یوکرین جنوبی حصے پر روس کا قبضہ ختم کرنے کے لیے 10 لاکھ کی تعداد والی فوج تیار کر رہا ہے۔

New recruits to the Ukranian army being trained by UK armed forces personnel at a military base near Manchester

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنیوکرینی فوج میں نئے بھرتی ہونے والوں کو مانچسٹر کے قریب ایک فوجی اڈے پر برطانیہ کی مسلح افواج کے اہلکار تربیت دے رہے ہیں۔
    • مصنف, ایمیلی میکگریوی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کا کہنا ہے کہ یوکرین اپنے ملک کے جنوب کو روس کے قبضے سے چھڑانے کے لیے نیٹو کے ہتھیاروں سے لیس ایک 'دس لاکھ فوج' تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

اولیکسی ریزنیکوف نے کہا کہ بحیرہ اسود کے ساحل کے ارد گرد کے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا ملکی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔

کیئو میں بی بی سی کے جو اِن وُوڈ کا کہنا ہے کہ تاہم وزیرِ دفاع کا تبصرہ کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر محض ایک نعرہ دکھائی دیتا ہے۔

وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب روس نے مشرقی ڈونباس کے علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے مزید پیش رفت کی ہے۔

اتوار کے روز فلیٹوں کے ایک بلاک پر ہونے والے حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں 20 سے زیادہ افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

امدادی کارکن اب بھی ڈونیسک کے علاقے میں کراماٹوسک شہر کے قریب چاسیو یار میں پانچ منزلہ عمارت کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں جو روسی حملے کے خلاف مزاحمت کا مرکز رہا ہے۔

ٹائمز اخبار کے ساتھ اپنے انٹرویو میں، مسٹر ریزنکوف نے یوکرین کو سوویت دور کے ہتھیار کی جگہ نیٹو کے جدید اور معیاری فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود کی سپلائی میں 'اہم' کردار ادا کرنے پر برطانیہ کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی ترسیل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں اپنے فوجیوں کی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر مزید اسلحے کی ضرورت ہے۔ ہر روز ہم ہاؤٹزر (توپوں) کا انتظار کر رہے ہیں، ہمارے سو فوجی مارے جا سکتے ہیں۔'

وزیر دفاع نے کہا کہ 'ہمارے پاس مسلح افواج میں تقریباً سات لاکھ فوجی ہیں اور جب آپ نیشنل گارڈ، پولیس، بارڈر گارڈز کو شامل کرتے ہیں تو ہم تقریباً 10 لاکھ بنتے ہیں۔'

The devastated apartment block in Chasiv Yar, eastern Ukraine, 10 Jul 22

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچاسیو یار: تباہ شدہ عمارت سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔

تاہم برطانیہ کے تحقیقی ادارے 'رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ' (رُوسی) کے سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر جیک واٹلنگ نے اس اعداد و شمار پر شک کا اظہار کرتے ہوئے اس کے بارے میں خبردار کیا۔

مسٹر واٹلنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ ایک 10 لاکھ فورس نہیں ہے جو جوابی حملہ کرے گی۔ عام طور پر جب آپ جوابی حملہ کرتے ہیں تو آپ آپریشنل سرپرائز چاہیں گے، لہذا اس کا عوامی طور پر اعلان کرنے کا ایک جزوی مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ روس کو اس ممکنہ حملے سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی افواج اور فوجی وسائل کو اس جگہ اور زیادہ تعداد میں تعینات کرنے پر مجبور کیا جائے۔'

اس خطے کے علاقائی گورنر نے کہا کہ یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقی شہر خرکیف میں رہائشی علاقوں پر روسی گولہ باری کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے تھے۔

line

یوکرین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ جوابی حملہ نہ کرے

یوکرین فوج

جب بھی سیاست دان براہ راست فوجی مہمات میں مداخلت کرتے ہیں تو ہمیشہ منصوبوں کے افشاء ہونے کا ایک خطرہ ہوتا ہے۔

اولیکسی ریزنکوف نے کہا کہ روس کی طرف سے قبضے میں لیے گئے کچھ علاقوں پر دوبارہ قبضے کے لیے جارحانہ کارروائی سیاسی طور پر بہت ضروری ہے۔

یہ اقتصادی طور پر بھی اہم ہے، کم از کم بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے یوکرائنی اناج کی برآمدات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرنے کے لیے اس بندرگاہ کی بہت اہمیت ہے۔ یوکرین کا شاید یہ خیال ہے کہ اب جبکہ روس مشرق میں اپنی فوجی کوششوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، یوکرین کے لیے یہ اچھا وقت ہے کہ وہ جنوب کے کچھ حصوں کو واپس لینے کی کوشش کرے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ یوکرین کی زیادہ تر فوجی کوششیں اور وسائل پہلے ہی ڈونباس میں شدید لڑائی میں استعمال ہو رہے ہیں۔

ہم نے متعدد یونٹوں سے بات کی ہے جو پہلے ہی اپنے نصف سے زیادہ فوجیوں کو کھو چکے ہیں اور انہیں کُمک کی شدید ضرورت ہے۔

طویل فاصلے تک مار کرنے والے زیادہ جدید توپ خانے کے نظام کی فراہمی سے یوکرین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی اسلحے کی یہ کُمک اُتنی نہیں ہے جو یوکرین کہتا ہے کہ اسے اس کی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یوکرین واقعی ابھی تک جنوب میں ایک بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، جب کہ اس کی افواج مشرق میں روس کی پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں؟

مجھے بتایا گیا ہے کہ مغربی سیاست دانوں نے پہلے ہی یوکرائن کے سینیئر سیاست دانوں اور فوجی کمانڈروں پر واضح کر دیا ہے کہ ابھی یہ وقت نہیں ہے کہ کوئی بڑا جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی جائے۔

ایسا بیان حوصلہ بڑھانے کے لیے تو اچھا ہو سکتا ہے، لیکن یہ آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔ اب تک یوکرین کی خرکیف اور خیرسن کے گرد جوابی کارروائیوں کو محدود کامیابی ملی ہے۔ انہیں اپنی فوج کی تعمیر نو کے لیے ابھی بھی وقت درکار ہے۔

یوکرین پر روس کا اپنا ابتدائی حملہ متعدد محاذوں پر لڑائی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ وہ اپنے زیادہ تر مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس نے صرف مشرق میں اپنی افواج کو مرتکز کرکے کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔