امریکہ: ٹیکساس میں 42 سال قبل قتل ہونے والے جوڑے کی اغوا کی گئی بیٹی مل گئی

Holly Crouse sostiene una foto de sus padres asesinados.

،تصویر کا ذریعہImagen de la policía.

،تصویر کا کیپشنہولی نے اپنے والدین کی تصویر اٹھا رکھی ہے

جنوبی امریکی ریاست ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کے مطابق 40 سال قبل ٹیکساس میں قتل ہونے والے ایک جوڑے کی بیٹی ’محفوظ اور صحت مند‘ ہے۔

ہولی کلاؤز جن کی عمر اب 42 سال ہے، سنہ 1981 میں اپنے والدین کے قتل کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھیں۔

سنہ 2021 میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اُن کی شناخت ممکن ہو پائی تھی۔

ایک نیوز کانفرنس میں ٹیکساس کے حکام نے کہا کہ ’وہ خوش ہیں کہ اس جوڑے کی بیٹی محفوظ ہے، لیکن دوہرے قتل کا یہ مقدمہ اب بھی چل رہا ہے۔‘

حکام کا خیال ہے کہ ان دونوں اموات کا ذمہ دار کوئی فرقہ ہو سکتا ہے۔

قتل ہونے والا جوڑا

فلوریڈا سے ٹیکساس منتقل ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی ٹینا گیل لن کلاؤز اور ہیرالڈ ڈین کلوز جونیئر کی لاشیں ہیوسٹن کے جنگل کے علاقے سے ملیں تھیں۔

گذشتہ برس آئیڈینٹیفائرز انٹرنیشنل، نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن اور ٹیکساس، فلوریڈا اور ایریزونا پولیس کی مدد سے اُن کی بیٹی کی شناخت ہوئی تھی۔

بدھ کو ایک بیان میں ٹیکساس اٹارنی کے دفتر کے مسنگ اینڈ کولڈ کیسز یونٹ نے اعلان کیا کہ 42 سال بعد ہولی مل گئی ہے۔

وہ اب اوکلاہوما میں رہتی ہیں اور پانچ بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے تحفظ کی غرض سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ہولی کلاؤز کو اپنی شناخت کا علم اس وقت ہوا جب پولیس منگل کو ان سے ملنے گئی، یہ ان کے والد کی 63ویں سالگرہ کا دن تھا۔

حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کی دادی نے اس خبر کو ’خدا کی جانب سے تحفہ‘ قرار دیا ہے۔

بچی کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

Holly Crouse sostiene una foto de sus padres asesinados.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹیکساس کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برینٹ ویبسٹر نے بتایا کہ دو خواتین اس بچی کو ایریزونا کے ایک چرچ میں لے گئیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہولی کی پرورش کرنے والے رضاعی والدین کے اُن کے حقیقی والدین کے قتل میں ملوث ہونے کا کوئی شبہ نہیں ہے۔

برینٹ ویبسٹر کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں خواتین نے اپنا تعلق خانہ بدوش مذہبی گروہ سے بتایا اور وہ ہولی کو چرچ لے گئیں۔‘

’وہ ننگے پاؤں تھیں اور انھوں نے سفید لباس پہن رکھا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ویبسٹر نے مزید کہا کہ مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کہا کہ وہ مردوں کی عورتوں سے علیحدگی، سبزی خوری اور چمڑے کی اشیا سے گریز کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔

ان خواتین کا کہنا تھا کہ انھوں نے پہلے بھی ایک اور بچے کو لانڈری میں چھوڑا تھا۔

مذہبی گروہ

ویبسٹر نے مزید کہا کہ ’سسٹر سوسن‘ کہلانے والی ایک خاتون نے بتایا کہ اس جوڑے نے سنہ 1980 یا 1981 میں چرچ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اپنے تمام مال و اسباب سے دستبردار ہو گئے تھے۔

انھوں نے جوڑے کی گاڑی فروخت کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

اس خاندان نے فلوریڈا میں ڈیٹونا ریس ٹریک پر گروہ کے ارکان سے ملاقات کی، جہاں انھوں نے تصدیق کی کہ وہ کار ہیرالڈ ڈین کلوز کی والدہ کی تھی۔

ویبسٹر کا کہنا تھا کہ گروہ کے تین ارکان کو پولیس کی تحویل میں لیا گیا تھا لیکن تفتیش کار اب تک اس گرفتاری کی کوئی رپورٹ نہیں تلاش کر سکے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس مذہبی جماعت نے 1980 کی دہائی کے دوران جنوب مغربی امریکہ کی اس پوری ریاست کا سفر کیا۔ ویبسٹر کا کہنا تھا کہ گروہ کے ارکان کی تفصیل کے مطابق کئی خواتین کو یوما، ایریزونا میں کھانے کے لیے بھیک مانگتے دیکھا گیا تھا۔

حکام نے اس جوڑے کی گمشدگی یا قتل سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات رکھنے والوں کو ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں کولڈ کیس افسران سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

توقع ہے کہ کلوز اگلے چند دنوں میں اپنے خاندان کے لوگوں سے ملنے فلوریڈا جائیں گی۔