اسرائیل فلسطین کشیدگی: 44 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی، امریکہ کا خیر مقدم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کے دن سے جاری کشیدگی اور 44 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔
امریکہ اور اقوام متحدہ کے رہنماؤں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں۔
ایک بیان میں، امریکی صدر جو بائیڈن نے جنگ بندی کی تعریف کی اور فریقین سے مطالبہ کیا کہ ’اس پر مکمل عملدرآمد کریں اور غزہ میں ایندھن اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔‘
امریکی صدر نے شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس کی بروقت تحقیقات پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ یہ جنگ بندی مصر کی طرف سے ثالثی کے نتیجے میں ہوئی، جو ماضی میں بھی اسرائیل اور غزہ کے درمیان ثالث کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔
اتوار کی شام تک، فلسطینی وزارت صحت نے کہا تھا کہ تازہ ترین تشدد میں ریکارڈ کی گئی 44 اموات میں سے 15 بچوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے فلسطینیوں کی ہلاکت اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا ذمہ دار ’اسرائیلی جارحیت‘ کو قرار دیا ہے۔
جمعے کے روز سے جاری تشدد میں متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذکرات مصر کی کوششوں سے اسرائیل اور اسلامی جہاد (پی آئی جے) کے درمیان ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی آئی جے کے ترجمان طارق سیلمی نے کہا، ’ہم مصری کوششوں کو سراہتے ہیں جو ہمارے لوگوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے کی گئیں۔‘
اسرائیل نے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو وہ ’سخت جواب دینے کا حق برقرار رکھتا ہے۔‘
اس سے قبل غزہ سے یروشلم پر راکٹ فائر کیے گئے۔ گذشتہ سال مئی کے بعد ایسا پہلی بار ہوا کہ غزہ سے راکٹ یروشلم تک پہنچے ہوں۔
فلسطین میں بحرانی کیفیت
فریقین کے درمیان جنگ بندی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب غزہ میں ایک بحران پیدا ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں صرف دو دن کے لیے جنریٹر چلانے کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ ان میں سے کچھ اموات کی ذمہ دار پی آئی جے ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے سنیچر کو ایک راکٹ داغا جس نے جبلیا میں بچوں کو ہلاک کیا۔ بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ اب تک اسرائیل میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
اتوار کے دن فلسطین کے علاقے رفح میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے جنازے کے لیے ایک بڑا ہجوم اکھٹا ہوا۔
ہلاک ہونے والوں میں پی آئی جے کے سینیئر کمانڈر خالد منصور بھی شامل ہیں۔ ویسٹ بینک کے شہر نابلس میں بھی غزہ کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY VIA GETTY
اسرائیل کا دعویٰ
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کارروائیوں کے ذریعے غربِ اردن میں فلسطینی عسکریت پسند گروہ اسلامک جہاد (پی آئی جے) کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں چھ بچے اور اسلامک جہاد کے سربراہ تيسير الجعبری سمیت دیگر جنگجو بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کے مطابق یہ فضائی حملے پی آئی جے کے ’فوری خطرے‘ کے پیش نظر کیے گئے۔
ایک اسرائیلی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے سے اب تک اسرائیل پر فلسطین سے 300 راکٹ داغے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ سے داغے گئے اکثر راکٹ حملوں کو روکا گیا۔ ان حالیہ واقعات نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان کشیدگی بڑھا دی۔
آخری بار ایسا مئی 2021 میں ہوا تھا جب 11 روزہ جنگ کے دوران 200 فلسطینی اور ایک درجن اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ان فضائی حملوں کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں میں اب تک مبینہ طور پر اسلامک جہاد کے لگ بھگ 19 اراکین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
فلسطینی طبی حکام نے غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری ’اسرائیلی جارحیت‘ پر عائد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک 203 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حماس کا اسرائیل پر حملوں سے اجتناب
اب تک علاقے کے سب سے بڑے مسلح گروہ حماس، جو پی آئی جے جیسے نظریات رکھتا ہے اور اس کے اقدامات کی معاونت کرتا ہے، نے اسرائیلی علاقوں کی جانب راکٹ نہیں داغے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے بھی حماس کو نشانہ بنانے والے کسی فضائی حملے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
جمعے کو حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی گروہ متحد ہیں تاہم یہ ممکنہ طور پر اس لیے ان حملوں میں ملوث نہیں کیونکہ غزہ میں اس کی حکومت ہے اور اس کے بعض عملی تحفظات ہوسکتے ہیں۔
فلسطینی علاقوں میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔ شمالی غربِ اردن میں پی آئی جے کے رہنما کی گرفتاری کے بعد اسرائیل نے غزہ کے ساتھ اپنے تمام راستے بند کر دیے تھے۔
مگر حماس کی حکمت عملی بدل سکتی ہے اگر غزہ میں شہری ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی ہے۔ اگر حماس بھی اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو صورتحال مزید سنجیدہ ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ غزہ سے قریب 200 راکٹ داغے گئے مگر اکثر کو اسرائیلی دفاعی نظام نے روک لیا ہے اور کسی اسرائیلی کی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اس کے مطابق 30 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دو ہتھیاروں کی تنصیبات اور راکٹ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے چھ مقامات شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک نے دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر آپریشن کیا جس میں اہداف کا باریکی سے تعاقب کیا گیا۔ جبکہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں نہیں معلوم یہ بات کہاں تک جائے گی مگر اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ یہ (آپریشن) مشکل اور طویل ہو سکتا ہے۔‘
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے اہداف کا تعلق پی آئی جے سے ہے۔ ان میں غزہ شہر میں فلسطین ٹاور کی رہائشی عمارت شامل ہے۔ اس پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں عمارت سے دھواں اٹھنے لگا تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ تيسير الجعبری پی آئی جے کے سینیئر کمانڈر تھے اور وہ اسرائیلی شہریوں کے خلاف متعدد دہشتگردی کے حملوں میں ملوث رہ چکے تھے۔
مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں پانچ سالہ آلا کدوم بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ایرانی شہر تہران کے دورے کے دوران پی آئی جے کے سیکریٹری جنرل زياد النخالہ کا کہنا تھا کہ ’ہم اس جارحیت کا ڈٹ کر جواب دیں گے اور اس لڑائی میں ہمارے لوگ فتح سے ہمکنار ہوں گے۔‘
’اس جنگ میں کوئی سرخ لکیر نہیں۔۔۔ تل ابیب مزاحمتی راکٹوں کی زد میں آئے ہیں۔‘
پیر کی رات کو اسرائیل نے بسیم سعدی کو گرفتار کیا تھا اور رپورٹ کی تھی کہ وہ پی آئی جی کے غرب اردن میں سربراہ ہیں۔
انھیں جینن کے علاقے میں قید میں رکھا گیا تھا۔ اسرائیلی عربوں اور فلسطینیوں کے حملوں کے نتیجے میں 17 اسرائیلی اور دو یوکرینی ہلاک ہوئے تھے اور دو حملہ آور ضلع جینن سے آئے تھے۔

بسیم سعدی کی گرفتاری کے بعد غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر موجود آبادیوں کی سکیورٹی کے لیے اقدامات کو مزید سخت کر دیا تھا اور انتباہ جاری کیا تھا کہ پی آئی جے شہریوں اور سپاہیوں پر حملے کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پی آئی جے گروپ کیا ہے؟
پی آئی جے کو ایران کی حمایت حاصل ہے اس کا ہیڈ کوارٹر دمشق، شام میں ہے اور یہ غزہ میں موجود مضبوط ترین عسکریت پسند گروہوں میں سے ایک ہے۔
اس گروپ پر اسرائیل میں بہت سے حمل کرنے کا الزام ہے جن میں فائرنگ اور راکٹ حملے دونوں شامل ہیں۔
اسرائیل اور پی آئی جے نے سنہ 2019 میں پانچ روز تک جنگ کی تھی۔ یہ لڑائی بھی اسرائیل کی جانب سے ایک پی آئی جے کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ مرنے والے کمانڈر کے بارے میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اس تشدد کے نتیجے میں 34 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے اور 111 زحمی ہوئے تھے جبکہ 63 اسرائیلیوں کو بھی طبی امداد کی ضرورت پڑی تھی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے 25 فلسطینی عسکریت پسند تھے جن میں سے وہ بھی شامل تھے جو راکٹ حملے کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔











