہیں مانگی۔‘
ملاقات کا وقت ختم ہوا تو ڈایان نے ایک آخری جملہ کہا۔
’میں نے اسے کہا کہ مجھے امید ہے کہ کبھی نہ کبھی ہم ایک دوسرے کو معاف کرنے کے قابل ہوں گے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کی یہ درخواست ان کے عقیدے کا حصہ ہے۔
’مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہے، ہم سب ایسا کچھ نہ کچھ کرتے ہیں جس پر بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔‘
’اگر میں ان سے نفرت کروں گی تو وہ جیت جائیں گے۔ وہ مجھے اپنی گرفت میں رکھیں گے کیوں کہ پھر میں ان سے مختلف نہیں ہوں گی۔‘

جیمز کے قتل کے تین ہفتے بعد ڈایان نے جیمز فولی فاؤنڈیشن کا آغاز کیا جو حکومت سے بیرون ملک اغوا ہونے والے امریکیوں کی مدد کے لیے کام کرتی ہے۔
ان کے کام نے ان کو ایک سیاسی طاقت بنا دیا ہے۔ مغویوں کے خاندان کہتے ہیں کہ ان کو روکنا مشکل ہے۔
ڈایان کہتی ہیں کہ ’حکومت کو چاہیے کہ بیرون ملک سفر کے دوران ہمارے شہریوں کا سہارا بنے۔‘
’حکومت کے پاس بہت سے وسائل ہیں۔ پابندیاں، انسانی امداد، ویکسین، ویزا، کچھ بھی جو ہمیں کسی کو اغوا ہونے سے بچنے میں مدد کر سکے۔‘
اس سب کے باوجود ان کی اور ان کے خاندان کی تکلیف کم نہیں ہو سکی۔
’جم کے بہن بھائیوں اور میرے شوہر کے لیے یہ سب بہت مشکل تھا۔ ہم شاید اس کی قیمت زندگی بھر ادا کریں گے۔‘
ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے خاندان ڈایان کا راستہ نہیں اپنانا چاہتے۔
بیتھنی ہینز، جو ڈیوڈ کی بیٹی ہیں، نے بی بی سی کو کہا کہ ’میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘
برطانیہ سے معاہدے کے تحت کوٹے اور الشیخ کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
ڈایان کہتی ہیں کہ ’مجھے اس پر خوشی ہے۔ ان کے پاس یہ سوچنے کے لیے ساری عمر ہے کہ انھوں نے کیا کیا۔ وہ اپنی آزادی، شہریت اور خاندان کھو چکے ہیں۔ ان کی نفرت ہار گئی۔‘











