روس یوکرین جنگ: روس کے زیرِ قبضہ سومی شہر جہاں پاکستانی طلبا کا ایک گروہ محصور ہے

Sanaullah Khan

،تصویر کا ذریعہSanaullah Khan

،تصویر کا کیپشنبلال احمد، ثنا اللہ اور مصباح اللہ۔ ان طلبا کا کہنا ہے کہ آج تیسرا دن ہے وہ دن میں پانچ پانچ چھ چھ مرتبہ سفارت خانے سے رابطہ کرکے مدد مانگ رہے مگر کوئی رسپانس نہیں مل رہا
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’شہر پر دو دن سے روسی فوجیوں کا قبضہ ہو چکا ہے، ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیا اور پیسے ختم ہو رہے ہیں۔۔۔ ہم 15 طلبا یہاں پھنسے ہوئے ہیں، ایک دوست نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو اسے روسی فوجیوں نے مارا اور وہ واپس آ گیا۔۔۔ ہم نے یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے مدد کے لیے فون کیا تو اہلکار نے پوچھا ’سومی کہاں ہے‘ ہم تو دنگ رہ گئے کہ کیا آپ واقعی سفارتخانے میں کام کرتے ہیں۔۔۔‘

روس کے حملے کے بعد یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستانی طلبا کی اکثریت کو ملک سے نکلنے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے اور اب صرف چند ہی طلبا ایسے ہیں جو یوکرین میں موجود ہیں لیکن پاکستانی طلبا کا ایک گروہ یوکرین کے ایسے شہر میں پھنس چکا ہے جہاں روس کی فوج قبضہ کر چکی ہے۔

یوکرین پر روسی حملے کے تیسرے دن پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے تعلق رکھنے والے ثنا اللہ اور ان کے 14 پاکستانی ساتھی روسی سرحد سے 40-50 کلومیٹر پر واقع سومی شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سب افراد سومی سٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔

ان طلبا نے مدد کے لیے یوکرین میں واقع پاکستانی سفارتخانے فون کیا تو انھیں کہا گیا کہ وہ لییو یا ترنوپل شہر پہنچیں (یہ دونوں شہر سومی سے بالترتیب 900 اور 800 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں)۔

دوسری جانب یوکرین میں موجود پاکستانی سفیر میجر جنرل (ریٹائرڈ) نوئیل اسرائیل کھوکھر کا کہنا ہے کہ انھوں نے سومی میں پھنسے ان طلبا سے بات کی ہے مگر سومی روسی فوجوں کے قبضے میں ہے اور ہم اپنے ذرائع سے انھیں وہاں سے نہیں نکال سکتے۔ تاہم طلبا ایسی کسی بھی گفتگو کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے ماسکو میں سفارتخانے سے درخواست کی ہے کہ وہ روسی فوجوں سے کہیں کہ ان طلبا کی حفاظت کی جائے اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے ہم انھیں وہاں سے نکال لیں گے۔

’روسی فوجیں ہمیں شہر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہیں‘

ثنا اللہ کہتے ہیں کہ ’پہلی بات تو یہ کہ روسی فوجیں ہمیں شہر سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہیں۔ دوسرا لییو یہاں سے 900 کلومیٹر جبکہ ترنوپل تقریباً 800 کلومیٹر دور ہے۔ ہمارے پاس نہ تو گاڑی ہے نہ شہر میں پٹرول مل رہا ہے اور نہ یہاں سے کوئی بس یا ٹرین چل رہی ہے۔۔۔ ہر طرف جنگ جاری ہے، ہم اپنے طور پر یہاں سے ان دونوں شہروں تک کیسے جائیں۔‘

یہ 15 طالبعلم چاہتے ہیں کہ سفارتخانہ لییو یا ترنوپل پہنچنے کے لیے روسی فوج سے ان کے لیے اجازت نامہ لے اور ان کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرے یا کسی اور راستے سے انھیں نکالنے کا انتطام کرے مگر ان کے مطابق سفارتخانہ مصر ہے کہ وہ خود اپنے طور پر لییو یا ترنوپل پہنچیں جو فی الحال ناممکن اور خطرناک نظر آتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

’یوکرین سے پاکستانی طلبا کی اکثریت کو نکالا جا چکا ہے‘

یوکرین میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق اب تک تقریباً 70 طلبہ کو یوکرین کے شہر خرخیو سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری حملوں کا زور بھی اسی شہر میں ہے۔

پاکستانی سفیر ڈاکٹر نوئیل اسرائیل کھوکھر کا کہنا ہے کہ یوکرین میں 3000 پاکستانی طلبہ تھے جن میں سے زیادہ تر کو حملوں کی زد میں آئے دو شہروں خرخیو اور کیئو سے نکال لیا گیا ہے۔ ان طلبہ کو دو سے تین گروپ میں پولینڈ بھیجا جائے گا جہاں سے پاکستانی سفارتخانہ انھیں وطن واپس بھیجے گا۔

اس سے پہلے یوکرین کے شہر ترنوپل پہنچنے والے 35 طلبہ کو بھی پولینڈ کے ذریعے پاکستان واپس پہنچایا جائے گا۔ ڈاکٹر نویئل کے مطابق اس وقت فائرنگ کی آواز ہر دوسرے منٹ سنائی دے رہی ہے جبکہ ملک کے کئی شہروں میں حملے جاری ہیں۔

پاکستانی سفارتخانے نے یوکرین میں موجود طلبہ کو مغربی یوکرین کی طرف جانے کا کہا ہے جو اس وقت سب سے محفوظ ترین خطہ بتایا جارہا ہے۔

یاد رہے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کی طرح انڈین حکومت بھی اپنے شہریوں کو یوکرین سے نکالنے میں مصروف ہے اور اب تک 470 انڈین طلبا کو یوکرین سے نکال کر رومانیہ کی سرحد پر پہنچایا جا چکا ہے۔ انڈین طلبا کو پولینڈ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے پولینڈ - یوکرین کی سرحد پر بھی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

سفارتخانے نے کہا ’آپ پڑھائی پر توجہ دیں‘

ثنا اللہ بتاتے ہیں کہ چونکہ ان کا شہر بالکل سرحد کے قریب ہے اسی لیے آج سے تقریباً ایک ہفتہ قبل انھوں نے سفارتخانے کو مطلع کیا تھا کہ ’یہاں حالات بہت خراب ہو رہے ہیں اور ہم یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں، بتائیں ہم کیا کریں؟ جس پر سفارتخانے نے پہلے تو یہ پوچھا کہ ’سومی ہے کہاں؟‘ ہم تو دنگ رہ گئے اور ان سے پوچھا ’کیا آپ واقعی سفارت خانے میں کام کرتے ہیں؟‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کا میڈیکل کے تیسرے سال کا امتحان ہونے والا تھا جس کے باعث یونیورسٹی نے انھیں ہفتہ قبل نکلنے کی اجازت نہیں دی، انھوں نے سفارتخانے سے یہ کہہ کر مدد مانگی کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کریں کیونکہ انھیں خدشہ تھا سب سے پہلے اسی شہر پر قبضہ ہو گا جس پر سفارتخانے نے کہا ’آپ پڑھائی پر توجہ دیں‘۔‘

ان طلبا کے مطابق جمعرات کو جب حالات مزید خراب ہوئے اور شہر پر روسیوں کا قبضہ ہو گیا تو انھوں نے ایک بار پھر سفارتخانے سے رابطہ کیا جس پر انھیں کہا گیا کہ ’آپ خود وہاں سے نکلیں پھر ہم کچھ کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

یوکرین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسومی شہر سے نکلنے کے تینوں خارجی راستوں پر روسیوں کا قبضہ ہے اور انھوں نے ٹینک کھڑے کر کے ناکہ بندی کر رکھی ہے

’روسی فوجیوں نے ٹینک کھڑے کرکے ناکہ بندی کر رکھی ہے‘

ثنا اللہ بتاتے ہیں کہ ان 15 افراد نے جب کل شہر سے نکل کر خارخیو جانے کوشش کی تو تقریباً 10 کلومیٹر تک جانے کے بعد روسی فوجیوں نے انھیں روکا۔

’ہم نے انھیں بتایا کہ ہم غیر ملکی ہیں اور ہمارے سفارتخانے نے ہمیں ان شہروں میں آنے کا کہا ہے لیکن انھوں نے جواب دیا کہ ’جب تک ہم اجازت نہ دیں، آپ شہر سے نہیں جا سکتے۔‘

ان کے مطابق شہر سے نکلنے کے تینوں خارجی راستوں پر روسیوں کا قبضہ ہے اور انھوں نے ٹینک کھڑے کر کے ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ان کے ایک دوست کو نکلنے کی کوشش کے دوران مارا پیٹا بھی گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ شہر میں یوکرینی پولیس کہیں نظر نہیں آتی، ہر طرف روسی فوجی ہیں اور شہر میں حالات بہت خراب ہیں۔ سومی شہر تقریباً خالی ہو چکا ہے، دکانوں پر کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی ہیں۔

’ہم جو راشن 15 دن پہلے لائے تھے وہ بھی ختم ہو چکا ہے اور اب ہم صرف سیب کھا کر گزارا کر رہے ہیں کیونکہ صرف ایک یہی چیز دستیاب ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی رہائش سے 100 میٹر کے فاصلے پر ایک بنکر موجود ہے، جب یوکرینی حکام فضائی حملے کا الرٹ جاری کرتے ہیں وہ اس بنکر کی جانب دوڑتے ہیں اور رات کا بیشتر حصہ وہیں گزراتے ہیں مگر درجہ حرارت منفی 10 ڈگری ہے، شدید سردی ہے لہذا زیادہ دیر وہاں رکا نہیں جا سکتا۔

Sanaullah Khan

،تصویر کا ذریعہSanaullah Khan

،تصویر کا کیپشنثنا اللہ خان کا کہنا ہے کہ رات کا بیشتر حصہ وہ بنکر میں گزراتے ہیں مگر درجہ حرارت منفی 10 ڈگری ہے، شدید سردی ہے لہذا زیادہ دیر وہاں رکا نہیں جا سکتا

ان طالبعلموں کے مطابق انھوں نے ایک گاڑی والے سے بات کی جس نے ان سے 4000 ڈالر مانگے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’ہم طالبلعلم ہیں، بڑی مشکل سے گزارہ کر رہے ہیں، ہم اتنے پیسے کہاں سے لائیں؟ پیسے ہوں بھی تو شہر میں پٹرول ہی نہیں مل رہا۔‘

ثنا اللہ کے مطابق ان کے ساتھ ہاسٹل میں موجود مصر اور اردن کے طالبعلموں نے انھیں بتایا ہے کہ انھیں لینے کے لیے آج بسیں پہنچ رہی ہیں مگر ’ہمارا سفارتخانہ پہلے پوچھتا ہے یہ سومی کہاں ہے۔۔ اب کہہ رہے کہ آپ خود آ جائیں تو کچھ کرتے ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ جس وقت روس نے حملہ کیا وہ خارخیو میں اپنے بھائی سے مل کر واپس سومی آ رہے تھے اور راستے میں ہر جانب شیلنگ اور فائرنگ ہو رہی تھی ’میں بال بال بچ کر یہاں پہنچا ہوں‘۔

وہ پوچھتے ہیں کہ ’ان حالات میں ہم اتنے دور لییو یا ترنوپل کیسے پہنچیں؟ سفارتخانہ کچھ نہیں کر رہا اور ہم پھنس گئے ہیں۔‘

’کسی طرح ہمیں یہاں سے نکالیں، پاکستان میں ہمارے والدین بہت پریشان ہیں‘

Foriegn Office

،تصویر کا ذریعہ Foriegn Office

چونکہ وہ روسی سرحد سے قریبی شہر میں ہیں تو کیا انھوں نے خود یا سفارتخانے کے ذریعے روس کی جانب نکلنے کی کوشش نہیں کی؟

اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’روسی فوجیں ہمیں کہیں جانے کی اجازت نہیں دے رہیں، ہمارے پاس کہیں پہنچنے کا ذریعہ (پٹرول، گاڑی) بھی نہیں لیکن اگر سفارتخانہ روسیوں سے بات کر لے یا کوئی اجازت نامہ لے دے تو ہم کوشش کر سکتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ سفارتخانہ پولینڈ، روس یا یوکرین کس راستے سے انھیں نکالتے ہیں۔

’بس کسی طرح ہمیں یہاں سے نکالیں کیونکہ یہاں سب کچھ ختم ہو گیا ہے صرف ایک دن کا راشن رہ گیا ہے، باہر حالات بہت خراب ہیں اور پاکستان میں ہمارے والدین بہت پریشان ہیں۔‘

ثنا اللہ کے مطابق ان کی والدہ بہت پریشان ہیں اور سارا دن ہماری زندگی کے لیے بچ جانے کے وظیفے کرتی رہتی ہیں۔