سیکنڈ وائف ڈاٹ کام: مسلمانوں کے لیے دوسری بیوی تلاش کرنے سے متعلق ڈیٹنگ ویب سائٹ کو پاکستان میں تنقید کا سامنا

،تصویر کا ذریعہSecondwife.com
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
ایسی بے شمار ویب سائٹس اور موبائل ایپلیکیشنز موجود ہیں جن کے ذریعے مرد اور خواتین بات چیت اور ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کو 'ڈیٹنگ سائٹس یا ایپس' کہا جاتا ہے اور ان کے استعمال کرنے والے اگر چاہیں تو آپس میں شادی بھی کر سکتے ہیں۔
برطانوی نژاد پاکستانی شہری آزاد چائے والا نے آج سے چار سال قبل ایسی ہی ایک ویب سائٹ کا آغاز کیا اور اس کا نام انھوں نے ’سیکنڈ وائف ڈاٹ کام‘ رکھا یعنی دوسری بیوی ڈاٹ کام۔
اپنے منفرد نام کی وجہ سے توجہ کا مرکز بننے والی ویب سائٹ اور اس کے تخلیق کرنے والے آزاد چائے والا کو اس ویب سائٹ کے جواز پر برطانیہ میں بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور حال ہی میں پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی وہ زیرِ بحث ہیں۔ تاہم اُنھوں نے حال ہی میں اس کی موبائل ایپلیکیشن بھی تیار کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر انھوں نے یہ ویب سائٹ برطانیہ اور مغربی ممالک میں بسنے والے ’مسلمان مردوں کے لیے تیار کی تھی تاکہ وہ حلال طریقے سے اپنی خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے خیال میں ’اسلام مردوں کو ایک سے زیادہ یعنی ایک وقت میں چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور سنت کے اس طریقے کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔‘
آزاد چائے والا کا کہنا تھا کہ انھوں نے زندگی مغربی ممالک میں گزاری ہے اور انھوں نے دیکھا ہے کہ وہاں ’مردوں اور عورتوں کو ڈیٹنگ اور جنسی تعلقات قائم کرنے کی آزادی ہے تاہم مسلمان مرد ایسا نہیں کر سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Azadchaiwala
ان کے مطابق ’اس کا شرعی حل اور حلال طریقہ یہ تھا کہ انھیں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا حق حاصل ہے اور سیکنڈ وائف ڈاٹ کام انھیں موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ گناہ کے راستے سے بچتے ہوئے دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کر سکتے ہیں۔‘
ساتھ ہی ان کے مطابق بہت سی ایسی مسلمان خواتین ہیں جو طلاق یافتہ یا بیوہ ہیں لیکن وہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے دوسری شادی نہیں کر پاتیں یا انھیں اپنے لیے ساتھی ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ان کی ویب سائٹ ایسی خواتین کو بھی مواقع فراہم کرتی ہے۔
آزاد چائے والا کا دعوٰی ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ مرد و خواتین کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مغربی ممالک خصوصاً برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات وغیرہ سے ہے۔
پاکستان سے ان کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 2300 کے قریب ہے۔ آزاد چائے والا کے مطابق پاکستان سے تعداد کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ان کی ویب سائیٹ کی توجہ کا محور نہیں تھا۔
تاہم سوشل میڈیا پر ان کی ویب سائٹ کو خاص طور پر خواتین کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
’ایک سے زیادہ شادیاں مرد کا حق نہیں‘
عذرا پٹھان نامی صارف نے فیس بک پر ایک سٹارٹ اپ پاکستان نامی پیج پر شائع ہونے والی سیکنڈ وائف ڈاٹ کام کی سٹوری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مرد پہلی بیوی کی بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک اور کرنا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
ان کے خیال میں ’زیادہ تر پہلی بیوی خاندان کی مالی ضروریات پوری کر رہی ہوتی ہے۔ آپ ان کے ساتھ کیسے برابری کا سلوک کر سکتے ہیں۔ صرف لیگل سیکس کا جواز دیا جا رہا ہے۔‘
عنبرین رب نے سوالیہ انداز میں طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں فرض کر رہی ہوں پاکستان میں مرد (سنت پر عمل کرتے ہوئے) اس ویب سائٹ پر صرف ایسی عورتوں سے شادی کرنے کے لیے آ رہے ہوں گے جو بیوہ یا ان سے عمر میں بڑی اور غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ ہیں یا وہ عورتیں ہیں جنھیں ان کے ماضی کی وجہ سے کوئی نہیں اپناتا یا وہ عورتیں جنھیں واقعتاً مرد کے سہارے کی ضرورت ہے۔ درست؟‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
نصیر محمد نے زیادہ تفصیل میں اس نکتے پر تبصرہ کیا۔ ان کے خیال میں اسلام میں ایک سے زیادہ شادیاں مرد کا حق نہیں ہے، نا ہی یہ چوائس ہے۔
اُن کے مطابق ’یہ صرف ایک آپشن ہے جو انتہائی ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم مرد غلط وجوہات کے لیے اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ پہلی بیوی کو بلیک میل کرنے کے لیے، پہلی بیوی پر حاکمیت جتانے کے لیے، ہوس، مزے کے لیے۔‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
یہ ویب سائٹ کیسے کام کرتی ہے؟
آزاد چائے والا کے مطابق ان کی ویب سائٹ پر آنے والے کو خود کو اس پر رجسٹر کرنا ہوتا ہے جو کہ مفت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد صارف اپنی حقیقی تصویریں اس پر ڈالتا ہے اور ان کی ٹیم ان تصویروں کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتی ہے۔
تصویروں کی تصدیق ہو جانے کے بعد ہی وہ صارف ویب سائٹ پر اپنے لیے ساتھی تلاش کر سکتا ہے۔ اگر انھیں کوئی ساتھی مل جاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔
تاہم رابطہ قائم کرنے اور ملاقات کے لیے انھیں ویب سائٹ کی پریمیم خصوصیت تک رسائی حاصل کرنا ہوگی جس کے لیے 20 ڈالر ماہانہ کی سبسکرپشن لینا ضروری ہے۔ پاکستان سے رجسٹرڈ صارفین میں سے پریمیم فیچر استعمال کرنے والوں کی تعداد 33 ہے۔

،تصویر کا ذریعہSecondwife.com
کیا یہ بھی صرف ایک ڈیٹنگ ایپ ہے؟
آزاد چائے والا کے مطابق اس طرح ’اپنے لیے موزوں ساتھی تلاش کرنے اور اس سے ملاقات کرنے کے بعد مرد یا خاتون آپس میں شادی کر سکتے ہیں۔ تاہم انھیں یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ ان کی ویب سائٹ استعمال کرنے والے صارفین شادی کرتے ہیں یا نہیں؟‘
آزاد چائے والا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ویب سائٹ پر رجسٹرڈ صارفین شادی کرتے ہیں یا بات صرف ملاقات تک ہی رہتی ہے۔
اگر ایسا ہے تو ان کی ویب سائٹ بھی ایک ڈیٹنگ ایپ ہی ہے یا انٹرنیٹ پر موجود لاتعداد دیگر ڈیٹنگ ایپس سے کیسے مخلتف ہے؟ آزاد چائے والا کا کہنا ہے کہ ’اس کی ذمہ داری تو ویب سائٹ پر آنے والے صارف کی ہے کہ وہ اس کا استعمال شادی ہی کے لیے کرے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ ’ایک سے زیادہ شادی کرنے والے افراد کو موقع اور سہولت فراہم کر رہے ہیں‘ اور انھیں لگتا ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر ’آنے والے اسی نیت سے آتے ہیں۔‘
تاہم سوشل میڈیا پر ان کی اس ویب سائٹ اور ایپ پر تنقید کرنے والے چند صارفین کا خیال ہے کہ یہ ویب سائٹ واقعتاً ایک ڈیٹنگ ایپ ہے اور محض پیسہ کمانے کا ایک طریقہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’پیسہ کمانا ہو تو ڈیٹنگ ایپ شروع کر دیں‘
مدثر حسین نامی صارف کے خیال میں ’وہ صرف ایک ڈیٹنگ پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں۔‘ نصیر امیر کہتے ہیں ’ایک اور برینڈ آ گیا مارکیٹ میں۔‘
راؤ عاصم سردار نے لکھا کہ ’ٹنڈر (ڈیٹنگ ایپ) کیا بند ہوا، کچھ بھی شروع کر رہے ہیں۔‘
ساجدہ شاہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ صرف ایک ٹرینڈ ہے، انھیں معلوم ہے کہ یہ موضوع پاکستان میں حساس ہے اور منافع کمانے کا بزنس بھی۔ آپ نے زیادہ پیسہ کمانا ہو تو یہ ٹرینڈ شروع کریں اور ڈیٹنگ ایپ شروع کر دیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ کوئی اس پر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی نہیں کرے گا، وہ صرف اس ویب سائٹ کا مزہ لیں گے۔ اگر کسی کو دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی کی تلاش ہو گی تو وہ اس طرح ڈیجیٹل غلامی نہیں کرے گا، ویسے ہی ڈھونڈ کر شادی کر لے گا۔'
بعض صارفین کے خیال میں یہ ویب سائٹ مردوں کو ان کی بیویوں کو دھوکہ دینے اور خفیہ طور پر شادی کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے جو کہ اخلاقاً اور قانونی طور پر جائز نہیں ہونا چاہیے۔
’جس کو زیادہ مسئلہ ہے وہ طلاق لے‘
سیکنڈ وائف ڈاٹ کام پر یہ انتباہ موجود ہے کہ قانونی طور پر ایک سے زیادہ شادیاں زیادہ تر ممالک میں جرم تصور کی جاتی ہیں۔ اس کے مطابق ’ہم سختی سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر ایک سے زائد شادیوں اور شادی کی تقریبات کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
آزاد چائے والا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلامی طور پر کسی مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
ان کے خیال میں ’یہ سنت ہے اور کسی خاتون کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو زیادہ مسئلہ ہے تو وہ طلاق لے لے۔ مگر یہ ہر مسلمان مرد کا حق ہے کہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرے اور اس سے اس کو نہیں روکا جا سکتا۔‘
واضح رہے کہ اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر میں اس حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔
’ایک بیوی اور چار بچے تو سنبھالے نہیں جاتے‘
تاہم سوشل میڈیا پر چند صارفین خواتین کا خیال تھا کہ پاکستان میں مردوں کے لیے ایک بیوی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنا ہی مشکل ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
پشمینہ علی نامی ایک صارف نے فیس بک پر اس ویب سائٹ کے بارے میں ہونے والی بحث کے دوران لکھا کہ ’ایک بیوی اور چار بچے تو سنبھالے نہیں جاتے، چلیں ہیں چار شادیاں کرنے۔ پریکٹسنگ مسلم؟ واقعی؟
’مجھے ایک ایسے مرد کی مثال دیں جو اپنی تمام بیویوں اور بچوں کے حقوق برابری سے پورا کر رہا ہو۔‘
محمد رضا منور نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں دوسری یا تیسری شادی کے اخراجات برداشت کرنا کیسے ممکن ہے۔
’آپ اپنی گھریلو ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ یہ اچھی چیز ہے اگر آپ کے پاس وسائل ہیں لیکن پاکستان میں 80 فیصد سے زیادہ افراد کی زندگی ’تبدیلی حکومت‘ میں زیادہ اچھی نہیں گزر رہی۔‘

،تصویر کا ذریعہfacebook
آزاد چائے والا کے خیال میں وہ کسی کو مجبور نہیں کر رہے کہ وہ لازماً دوسری شادی کرے۔ ان کے مطابق سیکنڈ وائف ڈاٹ کام کے ذریعے وہ صرف ان افراد کو موقع فراہم کر رہے ہیں جو ایسا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے شرائط پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کام خیراتی طور پر نہیں کر رہے اور یہ ان کے لیے کاروبار ہے جس سے وہ پیسہ کماتے ہیں۔ آزاد چائے والا نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس چھ لاکھ کے قریب رجسٹریشن کے لیے درخواستیں تاحال موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سیکنڈ وائف ڈاٹ کام کی موبائل ایپلیکیشن وائرل ہوئی اور اس کے بعد وہ پاکستان میں بھی اس کی رجسٹریشن بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔













