غذائی بحران: دنیا کے مختلف حصوں میں خوراک کی قلت سے کیسے نمٹا جا رہا ہے؟

دنیا بھر میں کھانا مہنگا بھی ہوتا جا رہا ہے اور اس کی قلت بھی ہو رہی ہے۔ ہر جگہ لوگوں کو خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا پڑ رہا ہے اور اس کا کبھی کبھی مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو اپنی غذائیں ہی تبدیل کرنی پڑیں۔

امریکہ میں آدھی رات کو وال مارٹ تک دوڑ

صبح کے چار بج رہے ہیں اور جارجیا کی گرمیوں کے باعث رات اب بھی گرم ہے۔ ڈونا مارٹن کام پر پہنچتی ہیں۔ ایک اور دن کا مطلب اپنے ضلعی سکول کے بچوں کو کھلانے کے لیے جدوجہد ہے۔

ڈونا ایک فوڈ سروس ڈائریکٹر ہیں جن کے ذمے 4200 بچے ہیں۔ یہ تمام بچے سکولوں میں مفت خوراک کے وفاقی پروگرام میں مندرج ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس 22 ہزار لوگوں کے لیے دو کریانہ سٹور ہیں۔ یہ واقعی خوراک کے اعتبار سے صحرا ہے۔‘

گذشتہ ایک سال سے وہ اپنی ضرورت کی چیزوں کے حصول کے لیے بھی پریشان رہی ہیں۔

جولائی میں غذا کی قیمتوں میں اضافے کی شرح سالانہ بنیادوں پر 10.9 فیصد رہی جو سنہ 1979 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے چونکہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس لیے ڈونا مارٹن کے کچھ سپلائرز سکولوں کو خوراک نہیں فراہم کرنا چاہتے۔

’وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ تم لوگوں کو کچھ پسند ہی نہیں آتا اور ہمارے پاس مارجن نہیں۔‘

امریکی سکولوں کا یہ فیڈرل سکول میلز پروگرام نہایت سخت قواعد و ضوابط کا حامل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی چکن نگٹ پر موجود ڈبل روٹی کے چورے کو بھی غذائیت کا حامل ہونا چاہیے اور تمام غذاؤں میں چینی اور نمک کم ہونا چاہیے۔ چنانچہ ڈونا مارٹنز کو ہر چیز کی خصوصی قسم خریدنی پڑتی ہے۔

وہ جانتی ہیں کہ ان کے سپلائرز بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ افرادی قوت کی سخت کمی کے باعث اُنھیں ڈرائیورز نہیں مل رہے جبکہ ایندھن کی قیمتیں گذشتہ برس کے مقابلے میں 60 فیصد بڑھ چکی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ میں لوگ اپنی آمدن کا 7.1 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

جب سپلائرز دستیاب نہ ہوں تو اُنھیں پھر کوئی اور طریقہ ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں وہ بچوں کا پسندیدہ پینٹ بٹر نہیں ڈھونڈ پائیں تو اُنھوں نے اسے بین ڈِپ سے بدل دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ یہ بچوں کو اُتنا پسند نہیں آئے گا مگر مجھے اُنھیں کچھ تو کھلانا ہے۔‘

اکثر اوقات اُنھیں اور اُن کے سٹاف کو دیر رات سے مقامی سٹورز مثلاً وال مارٹ پر ہلّہ بولنا پڑتا ہے۔

’ہم نے ایک ہفتے تک ہر روز پورے قصبے کا دہی اکیلے ہی خریدا۔ بہت سے بچے سکول واپس جا کر خوش ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اپنی ماؤں سے شکایت کریں کہ آج اُنھیں سموتھیز پینے کو نہیں ملیں۔‘

سری لنکا میں کٹھل (جیک فروٹ) مدد کو پہنچا

وسطی سری لنکا میں کینڈی شہر کے باہر جس جگہ پر دھان کی فصل ہوتی تھی وہاں اب انوما کماری پرنتھالا سبز پھلیاں اور پودینہ چنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

سری لنکا کے برے سیاسی اور معاشی حالات کا اس پرسکون جگہ سے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ملک بھر میں دواؤں، خوراک اور ایندھن سمیت ہر چیز کی کمی ہے۔ یہاں تک کہ اچھی ملازمتوں والے لوگ بھی بنیادی اشیا خریدنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انوما کہتی ہیں کہ ’اب لوگوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فکر ہے۔ اُنھیں خوف ہے کہ اُن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہو گا۔‘

یہ زمین اُن کے خاندان کی ہے۔ اس پر اُنھوں نے کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران شوقیہ طور پر کھیتی باڑی شروع کی تھی۔

سری لنکا میں جون میں سالانہ بنیادوں پر غذا کی قیمتوں میں اضافہ 75.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سری لنکن عوام اپنی آمدنی کا 29.6 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

انوما نے کتابیں پڑھ کر اور یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر سبزیاں اگانی شروع کیں۔ اب وہ ٹماٹر، پالک، کریلے، اروی اور شکر قندیاں اگاتی ہیں۔

ہر کوئی اتنا خوش قسمت نہیں کہ اُن کے پاس اتنی زمین ہو چنانچہ کئی سری لنکن اب کٹھل (جیک فروٹ) کو اپنا رہے ہیں۔ انوما کہتی ہیں کہ ’ہر دوسرے باغیچے میں آپ کو کٹھل کا درخت نظر آئے گا۔ اب سے کچھ عرصے پہلے تک لوگ کٹھل پر توجہ ہی نہیں دیتے تھے۔ یہ درختوں سے گرتا اور اکثر کچرے کی نذر ہو جاتا۔‘

اب اُنھوں نے کٹھل سے ایک ملائی دار سالن بنانا شروع کیا ہے اور گوشت اور مہنگی سبزیوں کے متبادل کے طور پر کھانا شروع کیا ہے۔

کٹھل اب ایک مقامی روایتی کھانے کوٹو میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ کچھ لوگ اس کے بیجوں کو پیس کر آٹا بناتے ہیں جس سے ڈبل روٹی، کیک یا روٹی بنائے جا سکیں۔

کٹھل کچھ برس قبل دنیا کے کئی مشہور ریستورانوں کے مینیوز میں نظر آنے لگا تھا مگر جہاں یہ اگتا ہے، وہاں اسے مشہور ہونے کے لیے ایک بحران کی ضرورت پڑی۔

تو اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟ انوما کہتی ہیں کہ ’اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جنتی ذائقہ ہوتا ہے۔‘

’نائیجیریا میں بیکریاں ختم ہو رہی ہیں‘

عام طور پر ایمانوئیل اونوراہ کو سیاست میں کم ہی دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ بیکر ہیں اور بس اپنی بیکری چلانا چاہتے ہیں مگر نائیجیریا میں حال ہی میں ان کا کام تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ ایک برس میں گندم کے آٹے کی قیمت 200 فیصد، چینی کی قیمت 150 فیصد اور بیکنگ میں استعمال ہونے والے انڈوں کی قیمت 120 فیصد بڑھ گئی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نقصان میں ہیں۔‘

ایمانوئیل کو 350 لوگوں کے سٹاف میں سے 305 کو فارغ کرنا پڑا۔ ’یہ لوگ اپنے خاندانوں کا پیٹ کیسے پالیں گے۔‘

پریمیئم بریڈ میکرز ایسوسی ایشن آف نائیجیریا کے صدر کے طور پر وہ ایک تحریک کا مرکزی کردار ہیں۔ جولائی میں اُنھوں نے پانچ لاکھ کے قریب بیکرز سے چار روز تک ہڑتال کروائی۔ اُنھیں امید تھی کہ حکومت نوٹس لے گی اور ان کی درآمدی مصنوعات پر ٹیکس کم کرے گی۔

خراب فصل اور کووڈ 19 کے بعد طلب میں اضافے کے باعث پوری دنیا میں گندم اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین پر حملے سے معاملات مزید خراب ہوئے ہیں۔

نائیجیریا میں بیکریوں کے زیادہ تر اجزا باہر سے آتے ہیں مگر ڈبل روٹی کی قیمت یورپ میں اس کی قیمت سے کہیں کم ہے، چنانچہ قیمت میں اضافے سے نمٹنا مشکل ہے۔

نائیجیریا میں جولائی میں سالانہ بنیادوں پر غذا کی قیمتوں میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس ملک میں بجلی کی فراہمی بھی اکثر معطل رہتی ہے چنانچہ زیادہ تر کاروبار ڈیزل سے چلنے والے جنریٹرز کا استعمال کرتے ہیں مگر ایندھن کی قیمتوں میں بھی 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے حالانکہ نائیجیریا تیل کی دولت سے مالامال ہے مگر اس کے پاس کوئی ریفائنریاں نہیں اور اسے تمام تر ڈیزل باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔

مگر اخراجات میں تین گنا اضافے کے باوجود اونوراہ کہتے ہیں کہ وہ اشیا کی قیمت صرف 10 سے 12 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں کیونکہ اُن کے مطابق ان کے گاہک اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔

وہ کہتے ہیں کہ نائیجیریئن لوگ غریب ہیں، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور اجرتیں ایک جگہ پر ٹھہری ہوئی ہیں، سو ان پر زیادہ بوجھ نیں ڈالا جا سکتا۔

نائیجیریا کے لوگ اپنی آمدن کا اوسطاً 60 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکہ میں یہ سات فیصد کے قریب ہے۔

بیکریوں کے لیے اس طرح کام جاری رکھنا مشکل ہے۔ ’ہم کوئی فلاحی تنظیم نہیں، ہم کاروبار ہیں جسے منافع بخش ہونا چاہیے۔‘

مگر وہ کہتے ہیں کہ ’ہم پھر بھی مشکلات جھیل رہے ہیں تاکہ نائیجیریا کے لوگ کھانا کھا سکیں۔‘

پیرو میں 75 لوگوں کے لیے عوامی دیگ

پیرو کے دارالحکومت لیما کے قریب ایک پہاڑی پر جسٹینا فلوریس سوچ رہی ہیں کہ وہ آج کیا پکائیں گی۔ یہ سوال روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کووڈ 19 کی عالمی وبا کے عروج کے دنوں میں اُنھوں نے 60 پڑوسیوں کو جمع کیا تاکہ سب کھانا جمع کر سکیں۔

سین ہوان ڈی میرافلوریس کے زیادہ تر رہائشی گھریلو ملازمین مثلاً خانساماں، نوکر، آیا اور مالی وغیرہ ہیں۔ مگر جسٹینا کی طرح ان میں سے زیادہ تر نے عالمی وبا کے دوران اپنی ملازمتیں گنوا دیں چنانچہ ان کے خاندانوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے جسٹینا کے گھر کے باہر خود ہی لکڑیاں اکٹھی کر کے کھانا پکانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد اُنھوں نے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنائی اور ایک مقامی پادری نے ایک چولہا عطیہ کر دیا۔ جسٹینا فلوریس نے تاجروں سے کہا کہ جو کھانا عام طور پر ضائع ہو جاتا ہے، وہ انھیں عطیہ کر دیں۔

دو سال بعد اب وہ 75 لوگوں کو ہفتے میں تین مرتبہ کھانا کھلا رہی ہیں۔ جسٹینا اس وبا سے پہلے ایک کچن اسسٹنٹ تھیں اور اب وہ اپنی برادری میں ایک لیڈر سی بن گئی ہیں۔ ’میں لوگوں کے دروازوں پر جاتی ہوں اور مدد مانگتی ہوں۔‘

جولائی میں پیرو میں سالانہ بنیادوں پر غذا کی قیمتوں میں 11.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پیرو کے لوگ اپنی آمدن کا 26.6 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

پہلے وہ گوشت اور سبزیوں سے زبردست سالن بنایا کرتیں جو چاولوں کے ساتھ پیش کیا جاتا مگر اب گذشتہ چند ماہ میں عطیات بہت کم ہو گئے ہیں اور ہر طرح کی خوراک حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم پریشان ہیں۔ مجھے مقداریں کم کرنی پڑیں۔‘ وہ اب چاول جیسی بنیادی چیزوں کے حصول میں بھی مشکل کا سامنا کرتی ہیں۔

اپریل میں ایندھن اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کی ہڑتال ہوئی تھی اور سلسلہ وار ہڑتالوں کے باعث خوراک کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے۔

حال ہی میں قیمتوں میں اضافے کے باعث جسٹینا نے گوشت کھلانا بند کر دیا ہے۔ وہ خون، جگر، ہڈیوں اور پوٹے کا استعمال کرتی تھیں مگر پھر کلیجی بھی مہنگی ہو گئی اور اُنھوں نے اسے تلے ہوئے انڈوں سے بدل دیا۔ جب تیل کی قیمت بڑھ گئی تو اُنھوں نے لوگوں کو انڈے دینے شروع کر دیے تاکہ وہ خود ہی انھیں ابال لیں۔

اب انڈے بھی نہیں ملتے۔ آج وہ پیاز اور جڑی بوٹیوں سے بنائے گئے مصالحے کے ساتھ پاستا پیش کریں گی۔

مگر وہ کسانوں ہر ہڑتال یا کمی کا الزام عائد نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہم پیرو میں خود کھانا اگا سکتے ہیں مگر حکومت مدد نہیں کر رہی۔‘

اردن میں چکن کا بائیکاٹ

رواں برس 22 مئی کو عربی میں ٹویٹ کرنے والے ایک گمنام اکاؤنٹ نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ چکن کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور ’لالچی چکن کمپنیوں کا بائیکاٹ‘ ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے تصاویر پوسٹ کریں۔

کچھ دن بعد اردن میں سلام نصراللہ سپرمارکیٹ سے گھر جا رہی تھیں کہ اُنھوں نے اس مہم کو وائرل ہوتے ہوئے دیکھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے اس کے بارے میں ہر جگہ سے سنا، ہمارے سب دوست اور خاندان کے لوگ اس کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ یہ مہم سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی تھی۔‘

اُنھوں نے حال ہی میں اپنے خریداری کے بل میں اضافہ نوٹ کیا تھا۔ وہ دو بچوں کی ماں ہیں جنھیں اپنے والدین، بہنوں، بھانجوں اور بھانجیوں کے لیے باقاعدگی سے کھانا پکڑنا پڑتا ہے۔ چنانچہ وہ بہت زیادہ چکن خریدتی ہیں۔

اُنھوں نے اس بائیکاٹ میں حصہ لینا لازم سمجھا۔ دس روز تک اُنھوں نے چکن سے کنارہ کیے رکھا چونکہ مچھلی اور دیگر گوشت کافی مہنگا ہے اس لیے سلام اور اُن کا خاندان تقریباً روزانہ ہی چکن کھاتے ہیں۔

وہ گوشت کے بجائے ہمس، فلافل یا تلے ہوئے بینگن کھاتے رہے۔ مہم شروع ہونے کے 12 دن بعد چکن کی قیمت میں ایک تہائی کمی ہوئی یعنی ایک ڈالر یا 0.7 دینار فی کلو۔

اردن میں جون میں سالانہ بنیادوں پر غذا کی قیمت میں 4.1 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اردن کے لوگ اپنی آمدن کا 26.9 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

چکن فارمز اور مذبح خانوں کے منتظم رامی برہوش بائیکاٹس کے تصور سے متفق ہیں مگر اُن کا خیال ہے کہ یہ بائیکاٹ ٹھیک نہیں تھا۔

اُن کے فارمز سال کی ابتدا سے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے شکار ہیں، خاص طور پر ایندھن اور چکن فیڈ کی قیمتیں بہت بڑھی ہیں۔

عالمی عوامل کی وجہ سے بھی ایندھن اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چین سوائن فلو کے بعد اپنے پاس سوروں کی تعداد بڑھا رہا ہے، جنوبی امریکہ میں قحط آیا ہوا ہے اور یوکرین میں جنگ جاری ہے۔

اردن میں حکومت نے چکن کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی۔ فارم مالکان نے رمضان کے آخر تک اس حد پر اتفاق کیا مگر مئی کے اوائل میں وہ دوبارہ قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو گئے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا۔

سلام نصراللہ احتجاج دیکھ کر خوش ہیں مگر اُنھیں خدشہ ہے کہ اس سے مسئلے کی جڑ نہیں ختم ہوئی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے سب سے زیادہ نقصان چھوٹے فارمرز اور مرغی فروشوں کو ہو رہا ہے، نہ کہ بڑے تاجروں کو جنھوں نے فارمرز کی ضرورت کی ہر چیز کی قیمت بڑھا دی ہے۔

اضافی رپورٹنگ: سونیت پریرا، گواڈالوپے پارڈو اور ریحام البقائین۔