ابو ابراہیم الہاشمی القریشی: دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کی ہلاکت امریکہ کے لیے کتنی اہم ہے؟

شام

،تصویر کا ذریعہEPA

امریکہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق شمال مغربی شام میں امریکی سپیشل فورسز کی ایک کارروائی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش کے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ایک بیان میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ’ہماری مسلح افواج کی مہارت اور بہادری کی بدولت ہم نے ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو میدان جنگ میں نشانہ بنایا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ آپریشن میں شامل تمام افراد امریکہ بحفاظت واپس آ گئے تھے۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ابو ابراہیم القریشی نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شامی سول ڈیفنس کے طور پر جانے جانے والے وائٹ ہیلمٹس کے مطابق ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے تین بج کر 15 منٹ پر عمارت میں داخل ہوئے جس میں 13 افراد کی لاشیں بھی شامل تھیں جن میں چھ بچے اور چار خواتین بھی شامل تھیں۔

اس تنظیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے ایک زخمی لڑکی سمیت ایک شخص کو بھی بچایا اور انھیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال پہنچایا۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کو برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے متعدد امریکی ہیلی کاپٹر اس علاقے میں اترے، جو شمالی صوبہ ادلب میں ہے اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ فوجیوں کو وہاں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ان پر گاڑیوں پر نصب بھاری طیارہ شکن بندوقوں سے فائرنگ کی گئی۔

ہیلی کاپٹروں کے جانے سے قبل دو گھنٹے تک گولہ باری کی آوازیں سنی گئیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چھاپہ شمال مغربی شام میں امریکی سپیشل فورسز کی سب سے بڑی کارروائی ہے جبکہ قریشی کے پیش رو ابوبکر البغدادی اکتوبر سنہ 2019 میں عطمہ سے صرف 16 کلومیٹر دور ایک ٹھکانے پر چھاپے میں مارے گئے تھے۔

یہ خطہ جہادی گروپوں اور ترکی کے حمایت یافتہ باغی دھڑوں کا گڑھ ہے جو آئی ایس کے سخت حریف ہیں۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ 'ہم فی الحال اس آپریشن کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں، ابتدائی طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ویسا ہی عمل دہرایا گیا ہے جو ہم نے سنہ 2019 کے آپریشن کے دوران دیکھا تھا جس میں بغدادی کو ہلاک کیا گیا تھا۔‘

مقامی ذرائع کے مطابق امریکی فوجیوں کو سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں گاڑیوں پر نصب بھاری طیارہ شکن اسلحے کی مدد سے نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران ہیلی کاپٹروں کی واپسی سے دو گھنٹے پہلے تک گولیوں اور شیلنگ کی آواز سنائی دیتی رہی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر کو تکنیکی خرابی کے باعث وہیں چھوڑ کر آنا پڑا اور بعد میں ایک امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں اسے تباہ کر دیا گیا۔ اس کے ملبے کی تصاویر بھی آن لائن پوسٹ کی گئی تھیں۔

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں جتنے بھی امریکی شریک تھے وہ تمام آپریشن کے بعد بحفاظت واپس آ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ آپریشن 'امریکی عوام، اس کے اتحادیوں اور دنیا بھر کے لیے ایک محفوظ جگہ بنا دے گا۔'

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار نے اس دو منزلہ گھر جو بظاہر اس حملے کا نشانہ بنے تھے، کا دورہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا جائزہ لینے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ دیواروں پر خون کے دھبے بھی ہیں، کھڑکیوں کے فریم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، چھت پر گولیوں کے نشانات ہیں اور اس کا کچھ حصہ منہدم بھی ہو چکا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ابو ابراہیم کی ہلاکت امریکہ کے لیے کتنی اہم؟

سکیورٹی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار گورڈن کوریرا کے مطابق ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی فوج کی سپیشل فورسز کو بھیجا جانا ہی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکام کے لیے ان کی اہمیت کیا تھی۔

ان کے مطابق گذشتہ برسوں میں دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کے رہنماؤں کو اکثر ڈرون سے داغے گئے میزائلوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

زمینی فوج کو بھیجنا کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور یہ یا تو ’انتہائی اہم‘ اہداف کے لیے مخصوص ہے یا پھر اس صورت میں جب حالات پیچیدہ ہوں۔ سپیشل فورسز کے ایسے آپریشنز کی ماضی قریب میں سب سے بڑی مثال 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی کارروائی ہے۔

اس قسم کی کارروائی بسا اوقات اس وقت بھی کی جاتی ہے جب امریکی حکام کسی فرد کو زندہ پکڑنا چاہتے ہوں یا پھر اس کی قیام گاہ سے انھیں معلومات کے حصول کی امید ہو۔

اس تازہ ترین کارروائی میں بھی خطرات تھے جس کی مثال ایک ہیلی کاپٹر کو تباہ کیا جانا ہے تاہم کارروائی میں کسی امریکی فوجی کو کوئی نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ہے۔

ابو ابراہیم کا مکان

،تصویر کا ذریعہEPA

امریکی سپیشل فورسز کے ایک آپریشن میں ہی دولتِ اسلامیہ کے بانی اور سابق سربراہ ابوبکر البغدادی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ وہ اکتوبر 2019 میں اس وقت مارے گئے تھے جب انھوں نے شام میں امریکی فوجیوں کے گھیرے میں آنے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

ان کی جگہ لینے والے ابو ابراہیم کی ہلاکت بھی ایسے ہی حالات میں ہوئی ہے۔

ابو ابراہیم القریشی کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں۔ وہ اپنے ان پیشرو جیسا مقام نہیں رکھتے تھے جنھوں نے خلافت کا اعلان کیا تھا بلکہ وہ نظروں سے اوجھل رہنے پر زیادہ یقین رکھتے تھے۔

گورڈن کوریرا کے مطابق کہا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں عراق میں صدام حسین کی فوج میں افسر رہ چکے تھے اور 2003 میں انھوں نے امریکی افواج کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی اور دولتِ اسلامیہ سے قبل وہ القاعدہ کے رکن تھے۔

امریکہ نے ماضی میں القریشی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر یہ کہتے ہوئے انعام مقرر کیا تھا کہ ’وہ دولتِ اسلامیہ کی پیشرو جماعت القاعدہ فی العراق کے ایک سینیئر دہشت گرد ہیں جنھوں نے اس تنظیم کی صفوں میں تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کے نائب سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔‘

امریکہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ابو ابراہیم القریشی دولتِ اسلامیہ کے سب سے سینیئر نظریاتی رہنما ہیں جنھوں نے شمال مغربی عراق کی یزیدی اقلیت کے اغوا، قتل اور خریدوفروخت کی توجیہ پیش کرنے میں مدد کی اور تنظیم کی عالمی دہشت گردی کی کچھ کارروائیوں کی قیادت بھی کی۔

دولتِ اسلامیہ کا اثر اب عراق اور شام کے ان زیادہ تر علاقوں پر نہیں جن پر وہ اپنے عروج کے دنوں میں راج کیا کرتی تھی اور نہ ہی اب جہادی اس کی صفوں میں ویسے شامل ہو رہے ہیں جیسا کہ ماضی میں ہوا تھا اور نہ ہی وہ 2015 کے پیرس حملوں جیسے کوئی حملے کر سکی ہے۔

گذشتہ برس افغانستان میں اس تنظیم کی شاخ نے اس وقت عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی جب امریکی انخلا کے موقع پر کابل میں اس نے ایک مہلک حملہ کیا تھا۔

تاہم حالیہ مہینوں میں انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین یہ خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ عراق اور شام میں دوبارہ قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے اور اپنی طاقت میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس کی مثال گذشتہ ماہ شمال مشرقی شام میں جیل پر حملے کے علاوہ تنظیم کے پروپیگینڈے میں اضافے کی صورت میں دی جاتی ہے۔

امریکہ اب پرامید ہو گا کہ القریشی کی ہلاکت اس عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہو گی۔

گورڈن کوریرا کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دولتِ اسلامیہ اور اس جیسے گروہ عموماً اپنا نیا سربراہ جلد مقرر کر لیتے ہیں لیکن امید یہ ہے کہ اس نئے سربراہ کی جانب سے نشانہ بننے سے بچنے کی کوشش اس گروپ کے لیے منظم ہونے اور حملے کرنے کا عمل مشکل بنا سکتی ہے۔