رائف بداوی: ایک ہزار کوڑوں کی سزا پانے والے سعودی بلاگر 10 سال بعد رہا

دس برس سے قید میں موجود سعودی بلاگر رائف بداوی کی اہلیہ نے اپنے شوہر جنھیں مبینہ طور پر آن لائن ’مذہب اسلام کی توہین‘ کرنے پر ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔
کینیڈا میں مقیم ان کی اہلیہ انصاف حیدر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ رائف بداوی نے انھیں فون کیا تھا۔ بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر تین بچوں سمیت سنہ 2012 میں شوہر پر ہونے والے مبینہ حملے کے بعد کینیڈا چلی گئی تھیں۔
خیال رہے کہ رائف بداوی ’فری سعودی لبرلز‘ ویب سائٹ کے بانی ہیں، اور انھیں سنہ 2012 میں اسلام کی مبینہ توہین کرنے کا مجرم ٹھہراتے ہوئے ایک لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔
بداوی کو سنہ 2016 کے آغاز میں جدّہ کی ایک مسجد کے باہر 50 کوڑے مارے گئے تاہم بعد میں کوڑے مارنے کا عمل روک دیا گیا تھا۔ کیونکہ اس پر دنیا بھر سے انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے احتجاج دیکھنے کو ملا تھا۔
تاہم رائف بداوی کی رہائی پر سعودی حکام کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بداوی کے بیٹے تیرد نے ٹویٹ میں لکھا: ’میرے والد آزاد ہیں۔‘
بداوی کی سزا یکم مارچ کو ختم ہو گئی تھی تاہم ابھی مزید دس سال تک ان پر سفری پابندیاں عائد ہیں۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ دیگر پابندیوں کا سامنا کریں گے یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ پابندیوں کے باوجود بداوی کینیڈا میں اپنے خاندان کے پاس جا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بداوی کی عمر اس وقت 38 برس ہے انھوں نے لبرل سعودی نیٹ ورک کی بنیاد سنہ 2008 میں رکھی تھی جس میں مذہبی اور سیاسی معاملات میں بات چیت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔
سنہ 2012 میں بداوی کو جدہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ وہ اطاعت سے روگردانی کر رہے ہیں اور انھوں نے ’الیکٹرانک چینلز‘ کے ذریعے مذہب اسلام کی توہین کی ہے۔
اس برس کے آخر میں ایک جج نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ ان کی جانب سے مبینہ طور پر ارتداد کیے جانے کے باعث بھی ان کے خلاف کارروائی کی جائے جس کی سزا موت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے
تاہم استغاثہ نے اسے مزید آگے نہیں بڑھایا اور ابتدائی طور پر لگنے والے الزامات پر انھیں پھر سنہ 2013 میں سات سال قید اور 600 کوڑوں کی سزا فوجداری عدالت کی جانب سے سنائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2014 میں اس سزا کو برقرار رکھا گیا اور سزا کو سات سال سے 10 سال تک بڑھایا گیا اور 600 کوڑوں کی سزا کو ایک ہزار تک بڑھا دیا گیا۔
عدالت نے انھیں 10 لاکھ سعودی ریال جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا اور ان پر رہائی کے بعد بھی 10 سال تک بیرون ملک جانے اور میڈیا میں کسی بھی کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی۔
ان کی اہلیہ جنھوں نے ان کی قید کے بعد ان کی رہائی کے لیے مسلسل بنیادوں پر مہم چلائی نے ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں فرانسیسی، انگریزی اور عربی زبان میں ایک ہی جملہ لکھا: ’دس سال جیل کے بعد رائف آزاد ہے۔‘
اگرچہ سعودی عرب میں نئے ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں ثقافتی اور معاشی سطح پر کچھ تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں تاہم دس سال پہلے کی مانند اب بھی کھل کر تنقید کے لیے صدا بلند نہیں کی جاتی۔











