آن لائن ڈیٹنگ: ’پیار میں دھوکہ ہو سکتا ہے مگر پھر بھی میں نے اپنے آپ کو محبت کی کہانی میں بہک جانے دیا‘

،تصویر کا ذریعہYZABEL DZISKY
- مصنف, کیگل کاساپوگلو
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
پیار میں دھوکہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے روزمرہ کے رومانوی تعلقات میں درد کی گہرائیاں پنہاں ہو سکتی ہیں۔
اور جب آپ صرف اور صرف جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے کوئی رومانوی تعلق قائم کرتے ہیں تو آپ کے انتہائی ذاتی نوعیت کے جذبات کو تباہ کُن مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہی معاملہ یازبل زیسکی کے ساتھ ہوا۔ یازبل ایک فرانسیسی فلمساز ہیں جنھیں آن لائن ڈیٹنگ کی دنیا نے اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا اور آخر میں وہ پیار کے چکر میں بیوقوف بن گئیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسے وہ ایک ’کیٹ فشنگ‘ فراڈ میں پھنسیں، کیسے ایک دھوکے نے انھیں تباہ کر کے رکھ دیا اور کیسے انھوں نے اپنے ٹوٹے دل کی خاطر سچ تلاش کرنے کی جدوجہد کی۔
سنہ 2017 میں یازبل 46 سال کی تھیں، سنگل تھیں، اور ڈیٹنگ ایپس پر دستاویزی فلم بنانا چاہ رہی تھیں۔
ان کا منصوبہ یہ تھا تھا کہ وہ اپنی فلم کے لیے مختلف لوگوں کو انٹرویو کریں اور ممکنہ کرداروں کو تلاش کریں۔ مگر یہ دستاویزی فلم بنانا اپنے لیے محبت تلاش کرنے کا ایک موقع بھی معلوم ہوتا تھا۔
‘میرے سنگل دوست مجھے ان ایپس پر اپنی مزاحیہ رومانوی کہانیوں اور ملاقاتوں کے بارے میں بتاتے تھے۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں بس لوگوں کو انٹرویو کروں گی۔ مگر پھر مجھے خیال آیا کہ اگر دوسرے لوگوں کو یہاں محبت مل جاتی ہے تو ہو سکتا ہے مجھے بھی مل جائے۔‘
انھیں ایک خوش شکل لڑکے کی پروفائل ملی جس کا نام ‘ٹونی‘ (کولبی) تھا۔ کم از کم اس ’محبت کی داستان‘ کے شروع میں اس کا یہی نام تھا۔ وہ ایک سرجن تھا جو لاس اینجلس میں مقیم تھا اور جلد فرانس منتقل ہونے والا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یازبل نے پہلا قدم اٹھایا اور اپنی پسند کا اظہار کیا۔ دوسری طرف سے بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا اور یوں ‘میچ‘ ہو گیا۔
انھوں نے ایک ہفتے تک بات چیت کی اور یازبل کو یہ جان پر بہت حیرانی ہوئی کہ ان میں بہت سے چیزیں مشترک تھیں۔
‘وہ اپنی زندگی کے بارے میں مجھے بتا رہا تھا اور میں اسے اپنی زندگی کے بارے میں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے پالتو کتوں اور ہماری بیٹیوں کے نام بھی ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔ عورتوں کو ’اتفاق‘ پسند ہے اور مجھے یہ بہت رومانوی لگا۔ اس لیے میں نے اپنے آپ کو اس محبت کی کہانی میں بہک جانے دیا۔‘
وہ پیار کی اگلی سیٹرھی پر قدم رکھنا چاہتی تھیں اور اس شخص کو ویڈیو کال پر دیکھنا بھی۔

دوستوں کے ساتھ ایک شام باہر گئے ہوئے یازبل نے اپنے موبائل فون سے ‘ٹونی‘ کو کال کی اور اس دس منٹ کی کال کے دوران انھوں نے اپنے دوستوں کو ٹونی کی شکل دکھائی۔
ایک چھوٹی سی موبائل سکرین پر سر تھا جو زیادہ ہل نہیں رہا تھا۔
یازبل کہتی ہیں کہ ‘جب آپ ویڈیو کال پر ہوتے ہیں تو آپ کو زیادہ توجہ خود کو بہتر دکھانے پر ہوتی ہے، بجائے اگلے شخص پر۔ اس لیے میں سامنے والے شخص کو زیادہ توجہ نہیں دے رہی تھی۔‘
وہ دونوں رابطے میں رہے، میسجز کرتے رہے اور چھوٹی چھوٹی ویڈیو کالیں بھی کرتے رہے۔ لیکن پھر ایک دن ٹونی نے بغیر کوئی وجہ بتائے جواب دینا بند کر دیا۔
‘جب اس نے آخر کار پھر جواب دیا تو بتایا کہ اس کا نام اصل میں ٹونی نہیں ہے بلکہ مورات ہے۔‘
‘میں انتہائی حیران ہوئی کیونکہ میرے سابق شوہر کا نام بھی مورات تھا۔ اس نے کہا کہ وہ ترک النسل ہے اور استنبول میں رہتا ہے۔ میں غصے میں نہیں تھی، بس حیران تھی۔‘
‘جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے اپنا نام کیوں تبدیل کیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ سے ہے اور اس کے خیال میں مجھے اس سے اعتراض ہو گا۔ مگر میں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ میرے سابق شوہر کا بھی تعلق بھی ترک، فرانسیسی نسل سے تھا۔ میں نے کہا اس سے پریشان نہ ہو یہ بہت زبردست اتفاق ہے۔‘
‘میں نے سوچا کہ اسے گوگل کروں اور اس کے بارے میں بہت ساری چیزیں ملیں۔ میں اس کی تصاویر دیکھ سکتی تھی، ترک زبان میں ویڈیوز تھیں۔ مجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ وہ ایک حقیقی اور معروف سرجن تھا۔‘

یازبل کے لیے ہر چیز ٹھیک چل رہی تھی۔ وقتاً فوقتاً چھوٹی چھوٹی ویڈیو کالز اور پیار بھرے پیغامات کافی تھے، اور پھر یہ وعدہ تھا کہ وہ جلد ان سے ملنے آئے گا۔
مگر مورات کا کہنا تھا کہ اسے پہلے شنگھائی جانا تھا۔ یہ ہی دورہ تھا جس کی وجہ سے پہلی مرتبہ خطرے کی گھنٹی بجی۔
‘اس نے مجھے کال کی اور بتایا کہ وہ شنگھائی میں طبی آلات خریدنے کے لیے گیا تھا۔ اس نے کہا کہ میرا کریڈٹ کارڈ نہیں چل رہا اور اس نے میری مدد مانگی، وہ چاہتا تھا کہ میں اسے تین ہزار یوروز بھیجوں۔‘
اس کے بعد مورات نے کہا کہ وہ یازبل سے ملنے جلد ہی پیرس آئے گا۔
یازبل اس بات پر حیران تھیں کہ ایک معروف سرجن کو پیسے مانگنے پڑ رہے تھے اور انھوں نے اپنی ایک دوست سے اس سلسلے میں بات کی۔
انھیں شک تو پڑا مگر پھر بھی انھوں نے دو سو یورو انٹرنیشنل منی ٹراسفر سے بھیج دیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
‘مجھے نہیں معلوم میں نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے سوچا کہ شاید ترکی میں جاری کیے گئے کریڈٹ کارڈ میں چین پہنچ کر کچھ مسائل آ گئے ہوں۔ اس نے مجھے شکریہ کہا اور اپنی شنگھائی سے پیرس کی ٹکٹ دکھائی۔ وہ وہاں تین دن میں آ رہا تھا۔‘
جب وہ دن آیا تو یازبل ان سے پہلی مرتبہ آمنے سامنے ملنے کے بارے میں بہت خوش تھیں۔ ‘تو میں اس سے ملنے ہوائی اڈے پر چلی گئی۔ اور میں نے انتظار کیا مگر وہ آیا ہی نہیں۔‘
اس دن کے بارے میں بات کرتے ہوئے یازبل ایک لمحہ کو ساکن ہو جاتی ہیں۔
‘میں نے اس سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس نے جواب نہیں دیا۔ پھر کئی دن کی خاموشی تھی۔ مجھے بہت شدید غصہ چڑھا، وہ جواب کیوں نہیں دیتا تھا۔ مگر میں پھر بھی اس سے نرمی سے بات کر رہی تھی، کیونکہ میں چاہتی تھی کہ وہ جواب دے۔ مجھے جواب چاہیے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
اب تک انھیں کیٹ فش ہونے یا آن لائن سکیم کا ہدف بننے کے امکانات تنگ کرنے لگے تھے۔ مگر انھیں تسلیم کرنے میں انھیں مشکل پیش آ رہی تھی۔
‘یہ ناممکن تھا۔ میں نے اسے ویڈیو کالز پر دیکھا تھا، وہ حقیقی تھا۔ میرے دوستوں نے اسے دیکھا ہوا تھا۔ میرے بچوں نے اسے دیکھا ہوا تھا۔ مجھے لگا میرے دماغ میں کوئی مسئلہ ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا۔‘

کچھ دن بعد مورات نے پھر رابطہ کیا مگر اس مرتبہ یازبل اسے بڑی سکرین پر دیکھنا چاتی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنا کمپیوٹر کنیکٹ کر لیا۔
‘اس کی کوالٹی اچھی نہیں تھی تو میں نے سوچا کہ شاید اس کا کنیکشن اچھا نہیں ہے۔ تصویر نشر ہونے میں ڈیلے (تاخیر) بھی ہو رہا تھا۔ جب وہ میرے سے بات کرتا تھا تو مجھے کلک کلک کلک کی آواز آتی تھی۔ میں سکرین کی طرف جھکی اور دیکھا کہ ویڈیو کچھ ٹھہر ٹھہر کر آ رہی تھی۔‘
مگر اس کو کسی ماہر کی رائے چاہیے تھی، تو ایک ویڈیو ایڈیٹر دوست کی انھوں نے مدد لی۔ اس نے انھیں یوٹیوب پر ‘اوباما ڈیپ فیک‘ ویڈیو دیکھنے کو کہا۔
پھر انھیں اپنی کالز کی ویڈیوز اور آن لائن پڑی ان ڈیپ فیک ویڈیوز میں کافی مماثلت نظر آئی۔ آخر کار انھوں نے تسلیم کر ہی لیا کہ انھیں دھوکہ دیا گیا ہے، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ کوئی چھیڑ خانی کی گئی تھی۔
‘مجھے شرم آئی، مجھے اپنا آپ بیوقوف محسوس ہوا۔ میں زیادہ دیر جذباتی نہیں رہتی اور میں کبھی بھی خود کو محبت میں ڈوبنے نہیں دیتی۔ مگر اس دفعہ مجھے لگا کہ کسی نے مجھ سے کچھ چوری کر لیا ہے، کسی نے میرے جذبات کی چوری کی، میری روح اور میرے عزم کا ریپ کیا۔ ہم ایک دوسرے کو خوبصورت پیغامات بھیجتے تھے، مجھے اس پر یقین تھا۔ میں نے اپنے بچے اسے دکھائے تھے۔‘
اپنے غضے میں انھوں نے کوشش کی کہ سکرین کے پیچھے چھپے شخص کو ڈھونڈا جائے مگر وہ اب خاموش ہو چکا تھا۔
یازبل اسے پیغامات بھیجتی رہیں، یہاں تک کہ اسے بات چیت پر راضی کرنے کے لیے مزید پیسوں کی آفر بھی کی۔ آخرکار جب انھیں ایک اور ویڈیو کال ملی تو انھیں پھر وہی کلک کلک کی آواز آ رہی تھی۔
اور اب وقت آ گیا تھا۔۔۔

‘میں نے کہا ‘تم کون ہو؟ میں جانتی ہوں تم مورات نہیں ہو مگر تم ہو کون؟ وہ کچھ دیر خاموش ہوا اور پھر پوچھا کہ میں ایسا کیوں کر رہی ہوں۔ اور پھر اس نے کال کاٹ دی۔‘
‘اور پھر حیران کن طور پر اس نے جواب لکھا اور کہا کہ وہ ڈیوڈ ہے اور نائیجیریا سے تعلق رکھنے والا ایک 20 سالہ ہیکر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
‘میں نے اس سے پوچھا تم یہ سب کیوں کرتے ہو۔ ‘تم نے مجھے اپنی محبت کے چکر میں ڈالا، تم نے مجھ سے پیسے مانگے۔‘ اس نے کہا کہ اس نے کافی لوگوں سے فراڈ کر کے پیسے لیے تھے اور ان کا بہت بڑا نیٹ ورک دنیا بھر میں ہے۔ ہم نے ایک ویڈیو کال بھی کی اور میں نے اسے اپنے ایک دوست کے ساتھ دیکھا۔ اس نے کہا کہ وہ ان جعلی اکاؤنٹس سے امیر ہوا تھا اور وہ ایک فٹبال کا کھلاڑی بننا چاہتا تھا اور کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔‘
ڈیوڈ نے کہا کہ مورات کی شخصیت تو ویسے ہی بنائی گئی تھی، اور اسے اندازہ تھا کہ یازبل کو یہ افسانہ کس قدر پسند آ جائے گا۔
یازبل اندر سے تباہ ہو چکی تھیں مگر وہ اس جعلی شخص سے حقیقی محبت محسوس کرتی تھیں، وہ اسے چھوڑ نہیں سکتی تھیں۔ انھوں نے تہیہ کیا کہ وہ اس اصل مورات کو ڈھونڈیں گی جس کی شناخت ڈیوڈ نے چوری کر کے استعمال کی۔ انھیں ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک فون نمبر ملا تو انھوں نے کال کر دی۔
مزید پڑھیے
ابتدا میں اس ترک سرجن نے یازبل کے پیغامات پر توجہ نہ دی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے نام سے متعدد جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے تھے مگر وہ ان فراڈ سکیموں سے نمٹنا نہیں چاہتے تھے۔
‘میں نے اسے ایک ویڈیو پیغام بھیجا۔ میں نے کہا کہ ‘میں حقیقی ہوں۔ میرے خیال میں آپ کے اکاؤنٹ ہیک ہو چکے ہیں، میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ ہمارے درمیان بہت مماثلت ہے۔ میں چاہوں گی کہ آپ سے ملوں اور میرے پاس جو شواہد ہیں وہ آپ کو دوں۔‘
یازبل نے مورات کو بتایا کہ وہ استنبول کا دورہ کرنے والی ہیں۔ مورات نے آخرکار ان سے ملاقات کی حامی بھر لی تو یازبل نے فوراً ترکی کی ٹکٹ بک کروا لی۔

،تصویر کا ذریعہYZABEL DZISKY
وہ یاد کرتی ہیں کہ ‘باسفورس انتہائی خوبصورت، اور شاندار تھا۔ لیکن میں بہت تنہا محسوس کر رہی تھی۔‘
مگر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ سرجن کسی اجنبی سے ملنے سے کترا رہے تھے۔
‘تو میں ہسپتال چلی گئی۔ یہ میرے لیے انتہائی مشکل تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں کئی ماہ سے اس سے بات کر رہی تھی۔ جب دروازہ کھلا تو ان کی سیکریٹری نے کہا وہ اندر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ اور بس وہیں، اسی لمحے، میں نے اسے پہلی مرتبہ اصل میں انھیں دیکھا۔ وہ حقیقی تھا۔‘
‘ان کو نہیں معلوم تھا کہ میں ان سے محبت کرتی تھیں مگر انھوں نے پھر بھی مجھے خوش آمدید کہا۔ میں نے کوشش کی کہ یہاں ڈرامہ نہ بنے۔ میں نے کوشش کی میں اپنے جذبات ظاہر نہ ہونے دوں مگر میرا دل تھا۔۔۔ میں خود کو یہ ہی کہتی رہی کہ یہ اصل نہیں ہے، یہ وہ نہیں ہے۔‘
‘پھر میں نے اسے اپنے کاغذات دکھائے، وہ سکرین شاٹ جن میں میں ہیکر سے بات چیت کر رہے تھے تاکہ وہ پولیس کو دے سکیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے مریضوں کو اور انتظار نہیں کروانا چاہتا اس لیے انھوں نے فیصلہ کیا کہ شام کو کھانے پر ملیں۔‘
یازبل کا کہنا ہے کہ انھوں نے خوبصورت رات گزاری اور یہ بات کرتے رہے کہ کیا ہوا تھا۔
انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس بارے میں ایک فیچر فلم بنائے گے اور انھوں نے ترکی میں کچھ اداکارؤں اور ہدایتکاروں سے رابطے کیے۔
یازبل کئی مرتبہ پھر استنبول گئیں اور متعدد بار اس سرجن سے ملیں۔
‘ہم کچھ عرصہ تو رابطے میں رہے مگر پھر وہ وقت کے ساتھ ختم ہو گیا۔ مگر وہ انتہائی خوبصورت تھا۔ انھیں کئی جعلی اکاؤنٹس اور فراڈ کی کہانیوں کا سامنا تھا۔ وہ اس سے تنگ آ چکے تھے۔‘

بی بی سی نے ترکی میں اس سرجن سے رابطہ کیا مگر انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم انھوں نے تنبیہ کی ان کے نام سے کئی جعلی اکاؤنٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ لوگوں نے ان سے ایسی ہی کہانیوں سے ساتھ رابطہ کیا تھا۔
اس حوالے سے ترکی میں پولیس رپورٹس کی جا چکی ہیں تاہم اس ملک میں ایسے سائبر جرم کی پیروی کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ شواہد کم ہی ہوتے ہیں اور بیرونِ ملک ان جعلی اکاؤنٹس کے ذرائع کے بارے میں معلومات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
یازبل کا دل ٹوٹ چکا تھا مگر ان کا ایسے لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو کہ کیٹ فش ہوتے ہیں یا ڈیپ فیک کے جھانسے میں آتے ہیں۔
‘ہمیں واپس لڑنا ہے۔ ہمیں ان خیالی عاشقوں کو پکڑنا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں شرم آتی ہے اس لیے ہم اس کے بارے میں بات چیت نہیں کرتے۔‘
٭٭سرجن کا اصل نام مورات نہیں ہے اور یہ فرضی نام اس کی درخواست پر رکھا گیا ہے۔













