ٹیلی گرام: وہ پلیٹ فارم جہاں خواتین کی برہنہ تصاویر ان کی مرضی کے خلاف پوسٹ کی جاتی ہیں

،تصویر کا ذریعہKlawe Rzeczy
تنبیہ: اس رپورٹ میں اس نوعیت کے تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتی ہیں۔
اس ایک لمحے نے سارہ (فرضی نام) کی زندگی بدل کر رکھ دی جب انھیں معلوم ہوا کہ ناصرف اُن کی ایک عریاں تصویر لیک ہو گئی ہے بلکہ ٹیلی گرام پر شیئر بھی کی گئی ہے۔ اُن کی تصویر کے ساتھ اُن کے انسٹاگرام اور فیس بُک پروفائلز کی تفصیلات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کا فون نمبر بھی شیئر کیا جا رہا تھا۔
ذاتی نوعیت کی یہ تفصیلات سامنے آنے کے بعد بہت سے نامعلوم افراد ان سے رابطہ کر رہے تھے اور مزید ایسی ہی تصویروں کی فرمائش کر رہے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھے ایسا محسوس کروایا جیسا کہ میں ایک طوائف ہوں کیونکہ (اُن کا خیال تھا) میں نے اپنی ذاتی تصاویر خود شیئر کیں۔ اس کا مطلب تھا کہ ایک عورت کے طور پر میری کوئی قدر نہیں رہی۔‘
سارہ نے صرف ایک شخص کے ساتھ اپنی عریاں تصویر شیئر کی تھی، لیکن یہ ایک ٹیلی گرام گروپ کے ذریعے گروپ کے 18 ہزار فالورز کے پاس پہنچ گئی جن میں سے زیادہ تر کیوبا کے شہر ہوانا میں رہتے تھے، جو اُن کے پڑوس کا شہر ہے۔ انھیں اب ڈر ہے کہ سڑک پر چلتے پھرتے بہت سے اجنبیوں نے ان کی برہنہ تصویر دیکھی ہو گی۔
‘میں باہر نہیں جانا چاہتی تھی، اپنے کسی دوست سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سچ یہ ہے کہ مجھ پر بہت بُری گزری۔‘
مگر سارہ اکیلی نہیں ہیں۔ ٹیلی گرام پر کئی مہینوں کی چھان بین کے بعد بی بی سی نے بڑے گروپس اور چینلز کو کم از کم 20 ممالک میں خواتین کی ہزاروں خفیہ طور پر فلمائی گئی، چوری کی گئی یا لیک شدہ تصاویر کو شیئر کرتے دیکھا ہے۔ اور اس بات کا بہت کم ہی ثبوت ہے کہ ٹیلی گرام اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ کر رہا ہے۔


کیوبا سے ہزاروں میل دور نگار نامی خاتون جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ آذربائیجان سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن انھیں سیاسی وجوہات پر اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ سنہ 2021 میں اُن کی اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلقات کی ایک ویڈیو اُن کے خاندان کو بھیجی گئی، اور پھر اسے ٹیلی گرام گروپ پر پوسٹ کیا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘میری والدہ روتی ہوئی آئیں اور انھوں نے بتایا کہ ایک ویڈیو ہے جو انھیں موصول ہوئی ہے۔ یہ سُن کر میں انتہائی شدید پریشان اور افسردہ ہو گئی۔‘
اس ویڈیو کو ایک ایسے گروپ میں شیئر کیا گیا جس کے 40 ہزار فالوورز ہیں۔ فوٹیج میں نگار کے سابق شوہر کا چہرہ دھندلا ہے لیکن اُن کا چہرہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اُن کا ماننا ہے کہ اُن کے سابق شوہر نے اُن کے بھائی کو بلیک میل کرنے کے لیے یہ سب خفیہ طور پر فلمایا۔ نگار کے مطابق اُن کے بھائی آذربائیجان کے صدر کے ایک معروف ناقد ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن کی والدہ کو بتایا گیا تھا کہ اگر ان کے بیٹے (نگار کے بھائی) نے اپنی سرگرمیاں بند نہ کیں تو یہ ویڈیو ٹیلی گرام پر جاری کی جائے گی۔
نگار کہتی ہیں کہ ‘وہ آپ کو ذلت سے دوچار کرنے لگتے ہیں۔ کیا ہوا کہ اگر آپ کی شادی ہوئی ہے۔‘
نگار کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنے سابق شوہر سے اس ویڈیو کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے یہ ویڈیو بنانے کی تردید کی۔ بی بی سی نے اس حوالے سے نگار کے شوہر کا موقف مانگا تاہم انھوں نے جواب نہیں دیا۔
نگار اب بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ‘میں صحت یاب نہیں ہو سکتی۔ میں ہفتے میں دو بار تھراپسٹ سے ملتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا میں اس واقعے کو بھول سکتی ہوں، اور میرا جواب ہوتا ہے نہیں۔‘

نگار اور سارہ دونوں کی تصاویر ٹیلی گرام کو رپورٹ کی گئیں، لیکن ٹیلی گرام انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
بی بی سی روس سے برازیل اور کینیا سے ملائیشیا تک کے ممالک میں 18 ٹیلی گرام چینلز اور 24 گروپس کی نگرانی کر رہا ہے۔ ان گروپس میں صارفین کی کل تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔

خواتین کی ذاتی تفصیلات جیسے گھر کا پتہ اور والدین کے فون نمبر ان کی عریاں تصویروں کے ساتھ پوسٹ کیے گئے تھے۔
ہم نے گروپ ایڈمنسٹریٹرز کو ممبران سے سابق پارٹنرز، ساتھیوں یا ساتھی طلبا کی عریاں تصاویر خودکار اکاؤنٹ پر بھیجنے کو کہتے دیکھا، تاکہ بھیجنے والے کی شناخت ظاہر کیے بغیر انھیں شائع کیا جا سکے۔
ٹیلی گرام کا کہنا ہے کہ اس کے دنیا بھر میں 50 کروڑ سے زیادہ فعال صارفین ہیں، یہ تعداد ٹوئٹر سے زیادہ ہے، اور بہت سے لوگ اس پلیٹ فارم پر صرف اس لیے ہیں کیونکہ ٹیلی گرام رازداری کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔
لاکھوں افراد جنوری 2021 میں واٹس ایپ سے ٹیلی گرام پر منتقل ہوئے تھے کیونکہ واٹس ایپ نے رازداری کی شرائط کو تبدیل کر دیا تھا۔
میڈیا سینسر شپ والے ممالک میں ٹیلی گرام جمہوریت کے حامی مظاہرین میں طویل عرصے سے مقبول رہا ہے۔ صارفین اپنا نام یا فون نمبر شیئر کیے بغیر پوسٹ کر سکتے ہیں، اور دو لاکھ ممبران تک کے ساتھ پبلک یا پرائیویٹ گروپ بنا سکتے ہیں، یا ایسے چینلز بنا سکتے ہیں جو لامحدود لوگوں تک نشر کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
رازداری کے لیے ٹیلی گرام کی شہرت کے باوجود، صرف ‘خفیہ چیٹ‘ کا اختیار اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتا ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بات کرنے والے صرف دو افراد ہی پیغام دیکھ سکتے ہیں۔ یہ محفوظ چیٹ ایپس جیسے سگنل اور واٹس ایپ پر پہلے ہی لگا ہوتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم کم ریگولیٹڈ جگہ کے خواہاں صارفین کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، بشمول وہ لوگ جن پر دوسرے پلیٹ فارمز سے پابندی عائد کی گئی ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس گروپ ایکسیس ناؤ کی ٹیک لیگل کونسل نتالیہ کرپیوا کہتی ہیں کہ ‘ٹیلی گرام اور اس کے مالک کے مطابق، وہ صارفین کو سینسر نہیں کرنا چاہتے۔‘
لیکن ہماری تحقیق نے یہ ظاہر کیا ہے کہ موڈریشن کے لیے اس ‘لائٹ ٹچ اپروچ‘ نے ٹیلی گرام کو عریاں تصاویر کو لیک کرنے اور شیئر کرنے کی پناہ گاہ بنا دیا ہے۔
ٹیلی گرام کے پاس عریاں تصاویر کے بغیر اجازت کے شیئر کیے جانے سے نمٹنے کے لیے کوئی مخصوص پالیسی نہیں ہے، لیکن اس کی سروس کی شرائط صارفین کو ‘عوامی طور پر دیکھے جانے والے ٹیلی گرام چینلز، بوٹس وغیرہ پر غیر قانونی فحش مواد شائع نہ کرنے‘ کی ہدایت کرتی ہیں۔
اس میں پبلک اور پرائیویٹ دونوں گروپوں اور چینلز میں ان ایپ رپورٹنگ کی خصوصیت بھی ہے جہاں صارفین فحش مواد کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

یہ جانچنے کے لیے کہ ٹیلی گرام نے اپنی پالیسیوں کو کس حد تک سختی سے نافذ کرتا ہے، ہم نے ان ایپ رپورٹنگ فیچر کے ذریعے 100 تصاویر کو فحش نگاری کے طور پر رپورٹ کیا۔ ایک ماہ بعد تک بھی ان میں سے 96 پلیٹ فارم پر موجود تھیں۔ نہ ملنے والی چار دیگر تصاویر کو ہم تلاش نہیں کر سکے، کیونکہ وہ ان گروپوں میں تھیں جن تک ہم مزید رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
پریشان کُن بات یہ ہے کہ جب ہم ان گروپس کی تحقیقات کر رہے تھے تو روس کے ایک اکاؤنٹ نے ہمیں ایک چائے کی پیالی کی قیمت سے بھی کم قیمت پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیوز پر مشتمل ایک فولڈر فروخت کرنے کی کوشش کی۔
ہم نے ٹیلی گرام اور میٹروپولیٹن پولیس کو اس کی اطلاع دی، لیکن دو ماہ بعد بھی پوسٹ اور چینل موجود تھے۔ یہ اکاؤنٹ تب ہٹا جب ہم نے ٹیلی گرام میڈیا ٹیم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
اس کے ہلکی سی موڈریشن کے باوجود، ٹیلی گرام کچھ مواد کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔
جب ایپل نے ٹیلی گرام کو اپنے ایپ سٹور سے ان ویڈیوز کی وجہ سے جو ہمیں پیش کی گئی تھیں، ہٹا دیا تو ٹیلی گرام نے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی تصاویر پر زیادہ فعال موقف اختیار کیا۔ پلیٹ فارم نے 2019 میں یورپی یونین کی کرائم ایجنسی ’یورو پول‘ کے ساتھ بھی تعاون کیا تاکہ پلیٹ فارم پر پھیلے ہوئے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے مواد کی ایک بڑی مقدار کو ختم کیا جا سکے۔
آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹیٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر الیگزینڈر ہیراسیمنکا کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ٹیلی گرام دہشت گردی سے متعلق مواد یا کسی قسم کے انتہائی بنیاد پرست سیاسی مواد کو ہٹا سکتا ہے اور [ہٹا رہا ہے]۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن ایسا لگتا ہے کہ عریاں تصاویر کو ہٹانا ترجیح نہیں ہے۔
ہم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ٹیلی گرام کے پانچ کانٹینٹ ماڈریٹرز سے بات کی۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک خودکار نظام کے ذریعے صارفین سے رپورٹس وصول کرتے ہیں، جس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ ’سپیم‘ اور سپیم نہیں‘ میں ترتیب دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ فعال طور پر عریاں تصاویر تلاش نہیں کرتے ہیں اور جہاں تک وہ جانتے ہیں، ٹیلی گرام ایسا کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی نہیں کرتا ہے۔ موڈریشن کی کمی نے کچھ خواتین کو خود قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔

جوانا کو ملائیشیا کے ایک بدنام زمانہ ٹیلی گرام گروپ میں اپنی ایک برہنہ تصویر ملی۔ یہ تصویر اس وقت کی تھی جب وہ 13 سال کی تھیں۔
انھوں نے گروپ میں شامل ہونے کے لیے ایک جعلی ٹیلی گرام پروفائل بنایا، جہاں انھوں نے گمنام طور پر عریاں تصاویر تلاش کیں اور ان کی اطلاع دی۔ انھوں نے اپنے نتائج کو اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیا۔
میڈیا کے شدید دباؤ کی وجہ سے اس گروپ کو بالآخر بند کر دیا گیا۔ لیکن ہماری تحقیقات کے دوران، ہم نے کم از کم دو ڈپلیکیٹ گروپس کو ایک ہی قسم کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پایا۔
جوانا کہتی ہیں کہ ‘بعض اوقات آپ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ہم نے ان گروپس کو ہٹانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اب بھی سامنے آ رہے ہیں، اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ ایمانداری سے اس کا کوئی خاتمہ ہے۔‘
ٹیلی گرام نے ہمارے ساتھ انٹرویو سے انکار کر دیا، لیکن ایک بیان میں اس نے ہمیں بتایا کہ وہ عوامی مقامات کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور اس مواد کے بارے میں صارف کی رپورٹوں پر کارروائی کرتا ہے جو اس کی سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
ٹیلی گرام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا پلیٹ فارم پر رضامندی کے بغیر لوگوں کی عریاں تصاویر پوسٹ کرنے کی اجازت ہے، یا انھیں ہٹا دیا گیا ہے۔
ٹیلی گرام پر پر کچھ عوامی چینلز پر اشتہارات کے رول آؤٹ اور دیگر سرمایہ کاری سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اس کے بانی پاول دروو پلیٹ فارم سے رقم کمانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔
اس سے ٹیلی گرام اور اس کے بانی پر سوشل میڈیا کے حریفوں جیسے کہ واٹس ایپ کے طرز کو اپنانےکے لیے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جس نے عریاں تصاویر شیئر کرنے کے خلاف پالیسیاں متعارف کرانا شروع کر دی ہیں۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ کمپنی کب تک زیادہ موڈریشن کے خلاف مزاحمت کرے گی۔ لیکن ان خواتین کے لیے جن کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں تبدیلی وقت پر نہیں آ سکی تھی اور نہ ہی آتی نظر آ رہی ہے۔











