’سنگل شیمنگ‘: بغیر پارٹنر افراد کے بارے میں لوگ رائے قائم کرنے میں جلدی کیوں کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جسیکا کلئین
- عہدہ, بی بی سی، لوولائف
کسی سے پوچھنا کہ وہ اب تک ’سنگل‘ (غیر شادی شدہ) کیوں ہیں اور انھیں یہ یقین دلانا کہ ان کا ’جیون ساتھی‘ انھیں جلد مل جائے گا، سے لگتا ہے کہ سوال کرنے والا اُن کی بھلائی چاہتا ہے۔ مگر ایسے فقرے ’سِنگل شیمنگ‘ یعنی ’غیر شادی شدہ ہونے پر شرم دلانے‘ کے مترادف ہوتے ہیں اور فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سنگل شیمنگ ان منفی تعصبات کا نتیجہ ہے جو غیر شادی شدہ لوگوں کے بارے میں پائے جاتے ہیں: مثلاً پارٹنر یا جیون ساتھی کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ لازماً غمگین اور تنہائی کا شکار ہوں گے، وہ کسی کی تلاش میں ہیں مگر وہ اب تک ملا نہیں، ان ہی میں کوئی خرابی ہو گی تب ہی تو وہ اب تک اکیلے ہیں۔
یہ روایت پرستانہ رویہ اس دباؤ کا نتیجہ ہے جو ہمیں معاشرے کی مقرر کردہ اقدار کا پابند بنانے کی کوشش کرتا ہے: جیون ساتھی، گھر، بچے۔۔۔ یہ وہ لوازمات ہیں جنھیں ایک ’خوشگوار زندگی‘ کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
ایسے میں جبکہ کچھ دہائیوں سے لوگ ان معیاروں کو پھر سے جانچ رہے ہیں، حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ سنگل شمینگ یا غیر شادی شدہ افراد کو نادانستہ طور پر شرم کا احساس دلانے کا رویہ زوروں پر ہے۔ غیر شادی شدہ افراد کے ایک دوسرے سے تعارف کے لیے قائم ڈیٹنگ سروس ’میچ‘ کے ایک سروے کے مطابق، جس کی تفصیلات بی بی سی ورک لائف نے دیکھی ہیں، برطانیہ کے ایک ہزار غیر شادی شدہ افراد میں سے 52 فیصد کو سنگل شیمنگ کا سامنا رہا ہے۔
جبکہ 59 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے تعلقات کی نوعیت سے مطمئن تھے مگر پھر بھی انھیں بے جا مداخلت پر مبنی ان سوالات کا سامنا رہا۔
اکیلا رہنے والوں کے بارے میں ایسے تعصبات نہ صرف نازیبا ہیں، بلکہ کئی ملکوں میں انھیں دقیانوسی سمجھا جاتا ہے۔ اکیلے رہنے والوں کی کیفیت اور حالات پر ایک کتاب ’سنگلڈ آؤٹ: ہاؤ سنگلز آر سٹیریوٹائپڈ‘ کی مصنفہ بیلا ڈی پاؤلو کہتی ہیں کہ ’ایک زمانے میں اکیلے پن کو ایک عبوری دور سمجھا جاتا تھا جس کے بعد لوگ پہلی شادی یا پھر سے شادی کرتے تھے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ اب تو امریکی شادی شدہ ہونے سے زیادہ وقت اکیلے رہ کر گزارنے لگے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ 1970 کی مردم شماری کے مطابق 40 فیصد گھرانے شادی شدہ اور بچوں پر مبنی جبکہ 17 فیصد غیر شادی شدہ ہوا کرتے تھے جبکہ 2012 میں غیر شادی شدہ گھرانوں کی شرح بڑھ کر 27 فیصد ہو چکی تھی اور والدین اور بچوں پر مشتمل گھر گھٹ کر 20 فیصد رہ گئے تھے۔
ان اعداد و شمار کے باوجود غیر شادی شدہ افراد کو اپنے شادی شدہ رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے۔ بلکہ اس معاشرتی دباؤ کی وجہ سے وہ خود سے بھی نالاں ہو جاتے ہیں۔ تاہم اب تبدیلی کے کچھ آثار رونما ہونے لگے ہیں کیونکہ آبادی میں سنگل رہنے والوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور سنگل رہنے سے وابستہ رسوائی کا تاثر زائل ہوتا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگل شیمنگ کے نقصانات
نیویارک میں مقیم سائیکوتھراپسٹ ایلیسن ابرامس کے مطابق سنگل شیمنگ سے مراد ’کسی کے بارے میں اس بنیاد پر منفی رائے قائم کرنا ہے کہ وہ ایک خاص عمر کو پہنچ کر بھی غیر شادی شدہ ہے اور معاشرے کی توقعات کو پورا نہیں کر رہا یا کر رہی ہے۔‘
پیرس میں ڈیٹنگ ایپ ’ہیپن‘ سے وابستہ آئپیک کوکک کہتے ہیں کہ ’سنگل افراد کے ساتھ جوڑوں کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سنگل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بیزار اور تنہائی کا شکار ہیں۔‘
میچ کی سٹڈی میں تحقیق کرنے والوں نے سنگل افراد سے ’احساسِ شرم‘ پر مبنی ان فقروں کے بارے میں پوچھا جو انھیں دوسروں سے سُننا پڑے تھے، اور 35 فیصد نے کہا کہ ان سے کہا گیا کہ ’تمھیں جلد ہی کوئی مل جائے گا۔‘ 29 فیصد کو سُننا پڑا، ’تم کس قدر تنہائی محسوس کرتے ہو گے‘ جبکہ 38 فیصد کو ان کی حالت پر ہمدردی سے بھرے فقرے سننا پڑے۔
ڈی پاؤلو کہتی ہیں کہ شادی شدہ افراد کے بارے میں یہ خام خیالی پائی جاتی ہے کہ انھیں زندگی کا وہ تجربہ حاصل ہے جو تنہا رہ کر نہیں ملتا، اور یہ کہ سنگل افراد کی زندگی غمگین ہوتی ہے اور تنہا رہنے کا مطلب خود غرضی ہے۔
سنگل افراد کے بارے میں ایسے فرسودہ خیالات نے صرف غلط بلکہ نقصان دہ ہیں۔
ابرامس کہتی ہیں کہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا احساسِ شرم انسان کو اپنی نظروں میں گرانے کا سبب بن سکتا ہے۔ چاہے تنہا رہنے والے کے رشتہ دار اور دوست اسے ایسا کچھ نہ کہتے ہوں جس سے وہ اپنی غیر شادی شدہ حیثیت پر شرمسار ہو مگر معاشرے کے مقرر کردہ اہداف، جیسے شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا، کے حصول میں ناکامی اسے متاثر کر دیتی ہے، خاص طور سے اس شخص کو جو پوری تندہی سے جیون ساتھی پانے کی کوشش کر رہا ہو، کیونکہ معاشرہ اس سے یہ توقع رکھتا ہے۔
ابرامس کا کہنا ہے کہ ’یہ بات کئی بار میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ اس سے لوگ ڈپریشن یعنی افسردگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ معاشرے کا یہ رویہ ان لوگوں کو وہ کچھ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتے اور اپنے حال میں خوش ہوتے ہیں۔
سنگل شیمنگ کا یہ احساس والدین اور دوستوں کے سوا دوسرے ذرائع سے بھی ملتا ہے۔ مثلاً حکومتیں قانونی طور پر شادی شدہ افراد کو بعض مراعات دے کر اس میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، مگر چھڑے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ صحیح زندگی گزارنے کا بس یہ ہی طریقہ ہے اور سنگل زندگی کسی کام کی نہیں ہے۔
ڈی پاؤلو کہتی ہیں کہ امریکہ میں ملازمین اپنے شریک حیات کو علاج معالجے کی سکیم میں شامل کر سکتے ہیں مگر سنگلز کو یہ سہولت فراہم نہیں ہے کہ وہ اپنے بہن بھائیوں یا دوستوں کو اپنے ساتھ شامل کر سکیں۔ جوڑوں اور فیملیوں کو اور بھی کئی طرح کی سہولتوں کی پیشکش کی جاتی ہے مثلاً چھٹیوں کے دوران انھیں خاص مراعات حاصل ہوتی ہیں۔
غیر شادی شدہ عورت بمقابلہ غیر شادی شدہ مرد
سنگل شمینگ کا معاملہ معاشرے کی دوسری ’رسوائیوں‘ سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ غیر شادی شدہ عورتوں پر غیر شادی شدہ مردوں کے مقابلے میں اس کا زیادہ اثر ہوتا ہے، اور بعض سماجوں میں ایسی خواتین پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے کہ وہ شادی کر کے بچیں جنیں۔
مثلاً انگریزی میں غیر شادی شدہ مرد کو ’بیچلر‘ جبکہ غیر شادی شدہ عورت کو ’سپِنسٹر‘ کہتے ہیں۔
قرون وسطیٰ میں ’سپِنسٹر‘ کا لفظ ان عورتوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جو اون کاتی تھیں اور زیادہ تر غیر شادی شدہ ہوتی تھیں۔ ان کے لیے ادنیٰ درجے کی ان ملازمتوں کا حصول زیادہ آسان اس لیے ہوتا تھا کہ بہتر نوکریاں شادی شدہ عورتوں کو دی جاتی تھی کیونکہ وہ اپنی شوہروں کی مدد سے وہ ساز و سامان فراہم کر سکتی تھیں جس کی ضرورت ایسے کاموں میں پڑتی تھی۔ جبکہ بیچلر ان مردوں کے لیے استعمال ہوتا تھا جو بے فکری اور مزے کی زندگی گزارتے تھے، جن پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی پاؤلو کا کہنا ہے کہ ’روایتی دانش کے مطابق، جو نہ تو دانشمندی پر مبنی ہے اور نہ ہی درست ہے، مردوں کے مقابلے میں عورتیں شادی کے لیے زیادہ فکرمند رہتی ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں انھیں ایسے اشتعال انگیز سوالوں کا زیادہ سامنا رہتا ہے جیساکہ ’آپ کسی سے ملتی تو ہیں ناں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مردوں کو بھی اس حقارت آمیز رویے کا سامنا رہتا ہے، مثلاً ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا بچپنا ابھی گیا نہیں، وہ اپنا خیال نہیں رکھ سکتے اور ان پر ہر وقت شہوت سوار رہتی ہے۔‘
ابرامس کا اپنے کلینک ایسے کئی مریضوں سے واسطہ پڑتا ہے جن کا تعلق کوریا، چین اور انڈیا سے ہے اور جنھیں شادی کے بارے میں اپنے رشتہ داروں کی جانب سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر خود امریکہ میں بھی ایک علاقے کے مقابلے میں دوسرے علاقے میں یہ دباؤ زیادہ پایا جاتا ہے۔
شادی کے بارے میں مختلف ثقافتوں میں پایا جانے والا یہ رویہ عورتوں اور مردوں کے لیے متعین کردہ کرداروں اور اقدار کی پاسداری پر زور دیتا ہے اور اس پر عمل نہ کرنا غیر روایتی سمجھا جاتا ہے۔ ابرامس نے بتایا کہ ’ان مریض نے کہا کہ اس کے گھر والے 30 سال یہ اس سے بھی کم عمر میں بچہ نہ ہونے کو قابل شرم سمجھتے ہیں۔‘
’نمبروں کی طاقت‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ سنگل ہونے کے معنی بدل رہے ہیں، اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی جو لوگوں کے رویوں میں بھی آ رہی ہے اور مجموعی آبادی میں چھڑوں کی تعداد میں بھی، سنگل ہُڈ یا اکیلے پن کو عام سی بات بنا دی گی اور یوں ممکنہ طور پر غیر شادی شدہ افراد کے بارے میں رائے زنی ختم ہوتی چلی جائے گی۔
حالیہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر بھی اور معاشرتی طور پر بھی بااثر شخصیات نے اپنی سنگل حیثیت کے بارے میں بات کرنا شروع کی ہے۔ مثلاً اداکارہ ایما واٹسن نے کھل کر خود کو ’سیلف پارٹنرڈ‘ یعنی ’آپ اپنی جیون ساتھی‘ قرار دیا ہے، تاکہ دوسرے سنگل افراد زندگی میں ایک جیون ساتھی کی کمی کو منفی کی بجائے مثبت انداز میں دیکھیں۔
ابرامس کہتی ہیں کہ ’جیسے جیسے لوگ سنگل حیثیت کو اپنا رہے ہیں، میرے خیال میں اس سے دوسرے لوگوں کو بھی آزادی کا وہ احساس مل رہا ہے کہ وہ بھی ایسا کریں۔‘
ماہرین کو توقع ہے کہ آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے غیر شادی شدہ افراد کے بارے میں بھی لوگوں کی رائے تبدیل ہو گی۔ ڈی پاؤلو سنگل یا چھڑے افراد میں اس اضافے کو ’نمبروں کی طاقت‘ قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ادارۂ شماریات جب بھی نئے اعداد و شمار پیش کرتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ چھڑوں کی تعداد مزید بڑھ چکی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’جب امریکہ میں غیر شادی شدہ افراد ہجوم در ہجوم ہو جائے گے، فرض کیجیے ان کی تعداد آبادی کا نصف تک چلی جائے گی تو دوسروں کے لیے یہ کہنا مشکل ہو جائے گا کہ چھڑے یا سنگل رہنے والوں میں کوئی خرابی ہے۔‘











