آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا ایشیا میں الیکٹرک موٹر بائیکس کی فروخت اور استعمال بڑھے گا؟
- مصنف, ایرن ہیل
- عہدہ, بزنس رپورٹر، تائیوان
اگر ہم الیکٹرک وہیکل کی بات کریں تو ذہن میں فورا ٹیسلا یا کسی ملتی جلتی کار کا تصور آتا ہے لیکن ایشیا میں الیکٹرانک وہیکلز کے غلبے کی جنگ موٹربائیکس پر لڑی جا رہی ہے۔
ایشیا کے زیادہ تر ملکوں میں جائیں تو فوری طور پر ایک بات جو سامنے آتی ہے وہ ہر جانب دوڑتے بھاگتے موٹر سائیکل ہیں۔
اکثر یہ ایک فیملی کار کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں کیوں کہ یہ سستے ہیں۔ تائیوان، کمبوڈیا، انڈیا یا انڈونیشیا میں ایسا منظر عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ہی موٹر بائیک پر پورا خاندان سفر کر رہا ہو۔
درحقیقت دنیا بھر کے نصف موٹر بائیک ایشیا میں بکتے ہیں اور اکثر ممالک میں یہ غیر معمولی بات ہو گی کہ ایک خاندان کے پاس کوئی موٹر بائیک نہ ہو۔
مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھائی لینڈ کی مثال لے لیں جہاں فی فرد موٹر سائیکل کے استعمال کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ 87 فیصد گھرانوں کے پاس کم از کم ایک موٹربائیک ضرور ہے۔ یہ زیادہ تر سکوٹر کی قسم کے ہوتے ہیں جن پر بیٹھنے والے کے پیر آگے کی جانب ہوتے ہیں۔
تھائی لینڈ کے بعد ویتنام میں 86 فیصد، انڈونیشیا میں 85 فیصد، ملائیشیا میں 83 فیصد گھرانوں کے پاس موٹر بائیک ہیں۔
بڑی آبادی والے چین اور انڈیا میں یہ تناسب 60 اور 47 فیصد تک آ پہنچتا ہے لیکن پھر بھی یہ تعداد برطانیہ سے کہیں زیادہ ہے جہاں صرف سات فیصد گھرانوں میں موٹر بائیک رکھنے کا رواج ہے۔
ایشیا میں موٹر سائیکلز کی اکثریت پیٹرول پر چلتی ہے لیکن ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب الیکٹرانک موٹر سائیکل کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اروشی کوٹیچا، جو اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ میں آٹو موٹیو تجزیہ کار ہیں، کہتی ہیں کہ ایشیا میں الیکٹرانک موٹر بائیکس کی فروخت میں تیزی کی کئی وجوہات ہیں۔
’پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں کمائی اب بھی بہت کم ہے جس کی وجہ سے گاڑی خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ پھر خصوصا ایسے وقت میں جب کھانے پینے اور فیول کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں جس کی وجہ سے پیٹرول پر چلنے والی گاڑی رکھنے کا خرچہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اسی لیے لوگ تیزی سے الیکٹرک موٹر بائیکس کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔‘
اروشی کا کہنا ہے کہ ایشیا میں بجلی سے چلنے والی موٹر بائیکس کی فروخت میں رواں دہائی کے آخر تک موجودہ سطح سے تین سے چار گنا اضافہ ہو جائے گا۔
اسی سال کے آغاز میں ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ دنیا بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکل کی فروخت 2020 میں 15.73 15 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک 30.52 ارب ڈالر یعنی دوگنی ہو جائے گی۔
الیکٹرانک موٹر بائیک کیا ہے؟
- الیکٹرانک موٹربائیک الیکٹرک پش بائیک، جسے ای بائیک بھی کہا جاتا ہے، سے مختلف ہوتی ہے
- ای بائیکس ایسی بائی سیکل ہوتی ہے جس کے پیڈل ہوتے ہیں لیکن الیکٹرانک موٹر پیڈل چلانے میں مدد فراہم کرتی ہے
- الیکٹرک پش بائیک کی طاقت اور رفتار محدود ہوتی ہے۔ برطانیہ میں ای بائیک ڈھائی سو واٹ تک کی ہوتی ہے جو صرف پندرہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے
- اس کے مقابلے میں الیکٹرک موٹر بائیک پیٹرول پر چلنے والے بائیک جتنی ہی طاقت ور اور تیز رفتار ہو سکتی ہے اور اس کے لیے لائسنس بھی ضروری ہوتا ہے
- سکوٹر کے لفظ کے استعمال سے بھی کنفیوژن پیدا ہوتا ہے جس کے دو مطلب ہیں۔ پہلا سکوٹر ایسا موٹر بائیک ہے جس میں پیر آگے کی جانب کر کے بیٹھتے ہیں
- سکوٹر کی دوسری قسم کک سکوٹر ہوتی ہے جس میں صارف ایک پتلے بورڈ پر کھڑا ہوتا ہے اور ایک لمبا ہینڈل بار پکڑ کر اسے استعمال کرتا ہے۔ کک سکوٹر کی یہ قسم ای سکوٹر کہلاتی ہے اور برطانیہ اور یورپ میں کافی مشہور ہے۔
اس وقت چین الیکٹرانک موٹر بائیکس کی عالمی پیداوار میں چھایا ہوا ہے۔
بیجنگ کی این آئی یو ٹیکنالوجیز، جس نے سب سے پہلا ماڈل 2015 میں لانچ کیا تھا، اس وقت سب سے بڑا ادارہ ہے جو ایسی موٹر بائیکس بنا رہا ہے۔
جوزف کونسٹینٹی اس فرم کے ڈائریکٹر گلوبل سٹریٹجی ہیں۔ وہ اپنی کمپنی کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں: ’اگر ٹیسلا اور ویسپا کا بچہ ہوتا تو وہ ہم ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ الیکٹرانک موٹر بائیک چین میں پہلے سے موجود تھے، انھوں نے بھاری لیڈ ایسڈ بیٹری کا استعمال کیا اور ان کی کمپنی ٹیسلا یا موبائل فون میں استعمال ہونے والی جدید لیتھییئم بیٹری والی الیکٹرانک موٹر بائیک بیچنے والی پہلی کمپنی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایک طرح سے اس وقت چین اور دنیا کی مارکیٹ میں ایسا کرنے والے پہلے لوگ تھے۔‘
چین میں الیکٹرانک موٹر بائیک کی فروخت کے لیے حکومت بھی مدد دے رہی ہے جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لیکن کمبوڈیا اور لاؤس جیسے ممالک میں یہ انڈسٹری بلکل صفر سے شروع ہوئی ہے۔
چینی آٹو موٹیو انالسس فرم سائینو آٹو انسائٹس کے بانی اور مینیجنگ ڈائریکٹر ٹو لی کہتے ہیں کہ ’ایشیا میں الیکٹرک موٹر بائیکس عام ہونے سے پہلے بہت سے معاملات درست کرنا ہوں گے۔‘
ایک اہم معاملہ چارجنگ سٹیشنز کی کمی کا بھی ہے جو دیہی علاقوں میں الیکٹرک موٹر بائیکس کے استعمال کو مشکل بناتا ہے۔
جہاں بڑی یاماہا اور ہونڈا جیسی جاپانی کمپنیاں بھی اب الیکٹرک ماڈل بنا رہی ہیں، ایشیا کی مارکیٹ کی سربراہی نئی کمپنیاں کر رہی ہیں۔
تائیوان کی گوگورو بھی ایک ایسی کمپنی ہے جو الیکٹرک موٹر بائیک بنانے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کا حل بھی نکال رہی ہے کہ بائیک چارج کرتے ہوئے کسی کو کھڑا نہ ہونا پڑے۔
چارجنگ پوائنٹس کی بجائے، تائیوان میں گوگورو کے صارفین 2200 سٹورز میں سے کسی پر بھی جا کر پرانی بیٹری دے کر نئی بیٹری مفت حاصل کر سکتے ہیں۔
کمپنی اب بیٹری بدلنے والی ہارڈ ویئر اور اس کی ٹیکنالوجی ایشیا میں دیگر پارٹنر کمپنیوں کو بھی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے جن میں انڈیا میں ہیرو، انڈونیشیا میں گوجیک اور چین میں ڈی سی جے اور یاڈیا شامل ہیں۔ گوگورو یاماہا کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔
گوگورو کے چیف ایگزیکٹیو ، ہوریس لوک کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی الیکٹرک موٹر بائیک کی دنیا کا اینڈرائڈ بننے کی کوشش کر رہی ہے۔
وہ اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ ’جیسے ایک موبائل فون سسٹم جدت کو فروغ دیتا ہے، اسی طرح ان کی کمپنی بھی بیٹری مینیجمنٹ سافٹ ویئر دوسری کمپنیوں کو فراہم کرنا چاہتی ہے جس کی مدد سے بیٹری کی زندگی بڑھائی جا سکتی ہے۔‘
لیکن جہاں چند کمپنیاں بڑے خواب دیکھ رہی ہیں وہیں کچھ ایسی بھی ہیں جن کو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ انڈیا کی اولا الیکٹرک فرم حال ہی میں اس وقت خبروں میں آئی جب اس کی ایک الیکٹرک موٹر بائیک میں آگ لگ گئی۔
انڈیا کی دو اور کمپنیوں، اوکیناوا اور جتیندرا، میں بھی گزشتہ سال آگ لگنے کے واقعات پیش آئے جن کی وجہ بیٹری کی خرابی بتائی گئی۔