’آفس ہاؤس ورک‘: خواتین جو کام کی جگہوں پر جنسی تعصب کے خلاف لڑ رہی ہیں

    • مصنف, سوامی ناتھن نتاراجن
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ

’عورت ہونے کی وجہ سے مجھے ایسے کام کرنے کی عادت ہے جن پر کوئی شاباش نہیں ملتی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں ایک ماں ہوں، کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں ایک بے کار بیوی ہوں۔‘

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والی ماریہ (فرضی نام) نے یہ باتیں تب کہیں جب ہم نے اُن سے کہا کہ وہ ملازمت کی جگہ پر اپنے کردار پر بات کریں۔

30 سالہ ماریہ نے لڑکپن سے ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ 19 برس کی عمر میں وہ ایک سیاست دان کی سیکریٹری تعینات ہوئیں۔ ملازمتی ذمہ داریوں میں ’دفتر کا انتظام و انصرام، ملاقاتیں مقرر کرنا اور فون کالز کے جواب دینا‘ شامل تھا۔

مگر وہ کہتی ہیں کہ آج تک ترقیوں کے باوجود اُن کے روز مرہ کے حقیقی معمولات میں کافی بنانا، کھانا گرم کرنا، باس کے سامنے پیش کرنا، اور برتن دھونا بھی شامل ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’یہاں تک کہ اُنھوں نے مجھ سے اپنی بیوی کی سالگرہ پر اس کے لیے پھول خریدنے کو بھی کہا کیونکہ وہ خود بہت مصروف تھے۔‘

مگر یہ مسائل اکیلی ماریہ کے نہیں ہیں۔

یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں اکنامکس کی پروفیسر اور مصنف لیز ویسٹرلنڈ کے مطابق مثال کے طور پر امریکہ میں ملازمت کی جگہوں پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں ایسے کام کرنے کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ کہا جاتا ہے جن میں ترقی کے امکانات نہیں ہوتے۔

اور عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھلے ہی خواتین سنہ 2021 میں عالمی افرادی قوت کا 39 فیصد تھیں مگر ان میں سے بہت کم قائدانہ عہدوں تک پہنچیں۔

فوربز میگزین کا کہنا ہے کہ سنہ 2021 میں دنیا کی 500 بڑی کمپنیوں میں سے صرف تقریباً آٹھ فیصد کی سربراہ خواتین تھیں۔ یہاں ہم دنیا کے مختلف حصوں میں موجود خواتین سے اُن کے تجربات کے بارے میں بات کریں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ ایسے جنسی طور پر متعصبانہ کاموں کو کیسے منع کیا جا سکتا ہے جنھیں اکثر ’دفتر کا گھریلو کام‘ بھی کہا جاتا ہے۔

’بالکل نہیں‘: دفتر کی صفائی سے انکار

نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی رفعت سلامی کہتی ہیں کہ ان میں سے کچھ ناقابلِ ترقی کام ذلت آمیز بھی ہوتے ہیں۔ ’جب مجھے صحافت میں اپنی پہلی ملازمت ملی تو میرے اندر بھرپور جذبہ تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں دنیا بدل کر رکھ دوں گی۔ مگر میرے کام کی شروعات میزیں صاف کرنے سے ہوئی۔‘

رفعت، ابوجا میں وائس آف نائیجیریا کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ سرکاری ملازمت ملنے سے قبل اُنھیں مختلف نجی اداروں میں کام کرنا پڑا جہاں اُن کے مطابق اُن سے ایسے کاموں کی توقع کی جاتی جو پیشہ ورانہ دائرہ کار سے بالکل باہر تھے۔

رفعت کے معاملے میں وہ دفتر کی دو خواتین رپورٹرز میں سے کم عمر تھیں اور اُنھیں دفتر کو صاف ستھرا رکھنے کا کام سونپا گیا۔ ’میں کام پر جانے سے پہلے اپنا گھر صاف کرتی اور دفتر میں سب سے پہلا کام بھی دفتر صاف کرنا ہوتا۔‘

مگر رفعت کہتی ہیں اُنھوں نے مزاحمت کی اور مالکان سے کہا کہ وہ صفائی کے لیے عملہ رکھیں۔ ’میں نے خود سے کہا میں یہ بالکل بھی نہیں کروں گی۔ میں نے مزاحمت کرنا شروع کر دی۔ اُنھیں سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں ایسا کیوں کر رہی ہوں۔‘

رفعت کہتی ہیں کہ اُن کے ردِ عمل نے اُن کے ساتھیوں کو حیران کر دیا۔ بعد میں اُنھوں نے وہ ملازمت چھوڑ دی۔

’اگر کوئی عورت کوئی کام کرنے سے منع کر دے تو لوگ کہتے ہیں کہ تم مغرور ہو اس لیے تمہاری شادی نہیں ہوئی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’گھر پر آپ کو شوہر اور بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے اور جب آپ کام پر آئیں تو وہاں بھی سب کو اُمید ہوتی ہے کہ آپ مرد ساتھیوں کا بھی خیال رکھیں گی۔ آپ گنجائش نکالتی ہیں اور خود سے کہتی ہیں کہ مجھے یہاں پر مغرور نظر نہیں آنا۔‘

رفعت کہتی ہیں کہ اس ’صنفی طور پر مخصوص کام‘ سے بچنا بہت مشکل ہے اس لیے وہ اکثر لوگوں کے لیے کھانا بنا لیتی ہیں۔ مگر وہ کہتی ہیں کہ کام کی جگہوں پر ایسے کاموں سے انکار کرنا ضروری ہے جو کہ وہ اب کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میری شخصیت ایک مضبوط شخصیت ہے۔ میں خود کو آگے رکھتی ہوں۔ میری رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اُنھیں سنا جاتا ہے اور احترام کیا جاتا ہے۔‘

’چائے کافی بنانا‘

جاپان کی نانا وتارائی کا تجربہ بھی رفعت جیسا ہی رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میری والدہ خوراک کی ایک بڑی کمپنی کے دفتر میں کام کرتی تھیں۔ اُن کی ملازمت کے دوران مرد سٹاف کا خواتین سے چائے کافی بنانے کا کہنا عام تھا۔ اسے ’نارمل‘ سمجھا جاتا تھا۔‘

’میری والدہ اور اُن کی ساتھی خواتین باری باری صبح میں چائے کافی بنایا کرتی تھیں۔ یہ اُن کی شفٹ کا حصہ بن چکا تھا۔ وہ روز صبح پہلا کام یہی کیا کرتی تھیں۔‘

اپنی والدہ کے تجربات نے نانا کو مزید سینیئر عہدوں تک پہنچنے کے لیے تحریک فراہم کی۔

جب 30 برس قبل اُنھوں نے کام کرنا شروع کیا تھا تو اُنھوں نے نوٹ کیا کہ خواتین کو عام طور پر ’ثانوی نوعیت‘ کے کام سونپے جاتے تھے۔

’مردوں کو زیادہ اہم کردار مثلاً سیلز، مینیجمنٹ، مارکیٹنگ وغیرہ ملتے۔ خواتین صرف آفس اسسٹنٹ، کلرک یا دیگر ماتحت کرداروں میں ہی رہتیں۔ زیادہ تر کمپنیوں میں ڈائریکٹرز اور ایگزیکٹیوز کی سطح پر خواتین نہیں ہوا کرتیں۔‘

چنانچہ اُنھوں نے بطور ایونٹ کوآرڈینیٹر اور مترجم فری لانسنگ شروع کی اور کہتی ہیں کہ اُنھوں نے کریئر کی خاطر خاندان چھوڑ دیا ہے۔

نانا کہتی ہیں کہ چیزیں بہتر ہونی چاہیئں تاہم وہ اعتراف کرتی ہیں کہ اُن کی والدہ کے دور سے اب تک تبدیلی تو آئی ہے۔

مثال کے طور پر جاپانی حکومت نے سنہ 1986 میں ملازمت کے مساوی مواقع کا قانون منظور کیا جس کے تحت خواتین کے خلاف تربیت، فوائد، ریٹائرمنٹ اور برطرفی کے معاملے میں صنفی امتیاز نہیں برتا جائے گا اور بھرتی، فرائض اور ترقی کے لیے مرد اور عورتوں کو برابر سمجھا جائے گا۔

نانا کو امید ہے کہ یہ تبدیلیاں جو جاپان کے کام کرنے کے ماحول میں آ رہی ہیں اس سے آئندہ آنے والی نسل میں خواتین کو کام اور خاندان کی پرورش میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا پڑے گا۔

صنفی تفریق کو ختم کرنے کے لیے دو صدیاں درکار ہیں

صنفی برابری سے متعلق اک نئی عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برابری تک پہنچنے کے لیے موجودہ رفتار سے چلیں تو کم از کم 132 سال لگیں گے۔

جولائی 2022 میں عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے جاری کردہ گلوبل جینڈر گیپ کی رپورٹ کے مطابق زندگی گزارنے کی لاگت کا بحران مدد نہیں کر رہا ہے اور خواتین کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہا ہے۔

یہ فرق سب سے زیادہ جنوبی ایشیا میں ہے اور یہاں برابری حاصل کرنے میں تقریباً دو صدیاں لگیں گی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 صنفی مساوات کو ایک نسل پیچھے لے گیا ہے، جنوبی ایشیا جہاں پہلے سے یہ فرق سب سے زیادہ ہے وہاں اندازاً اسے حاصل کرنے میں تقریباً دو صدیاں لگیں گی۔

اور یونیورسٹی آف پٹسبرگ میں معاشیات کی پروفیسر لیز ویسٹرلنڈ کا کہنا ہے کہ یہ فرق اس صورت میں مزید بڑھتا رہے گا اگر خواتین ’دفتر کے گھریلو کام‘ جاری رکھیں گی۔

انھوں نے اپنے تین دوستوں کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھی، The No Club: Putting a Stop to Women's Dead-end Work۔

وہ کہتی ہیں ’اگر آپ بہت زیادہ غیر پروموشنل کام کرتے ہیں، تو آپ کو بہت زیادہ جذباتی تناؤ، جلن اور تھکن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ آپ اپنی صلاحتیوں کا استعمال نہیں کر رہے ہیں۔‘

دفتر کے گھریلو کاموں کے مثالیں

میکسیکو سے ایڈتھ: میرے ڈیپارٹمنٹ کے مینیجر نے مجھ سے اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے اس سے ملاقات کا وقت لینے کو کہا، میں نے ایچ آر کو شکایت کی۔ لیکن مجھے تین ہفتے بعد نکال دیا گیا کیونکہ کمپنی نے کہا، میں نہیں جانتی تھی کہ مجھے اپنے باس کی اتھارٹی کا احترام کیسے کرنا ہے اور ایک ٹیم میں کیسے کام کرنا ہے۔

ارجنٹائن کی گیبریلا: ’کئی قانونی فرمز میں سیکریٹری/اسسٹنٹ کے کام میں کافی بنانا، لنچ خریدنا، برتن صاف کرنا اور دھونا، میٹنگ روم کی میز صاف کرنا، اور انتظامی کام کے علاوہ بہت کچھ شامل ہے، اور وہ بھی مضحکہ خیز کم تنخواہوں پر۔‘

چلی سے سلویا (اس کا اصل نام نہیں): ’میں ایک بڑی بین الاقوامی کمپنی میں کام کر رہی تھی، ایک دن مینیجر ہمارے لیے ایک کیک لے کر آئے۔ اس وقت خواتین اور مردوں کا تناسب تقریباً ایک سے چار تھا۔ کم تعداد میں ہونے کے باوجود مینیجر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے کیک کاٹ کر دینے کو کہا، میں جیسے جم گئی۔‘

کامیابی سے نہ کیسے کہیں

ارجنٹائن کی سیکریٹری ماریہ جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اپنے باس کے لیے بہت زیادہ ’آفس ہاؤس ورک‘ کرتی ہیں اور اپنی صورت حال پر شرمندہ ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہم ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے ہیں۔ اب یہ باپ بیٹی کا رشتہ ہے۔ میں ان سے جھگڑے بغیر شائستہ انداز میں نہ کہہ سکتی تھی، لیکن میں نے کبھی نہیں کہا۔ مجھے نہیں معلوم کیوں۔‘

یہ بھی پڑھیے:

’میں جانتی ہوں کہ میری قابلیت اس نوکری سے زیادہ ہے۔ اکثر، میں اپنے آپ سے پوچھتی ہوں، میں ایسا کیوں کر رہی ہوں؟‘

لیز نے تسلیم کیا کہ نہ کہنا آسان نہیں ہے اور وہ خواتین کو اس پر بات کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔

’صرف ہاں کہنے کے بجائے، کہیں: 'میں یہ اسائنمنٹ کروں گی، لیکن اگر میں اس کام کو سنبھالوں گی، تو میرے پاس پروڈکٹ لانچ کرنے کے لیے وقت نہیں رہے گا۔‘ وغیرہ۔

’اسے کام کی جانب موڑ دینا بہترین طریقہ ہے، کیونکہ آخر کار یہ خود تنظیم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ تبدیلیاں تبھی آئیں گی جب مینیجرز کو احساس ہو گا کہ یہ اضافی کام دینے سے اصل کام کے معیار پر اثر پڑے گا۔

ماریہ، جو پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اپنی موجودہ نوکری چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن مستقبل میں جو بھی کام کریں گی اس میں وہ نہ کہنے کے لیے پر عزم ہیں۔

نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی رفعت نے بی بی سی کو بتایا، اگرچہ بعض دفعہ سماجی اور ثقافتی ماحول میں خواتین کے لیے بات چیت کرنے کی اکثر گنجائش نہیں ہوتی، لیکن وہ پیچھے ہٹنے اور نہ کرنے سے اتفاق کرتی ہیں، انھوں نے ہمیں ایک واقعے کی مثال دی جو رضاکارانہ شعبے میں کام کے دوران ان کے ساتھ پیش آیا۔

’میں ایک میٹنگ میں اکیلی عورت تھی، اور میں سب سے زیادہ تجربہ کار تھی۔ پھر بھی مجھ سے میٹنگ کے منٹ لینے کو کہا گیا۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ آپ کو نوٹس لینے کے لیے سیکریٹری رکھنی چاہیے۔

’اور پتہ کیا ہوا؟۔۔۔۔ انھوں نے سیکریٹری رکھ لی۔‘