نیٹو: ’ہمیں جو چاہیے تھا، مل گیا‘، ترکی نے سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کی حمایت کیوں کی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جارج رائٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
دنیا کی سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے رکن ترکی نے اتحاد میں سویڈن اور فن لینڈ کی رکنیت کی حمایت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ماضی میں ترکی نے نورڈک یعنی شمالی یورپی ممالک کی نیٹو میں شامل کیے جانے کی مخالفت کی تھی۔
ترکی اس بات سے ناراض تھا کہ ان ممالک نے ترک مخالف کرد عسکریت پسندوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ سویڈن اور فن لینڈ ترکی کی حمایت کے بغیر نیٹو میں شامل نہیں ہو سکتے۔
روس دونوں ریاستوں کے نیٹو میں شامل ہونے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس نے مغرب کے دفاعی فوجی اتحاد کی توسیع کے امکان کی وجہ سے یوکرین کی جنگ کو جائز قرار دیا ہے۔
لیکن ماسکو کے حملے کا الٹا اثر ہوا ہے، اب دونوں ممالک کے لیے نیٹو میں شمولیت کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے جس میں ترکی کے خدشات کو دور کیا گیا۔
نیٹو کے سربراہ جنز اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ سویڈن مشتبہ عسکریت پسندوں کو ترکی کے حوالے کرنے کی درخواستوں پر اپنا کام تیز کرنے پر راضی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں شمالی یورپی ممالک ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت پر عائد پابندیاں بھی اٹھا لیں گے۔
فن لینڈ کے صدر نیئنستو نے کہا کہ تینوں ممالک نے ’ایک دوسرے کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف اپنی مکمل حمایت فراہم کرنے کے لیے‘ مشترکہ دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔

سویڈن کی وزیر اعظم مگدالینا اینڈرسن نے کہا کہ یہ ’نیٹو کے لیے بہت اہم قدم‘ ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے دفتر نے کہا کہ انھیں سویڈن اور فن لینڈ سے 'جو چاہیے تھا وہ مل گیا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں شمال یورپی ممالک نے یوکرین پر روس کے حملے کے جواب میں مئی میں نیٹو میں شامل ہونے کے اپنے ارادوں کا اعلان کیا تھا۔
مسٹر اسٹولٹنبرگ نے تجویز کیا تھا کہ یہ عمل 'بہت تیزی سے' آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اتحاد کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔
لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا کیونکہ نیٹو کا رکن ترکی دونوں ممالک پر کرد عسکریت پسندوں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے اور اس نے واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ ان ممالک رکنیت کی حمایت نہیں کرے گا۔ نیٹو میں کسی بھی توسیع کے لیے تمام 30 رکن ممالک کی منظوری ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ترکی طویل عرصے سے سویڈن پر کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے، لیکن اسٹاک ہوم اس کی تردید کرتا ہے۔
اب دونوں ممالک نے ترکی کے کچھ مطالبات پر اتفاق کیا ہے اور سویڈن اور فن لینڈ کے قانون میں ترامیم کے تحت عسکریت پسندوں کو کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر سویڈن اور فن لینڈ نیٹو کے رکن بن جاتے ہیں تو اس سے سویڈن کی 200 سال سے زائد کی غیر وابستگی کی پالیسی ختم ہو جائے گی۔ جبکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران سوویت یونین کے ہاتھوں شکست فاش کے بعد فن لینڈ نے غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی تھی۔
نیٹو میں شمولیت کے لیے فن لینڈ کے عوام کی حمایت برسوں سے 20-25 فیصد کے قریب تھی۔ لیکن یوکرین پر روس کے حملے کے بعد رائے عامہ کے تازہ ترین سروے کے مطابق یہ 79 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سویڈن میں، 60 فیصد آبادی کا کہنا ہے کہ نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دینا درست تھا۔

بحیرہ بالٹک نیٹو جھیل بن جائے گا
سکیورٹی کے نمائندے فرینک گارڈنر کا تجزیہ
استعارے کے طور پر کہا جائے تو آج کی شب نیٹو کے سینیئر حلقوں میں شمیپین کی بوتلیں کھلیں گي کیونکہ دو بڑے نئے ممبروں کو داخل کرنے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
فن لینڈ اور سویڈن پہلے سے ہی جدید اور مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والی جمہوریتیں ہیں جن میں اچھی تربیت یافتہ اور اچھے سازوسامان سے لیس فوجیں ہیں جو یورپ کے دور دراز شمال کے اکثر مشکل حالات میں کام کرتی ہیں۔
ان کے الحاق کی کارروائی کے مکمل ہونے کے بعد بحیرہ بالٹک سے متصل نیٹو ممالک کی تعداد آٹھ ہو جائے گا اور اس طرح یہ خطہ مؤثر طریقے نیٹو جھیل میں تبدیل ہو جائے گا۔
اس کی وجہ سے روس کے دو دور دراز کے علاقے سینٹ پیٹرزبرگ اور کیلینن گراڈ تیزی سے الگ تھلگ ہو جائیں گے اور اس سے کریملن کی بے چینی میں اضافہ ہو گا۔
فن لینڈ اور سویڈن نیٹو میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے کا مقصد نیٹو کو روس کی سرحدوں سے مزید دور رکھنا تھا۔ اپنے مقصد میں کامیابی کے بجائے اسے اس کا الٹا جواب ملا ہے۔













