یوکرین جنگ: امریکی خاتون اول جِل بائیڈن کی یوکرین میں اپنی ہم منصب اولینا زیلنسکی سے ملاقات، روس پر امریکہ کی نئی پابندیاں

اولینا زیلنکسی، جِل بائیڈن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناولینا زیلنسکی (بائیں) نے جِل بائیڈن (دائیں) سے ایک سکول میں ملاقات کی

امریکی خاتون اول جِل بائیڈن نے یوکرین میں اپنی ہم منصب اولینا زیلنسکی سے ملاقات کی ہے۔ جبکہ واشنگٹن نے ماسکو پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

جِل بائیڈن اور اولینا زیلنسکی نے سرحدی گاؤں اوزہورد میں ملاقات کی۔ 24 فروری کے بعد پہلی بار اولینا زیلنسکی عوامی مقامات پر نظر آئی ہیں۔

ادھر روسی مداخلت کے جواب میں امریکہ نے مزید 2600 روسی اور بیلاروسی افراد پر ویزے کی پابندیاں لگائی ہیں۔ ان میں تین روسی ٹی وی چینلز کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔ جی سیون رہنماؤں نے روسی تیل پر مرحلہ وار پابندی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکہ اور یوکرین کی خواتین اول کے درمیان ملاقات ایک سکول میں ہوئی جسے بے گھر افراد کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اولینا زیلنسکی نے امریکی خاتون اول کے دورے کو 'جرات مندانہ فیصلہ' کہا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناولینا زیلنسکی نے امریکی خاتون اول کے دورے کو ’جرات مندانہ فیصلہ‘ کہا

جِل بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ بتانا چاہتی ہیں کہ ’امریکہ کے عوام یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ انھوں نے رواں ماہ تیسری بار کہا کہ اس تباہی کا سبب بننے والی جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔

اولینا زیلنسکی نے کہا کہ جِل بائیڈن نے یوکرین کا دورہ کر کے ’جرات مندانہ فیصلہ‘ کیا جب یہاں جنگ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر وہ یوکرین آئیں۔ ’اس اہم دن پر ہم آپ کی محبت اور حمایت محسوس کر سکتے ہیں۔‘

دونوں خواتین ان درجنوں بچوں کے ساتھ بیٹھیں جنھوں نے اس سکول میں قیام کیا ہوا ہے۔ انھوں نے ٹشو پیپر سے ریچھ بنائے جو کہ صوبے کا نشان ہے۔

نئی امریکی پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا گیا جب جی سیون رہنماؤں نے صدر زیلنسکی سے ویڈیو کال پر بات چیت کی۔ ایک بیان میں جی سیون نے کہا کہ روسی صدر پوتن کے اقدامات ’روس اور اس کے لوگوں کی تاریخی قربانیوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔‘

یوکرین

،تصویر کا ذریعہSerhiy Haidai

'سکول پر بمباری میں 60 افراد ہلاک'

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں ایک سکول پر بمباری میں قریب 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لوہانسک کے گورنر نے بتایا کہ یہاں 90 افراد نے محفوظ پناہ حاصل کر رکھی تھی اور اس عمارت سے 30 لوگوں کو نکال لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق سنیچر کو روسی طیارے نے اس عمارت پر بمباری کی۔ روس نے اس کا ردعمل نہیں دیا ہے۔

لوہانسک میں روسی فوجی اور علیحدگی پسند جنگجوؤں نے حکومتی فورسز کو گھیرے میں لیا ہے اور یہاں لڑائی جاری ہے۔ خطے کا اکثر حصہ آٹھ برسوں سے روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہوں کے قبضے میں رہا ہے۔

گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اس دھماکے سے عمارت تباہ ہو کر منہدم ہوگئی اور فائر فائٹرز نے تین گھنٹے لگا کر آگ بجھائی۔

ان کا کہنا ہے کہ قریب پورے گاؤں نے اس سکول کے تہہ خانے میں پناہ لی ہوئی تھی۔ اموات کی کل تعداد ملبہ ہٹانے کے بعد بتائی جائے گی۔

خارخیو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرینی افواج خارخیو کے خطے میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں

خارخیو پر بمباری، روس کے ’یوم فتح‘ سے قبل شدید لڑائی جاری

ادھر یوکرین کے علاقے خارخیو میں بھی شدید لڑائی جاری ہے اور یوکرینی افواج یہاں اپنا کنٹرول بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

گذشتہ روز یوکرین کی نائب وزیر اعظم ایرینا ویریشچک کا کہنا تھا کہ تمام معمر افراد، خواتین اور بچوں کا ماریوپل شہر کے آزوفستال سٹیل پلانٹ سے انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔ یوکرینی افواج نے سنیچر کو بتایا کہ انھوں نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارخیو کے پانچ قصبوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کا آپریشن مداخلت کے خلاف کامیاب ثابت ہو رہا ہے اور اس حوالے سے یہ اہم پیشرفت ہے۔

خارخیو میں فروری سے شدید شیلنگ جاری ہے۔ خطے کے گورنر نے سنیچر کو کہا کہ روسی دستے اب بھی شہریوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔ انھوں نے شہریوں سے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حملوں کے سائرنز کو نظر انداز نہ کریں۔

یوکرین کو خدشہ ہے کہ نو مئی سے قبل روسی شیلنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ روس اس دن 1945 میں نازی جرمنی کو شکست دینے کی خوشی میں 'وکٹری ڈے' یا یوم فتح مناتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف دی سٹڈی آف وار کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرینی دستے خارخیو کے قریبی مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ یوکرین کی مزاحمت سے روس پر دباؤ بڑھے گا اور اس طرح یہ 'روسی سرحد کی طرف مزید پیشرفت حاصل ہوسکے گی۔‘

خارخیو میں بچوں کے ایک ڈاکٹر ہبانوف پیولو نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ محفوظ پناہ گاہوں یا شیلٹرز میں چھپے ہوئے ہیں اور ملازمتوں پر نہیں جا رہے۔ ’شہر میں زندگی معمول کے مطابق نہیں۔ خارخیو روسی سرحد سے کافی قریب ہے اور یہ شہر اکثر حملے کی زد میں آتا ہے۔ افسوس ہے کہ جنگ جاری ہے اور ہم بغیر کسی ڈر کے نہیں رہ سکتے۔'

وہ بتاتے ہیں کہ جس ہسپتال میں وہ کام کرتے تھے اسے شیلنگ میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

پیولو کا کہنا ہے کہ ہسپتال سے کئی بار شیلز ٹکرائے اور وہاں اب طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں۔ روسی (فوجی) ہر وقت گولیاں چلاتے ہیں۔ میں اب ایک دوسرے ہسپتال میں کام کر رہا ہوں۔'

سنیچر کو شہر کے ایک میوزیم کو اس وقت تباہ کر دیا گیا جب اس کی چھت پر شیلنگ کی گئی۔ مگر یہاں سے قیمتی فن پارے پہلے ہی ہٹا لیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے اس آپریشن میں معاونت کی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے اس آپریشن میں معاونت کی

ماریوپل کے سٹیل پلانٹ سے شہریوں کا انخلا مکمل

اس سے قبل تقریباً 100 شہریوں کے انخلا کا آپریشن ایک ہفتہ قبل شروع کیا گیا تھا اور اس میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے معاونت کی تھی۔

یوکرینی افواج نے بمباری سے متاثرہ اس پلانٹ پر مزاحمت دکھائی ہے۔ یہ شہر کا آخری حصہ ہے جو روسی افواج کے کنٹرول میں نہیں۔

روس نے اس پلانٹ کا کئی ہفتوں سے محاصرہ کر رکھا تھا اور مزاحمت کرنے والوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ماریوپل پر قبضہ روسی دستوں کے لیے اہم اس لیے ہے کیونکہ اس سے کریمیا اور ڈونباس کے بیچ زمینی راستوں تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔ اس سے انھیں یوکرین کے بحیرۂ اسود کے 80 فیصد سے زیادہ ساحل کا کنٹرول مل جائے گا۔

مگر اس کوشش میں انھوں نے ماریوپل پر توپوں، راکٹوں اور میزائلوں سے حملہ کیا اور شہر کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ تباہ کر دیا ہے۔

یوکرین کے شہر ماریوپل کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ تباہ ہو گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیوکرین کے شہر ماریوپل کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ تباہ ہو گیا ہے

آگے کیا ہوسکتا ہے؟

بی بی سی کی لارا بیکر بتاتی ہیں کہ روسی فوجی شہریوں کے انخلا کے لیے سفید پرچم استعمال کر رہے تھے۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور مذاکرات کی خاطر جانیں بچائی جا رہی ہیں۔

تاہم کریملن کی افواج نے گذشتہ دنوں کے دوران جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود سٹیل پلانٹ پر لڑائی کی شدت بڑھائی ہے۔

اب یوکرینی حکومت پر دباؤ ہے کہ ماریوپل میں اس مقام پر اپنے قریب دو ہزار فوجی استعمال کرتے ہوئے مزید مزاحمت دکھائیں۔ انھوں نے ہتھیار نہ ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔

یوکرینی خاندانوں نے عالمی رہنماؤں نے محفوظ انخلا اور امن مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہم بڑا جشن منائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس روز سرکاری دورے کا کوئی منصوبہ نہیں۔