گیری شرون: امریکی سی آئی اے کا جاسوس جسے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن پر بھیجا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, برنڈ ڈبسمین جونیئر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
19 ستمبر 2001 کو جب 9/11 حملوں کے نتیجے میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون تباہ حال تھے تو ایسے میں امریکی تحقیقاتی ایجنسی سی آئی اے کے افسر گیری شرون اپنے باس کے دفتر میں داخل ہوئے اور انھیں بس یہی کہا گیا: 'بن لادن کو پکڑو، انھیں مار دو اور مجھے ان کا سر ڈرائی آئس کے ڈبے میں واپس لا کر دو۔'
اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری اور القاعدہ کے اندرونی حلقوں میں بھی یہی حکم گردش کر رہا تھا: ’ان کے سر ہمارے نیزوں پر ہونے چاہییں۔‘
کچھ ہی دنوں میں شرون اور دیگر افسران افغانستان میں داخل ہونے والا پہلا امریکی گروہ بن گیا۔ ان کے پاس سیٹلائٹ فون جیسے ہی ہتھیار تھے۔ لیکن ان کے لاکھوں ڈالر ممکنہ اتحادیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کافی تھے۔
محض چند ہفتوں بعد 7 اکتوبر کو امریکہ نے طالبان کے زیر انتظام افغانستان پر حملے کا آغاز کیا جس نے قریب 20 سال تک چلنے والی جنگ کی بنیاد رکھی۔ یہ جنگ آخر کار اگست 2021 میں اختتام پذیر ہوئی۔
اسامہ دن لادن کو 2011 میں ہلاک کردیا گیا مگر ان کی بعد القائدہ کے سربراہ بننے والے ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے میں امریکہ کو مزید ایک دہائی کا عرصہ لگا۔
جب کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایمن اظواہری کی موت ہوئی تو اس کے ایک روز بعد یکم اگست کو گیری شرون 80 سال کی عمر میں سٹروک سے چل بسے۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے شرون کو امریکی خفیہ ایجنسی میں کام کرنے والے ہر افسر کے لیے ’لیجنڈ اور حوصلہ افزا‘ قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ قبل اور سی آئی اے میں اپنے ہر کردار میں گیری نے ہمارے ادارے کے لیے بہترین مثال قائم کی۔ ہم ان کی لگن، وفاداری اور عزم کو کبھی نہیں بھول سکیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی آئی اے میں اس وقت ایسے بہت کم افسران تھے جو اس ابتدائی آپریشن کی سربراہی کر پاتے۔ کئی دہائیوں پر محیط انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران 1980 سے 1990 میں افغانستان اور پاکستان کے لیے سی آئی اے کے ’سٹیشن چیف‘ کا عہدہ سنبھالا۔
انھوں نے پی بی ایس کو دیے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اس وقت تو افغانستان میں ’امریکی حکومت کی کوئی دلچسپی نہ تھی۔‘
’وہاں طالبان تھے۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور ان کی حکمرانی انتہائی ناسازگار ہے۔ وہ لوگوں سے بُرے طریقے سے پیش آتے تھے۔ مگر دراصل واشنگٹن میں کسی کو اس کی فکر نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہCENTRAL INTELLIGENCE AGENCY TWITTER
مگر شرون نے کہا کہ 1996 میں اس وقت سب بدل گیا جب امریکی انٹیلیجنس نے اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی۔ انھیں 1980 کی دہائی تک سوویت یونین کے خلاف جنگ میں جہادی اور گوریلا وار کا مجاہد سمجھا جاتا تھا۔
شرون سی آئی اے کے اس انسداد دہشتگردی ونگ میں شامل تھے جس نے سعودی شہری اسامہ بن لادن کے بارے میں تنبیہ جاری کی تھی۔ یوں شرون نے افغان کمانڈروں کے ساتھ رابطے بحال کر دیے۔ ان لوگوں سے ان کے پرانے روابط تھے جب وہ اس علاقے میں کام کرتے تھے۔
اگلے تین برسوں کے دوران شرون کی ہدایت پر سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کی کئی کوششیں کیں۔ اس کے لیے ان کے قافلے پر حملے کیے گئے، جنوبی افغانستان کی زرعی زمین پر چھاپے مارے گئے اور یہاں تک کہ کروز میزائل اور بمباری جیسے منصوبے بھی بنے۔
اس کے بعد 1998 میں اسامہ بن لادن نے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں میں دھماکے کروائے۔ اس سال اگست میں افغانستان کے خوست صوبے میں القاعدہ کے اڈوں پر بڑے پیمانے پر کروز میزائل حملوں میں وہ بچ نکلے۔
تین سال بعد القاعدہ کے 19 ہائی جیکرز نے 9/11 حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیے
افغانستان میں 2001 کا امریکی مشن، جسے سرکاری طور پر آپریشن ’جا بریکر‘ کہتے ہیں، میں شرون اور سات دیگر امریکیوں نے شمالی اتحاد سے رابطے بنائے جو 1996 سے افغانستان میں طالبان حکومت سے لڑ رہے تھے۔
جب شرون کو یہ حکم ملا تو ان کی عمر 59 برس تھی۔
کئی سال بعد انھوں نے بتایا کہ ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا بلاوا آ جائے گا۔ میرے خیال سے یہ اچھا فیصلہ تھا کیونکہ ناردرن الائنس (شمالی اتحاد) کے لوگوں سے میرے بہتر تعلقات تھے۔‘
شرون کی بات سے مائیکل مک ملری بھی اتفاق کرتے ہیں جو سی آئی اے کے سابقہ نیم فوجی افسر ہیں۔ انھوں نے افغان جنگ میں خدمات سر انجام دیں اور بطور نائب اسسٹنٹ سیکریٹری دفاع بھی کام کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’11 ستمبر 2001 سے قبل افغانستان میں ان کے تجربے کی بدولت حملے کے ابتدائی مرحلے میں کامیابی ملی اور اس کے بعد باقاعدہ مداخلت کی گئی۔‘
’وہ اس پہلی ٹیم میں تھے جو افغانستان گئی تھی۔ گیری نے رہنمائی کی بہترین مثال قائم کی۔‘
فوجی آپریشن کی حد تک افغانستان میں امریکی مداخلت کامیاب رہی اور دسمبر 2001 کے دوران طالبان کا تخت الٹایا گیا۔ مگر شرون کے مرکزی ہدف اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری جیسے القاعدہ کے سینیئر کمانڈر تھے جو فرار ہو گئے۔
گذشتہ سال افغانستان میں طالبان حکومت کی واپسی ہوئی جب انھوں نے طویل مدت تک افغان حکومت کے ساتھ گوریلا جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں۔ اسی کے باعث کابل سے امریکی انخلا ہوا۔
بعد میں اپنے چند انٹرویوز میں شرون نے کہا تھا کہ امریکہ اس لیے افغانستان کو محفوظ نہ بنا سکا اور وہاں اپنے مرکزی دشمنوں کو نہ پکڑ سکا کیونکہ 2003 کے دوران عراق میں مداخلت سے سی آئی اے اور فوجی وسائل ضائع ہوئے۔
امریکی صدر جارج بش نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ عراق میں مداخلت 9/11 حملوں سے جڑی ہے۔ تاہم شرون کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ دونوں میں کوئی تعلق تھا۔
انھوں نے 2005 میں این پی آر کو بتایا تھا کہ ’دور دراز علاقوں میں موجود خیموں اور اڈوں پر سی آئی اے کے افسران کم پڑ گئے تھے کیونکہ عراق میں ان کی طلب بڑھ گئی تھی۔ اس سے ہمیں کافی نقصان ہوا۔ اس نقصان کی قیمت ہم آج بھی چکا رہے ہیں۔‘
آخر کار شرون نے افغانستان میں مداخلت کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ 2005 میں ان کی کتاب ’فرسٹ اِن‘ شائع ہوئی جو اسی آپریشن سے متعلق ہے۔
ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسامہ بن لادن اور دیگر اتحادی شرون کو ایک اہم ہدف سمجھتے رہے۔ سال 2013 کے دوران ٹوئٹر پر الشہاب نامی مسلح گروہ نے ان کے قتل کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے این بی سی کو بتایا کہ ایسے دعوؤں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
اس وقت این بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گیری شرون زندہ ہیں اور کی صحت بھی اچھی ہے۔
شرون کے شروع کیے گئے مشن آج بھی ورجینیا میں سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر میں جاری ہیں۔ سی آئی اے کے گراؤنڈ پر وہ ہیلی کاپٹر بھی کھڑا ہے جو 2001 کے اس مشن میں استعمال ہوا تھا۔










