یورپی رہنماؤں کا یوکرین کا دورہ، تنقید کا جواب یا واقعی جنگ میں تیزی کا اشارہ

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں صدارتی دفتر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یوکرین، جرمنی، فرانس، اٹلی اور رومانیہ کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی ہے۔ صدارتی ترجمان آندری یرمک نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر لکھا 'یوکرین کو بین الاقوامی اتحاد کی مضبوط حمایت حاصل ہے'۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ صدر زیلنسکی نے اپنے ہم منصبوں کو روس کے خلاف پابندیوں کی تجاویز کا "مکمل پیکج" دیا۔ یرمک نے لکھا ہے کہ 'ہمیں (جارح) پر دباؤ بڑھانا چاہیے، (اور روسی) گیس پر مکمل پابندی لگا کر پابندیوں کے ساتویں پیکیج کی منظوری کے لیے کام کرنا چاہیے۔'
انھوں نے کہا کہ ہم جلد ہی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس کی توقع کر رہے ہیں۔
یورپی رہنماؤں کا دورہ
اس سے قبل فرانسیسی صدر، جرمن چانسلر اور اطالوی وزیر اعظم آج یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچے ہیں جہاں وہ صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کی حمایت پر تنقید کا مقابلہ کریں گے اور اس ملک اور اس کے عوام کو مدد کی پیشکش کریں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکراں، جرمن چانسلر الاف شولز اور اٹلی کے وزیراعظم ماریو ڈراگی نے رات بھر ٹرین پر کیئو کا سفر کیا جہاں رومانیہ کے صدر کلاؤس یوہانس ان کے وفد میں شامل ہوئے اور ارپین نامی قصبے کے دورے پر گئے جہاں انھوں نے جنگی نقصانات کا معائنہ کیا۔
اِس قصبے پر روسی فوج نے جنگ کے آغاز پر قبضہ کر لیا تھا۔
روس کے حملے کے بعد دارالحکومت کے اس طرح کے پہلے دورے میں، فرانس کے ایمانوئیل میکروں، جرمنی کے اولاف شولز، اٹلی کے ماریو ڈراگی اور رومانیہ کے کلاؤس یوہانس نے صدر زیلنسکی سے مصافحہ کیا، جنہوں نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین نہیں چھوڑا۔
ان کے دورے کو روس نے طنزیہ تبصروں سے نوازا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ صرف یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی پر توجہ مرکوز نہیں کرے گا کیونکہ اس سے ملک کو مزید نقصان پہنچے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
روس کی ایک سینئر شخصیت اور سابق صدر دیمتری میدویدیف نے اس دورے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ 'مینڈکوں، آنت میں بھَرے کَلیجی کی بوٹیوں اور موٹی موٹی سویّوں کے پرستار' ایک بے مقصد و بے فائدہ دورے پر یوکرین کے دارالحکومت کیئو جانا پسند کرتے ہیں۔
لیٹویا کا کردار
اس سے قبل بدھ کے روز لٹویا کے وزیر خارجہ ایڈگرس رنکیویچس نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے غصے میں آنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے اور نہ انھیں اس کی پرواہ کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے روس کو رعایت دینے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سی این این کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، رنکیویچس نے مشرقی یورپ تک نیٹو کے نقطہ نظر کے لیے لٹویا کے کلیدی اہداف کا خاکہ بھی پیش کیا ، یعنی ایک طویل مدتی فوجی موجودگی ، اور روس کے یوکرائن کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خوراک کے بحران کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔
رنکیویچس کا واشنگٹن ڈی سی کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ 'یوکرین کو میدان جنگ میں ایک اہم لمحے کا سامنا ہے' اور بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد کی ایک نئی قسط کا آغاز کیا ہے۔ یہ اقدام جنگ کے چوتھے مہینے میں داخل ہونے کے وقت کیف کو تقویت دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
لیٹویا کے وزیر خارجہ اس ماہ کے آخر میں میڈرڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ملک کے دارالحکومت میں قانون سازوں اور بائیڈن انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔
مذاکرات کا آغاز
صدر زیلنسکی نے کیئو میں صدارتی محل کے دروازے پر آنے والے یورپی یونین کے رہنماؤں میں سے ہر ایک کا استقبال کیا۔
صدارتی محل کے پورے کمپلیکس کو سیل کر دیا گیا ہے، ایسے سخت سیکورٹی کا انتظام کیا گیا ہے جو آپ کسی بھی حالتِ جنگ والے ملک میں دیکھنے کی توقع کریں گے۔
بند کمرے میں مذاکرات کے لیے جانے سے پہلے مشترکہ تصویر کے لیے روایتی پوزنگ کے دوران، بی بی سی نے صدر زیلنسکی سے چیخ کر کہا کہ کیا اس نے سوچا کہ اس کے یورپی اتحادی اسے وہی دیں گے جو وہ آج واقعی چاہتے ہیں؟'
'ہم دیکھیں گے،' زیلنسکی نے جواب دیا۔
لیکن کیا آپ پُر امید ہیں، میں نے پوچھا؟
کوئی واضح جواب نہیں تھا کیونکہ لیڈران اپنی بات چیت کے لیے اندر چلے گئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حالیہ ہفتوں میں ایمانوئل میکروں اور اولف شولز کے کچھ متضاد پیغامات کے بعد، یوکرائنی حکام نجی طور پر امید کر رہے تھے کہ فرانسیسی اور جرمن رہنما کیف کے یورپی یونین کی رکنیت کے عزائم کی غیر واضح حمایت کریں گے۔
کچھ ہی لمحے پہلے زیلنسکی اور میکرون کے درمیان گرم ترین گلے ملنے کا معاملہ تھا۔
چانسلر شولز کی آمد زیادہ عجیب تھی کیونکہ جرمن رہنما ایک بھاری بھرکم بریف کیس لے کر اپنی گاڑی سے باہر نکلے جسے وہ ریڈ کارپٹ پر اپنے ساتھ رکھنے کے لیے آگے بڑھا۔
اس بریف کیس کو وہاں سے جلدی سے لے جایا گیا اور وہاں ایک منتظر اہلکار کے حوالے کردیا گیا۔
کیئو نے فرانس، جرمنی اور ایک حد تک اٹلی پر یوکرین کی حمایت میں لیت و لعل سے کام لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی خوشحالی کو یوکرین کی آزادی اور سلامتی پر ترجیح دے رہے ہیں۔
27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے یوکرین کی کوششیں اور روس سے لڑنے کے لیے مزید ہتھیاروں کا مطالبہ، یہ دو اہم موضوعات ہیں جن پر یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ یورپی یونین کے رہنماؤں کی بات چیت ہونے کی توقع ہے۔ زیلنسکی خود ان کے ساتھ ارپین نہیں گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین: اہم واقعات
صدر زیلنسکی نے فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں کا کیئو میں صدارتی محل میں خیرمقدم کیا ہے۔
فرانس کے صدر میکروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کو "مزاحمت اور جیتنا چاہیے" اور روسی "بربریت" پر تنقید کی۔
صدر میکراں، چانسلر اولف شولّز اور ماریو دراگی کا مقصد ان کی روس کے لیے حمایت پر تنقید کا مقابلہ کرنا اور یوکرین کی 'مالی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر، نہ کہ ... ہتھیاروں' کے ذریعے مدد پیشکش کرنا ہے -
تینوں نے یوکرین کے خطے 'ایرپن'قصبے کا دورہ کیا اور جنگی نقصانات کا معائنہ کیا، اس قصبے پر روسی فوجیوں نے جنگ کے آغاز میں قبضہ کر لیا تھا۔
دریں اثنا، ایک ریجنل گورنر کا کہنا ہے کہ 10,000 شہری جنگ زدہ مشرقی شہر سیویروڈونٹسک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ایرپِن دورے کا منظر
یورپی ممالک کے چار رہنماؤں کو ایرپِن میں ایک کار کا ملبہ دکھایا گیا جسے یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب ایک ماں اور بچے اندر تھے۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ اس کی افواج نے مظالم کا ارتکاب کیا ہے۔
روئیٹرز کے مطابق، میکروں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'یہ ایک بہادر شہر ہے... جو کہ بربریت کے داغ سے نشان زد ہے۔' اس جنگ زدہ شہر میں یورپی رہنما سوٹ میں ملبوس تھے اور انھوں نے کسی قسم کا کوئی بھی ایسا حفاظتی لباس نہیں پہنا ہوا تھا جو عموماً جنگ زدہ علاقوں میں جتے وقت پہنا جاتا ہے۔ انھیں بھاری ہتھیاروں سے لیس سپاہیوں نے حصار میں لیا ہوا تھا۔
عالمی اقتصادی مسائل
یوکرین کی اس جنگ کی وجہ سے عالمی معاشی حالات خراب سے خراب تر ہو گئے ہیں۔ دنیا کووڈ کی وبا کے دوران کیے گئے اقدامات سے پیدا ہونے والی افراطِ زر سے نمٹ ہی رہی تھی خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگیا ہے۔ روس پر پابندیوں کے باوجود یورپ قدرتی گیس کے لیے اب بھی اُس پر انحصار کرتا ہے۔
جرمنی کو نارڈ سٹریم 1 پائپ لائن کے ذریعے ترسیل میں حالیہ دنوں میں کمی آئی ہے، جس سے موسم سرما کے لیے سپلائی کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی ہے، ماسکو نے ان پابندیوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جنہوں نے مرمت کے لیے بیرون ملک بھیجے گئے سامان کی ترسیل روک دی ہے۔
ان مسائل کی وجہ سے فرانس، جرمنی اور اٹلی جنگ کا جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں کیونکہ وہ براہ راست اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
برطانیہ کا موقف
تاہم برطانیہ نے یوکرین کی جنگ کے چوتھے مہینے میں داخل ہونے کے موقع پر روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے آج پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی نیٹو ممالک کی مشترکہ اقدامات کی وجہ سے روس پر 256 ارب ڈالر کی پابندیاں عائد ہو چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمیں اس نازک وقت میں فوجی امداد کی فراہمی میں انتھک محنت کرنی چاہیے۔ اس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اور دیگر اہم ضروریات شامل ہیں، اور یوکرین کے فوجی سازوسامان کے ایک طویل مدتی منصوبے کے تحت نیٹو کے فوجی سازو سامان کے معیار تک بہتر بنانا شامل ہے۔'







